BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 16 February, 2004, 15:49 GMT 20:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سردارآصف پیپلز پارٹی میں شامل

آصف احمد علی پیپلز پارٹی میں شامل
آصف احمد علی پیپلز پارٹی میں شامل
سابق وزیر مملکت براۓ خارجہ امور اور مسلم لیگ کے رہنما سردار آصف احمد علی نےسوموار کے روز لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کا اعلان کردیا ہے۔

آصف احمد علی نے پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرین کے چئیرمین مخدوم امین فہیم کے ہمراہ لاہورمیں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور کہا کہ وہ اپنے خاندان قریبی ساتھیوں اور دوستوں کی طرف سے پیپلز پارٹی کو مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہیں۔

پیپلز پارٹی نے سردار آصف احمد علی کی پارٹی میں شمولیت کا پرتپاک استقبال کیا ہے اور پارٹی کے تمام اہم مرکزی رہنماسوموار کو ان کی پریس کانفرنس میں شامل ہوۓ جس میں پارٹی کے سندھ سے تعلق رکھنے والے رہنما خورشید شاہ، قائم علی شاہ اور شعبان میرانی بھی شامل تھے۔

قصور سے پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی چودھری منظور کو بھی منا کر پریس کانفرنس میں لایا گیا کیونکہ وہ سردار آصف کے مقامی حریف رہے ہیں۔

پریس کانفرنس میں سردار آصف احمد علی نے کہا کہ وہ کسی عہدے کے طلب گار نہیں نہ انہیں پارٹی کے ٹکٹ یا کابینہ سے دلچسپی ہے بلکہ وہ ملک کے مفاد کے لیے پارٹی میں شریک ہورہے ہیں۔

آصف احمد علی مسلم لیگ(جونیجو) کے سینیر نائب صدر تھے جو اب حکمران جماعت مسلم لیگ(ق) میں ضم ہوچکی ہے۔ انھوں نے اپنی سابقہ پارٹی کے صدر حامد ناصر چٹھ کے کے بارے میں کہا کہ ان کی چٹھ سے کوئی ناراضگی نہیں ہے بلکہ ان کا پارٹی کی پالیسیوں سے اختلاف تھا اس لیے وہ پچھلے ڈیڑھ سال سے خاموش تھے۔

انھوں نے کہا کہ انھوں نے چند ماہ پہلے بے نطیر بھٹو سے ملاقات کی تھی جس میں علاقائی تناظر اور ریاستی معاملات پر بات ہوئی تھی۔

انھوں نے کہا کہ وہ سیاست سے ریٹائر ہوکر شاعری اور مصوری کرنا چاہتے تھے لیکن پیپلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو نے انھیں پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کے لیے کہا۔

سردار آصف احمد علی کا کہنا تھا کہ ملک تیزی سےد نیا میں تنہا ہورہا ہے اور اس کی سلامتی پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ جس طرح قومی ہیرو کو ٹی وی پر پیش کیا گیا اس سے ان کی تذلیل کی گئی۔

انھوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ صدر بش کے ساتھ جنرل مشرف کے تعلقات عارضی طور پر پاکستان کو بچالیں لیکن حالات اس طرف لے جاۓ جارہے ہیں کہ سائنسدان امریکہ کے حوالے کرنا پڑیں اور پاکستان ا ایٹمی پروگرام بند کرنا پڑے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں پیپلز پارٹی کو مضبوط بنا کر ملک کا مستقبل اور ایٹمی پروگرام محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد