BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 December, 2004, 00:19 GMT 05:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نیا کھیل پرانےکھلاڑی

News image
وردی ایک حقیقت۔
ایک بار پھر ایک فوجی رہنما پاکستان کا قانونی اور آئینی صدر بن گیا ہے۔

فوجی بغاوت کے نتیجے میں اقتدار پر قبضہ کر کے سن دو ہزار ایک میں جنرل پرویز مشرف نے خود کو ملک کے صدر کے عہدے پر فائض کر لیا تھا۔لیکن ان کی پوزیشن قانونی اور آئینی پیچیدگیوں کا شکار رہی ہے اور اب سینیٹ کے چئیرمین محمد میاں سومرو کی طرف سے متعلقہ بل منظور کئے جانے کے بعد تمام دشواریاں ختم ہوگئی ہیں۔

اگرچہ محمد میاں سومرو نے اس بل پر دستخط جنرل پرویز مشرف کی ملک سے غیر حاضری کے دوران کئے ہیں لیکن بہت ہی کم لوگوں کو اس بات میں شک ہوگا کہ انہوں نے ایسا جنرل مشرف کی مرضی کے بغیر کیا ہوگا۔

News image
کیا مذہبی جماعتوں کے ساتھ فوج کا روایتی رشتہ اب قائم رہ سکے گا۔

پاکستانی سیاست میں یہ نئی پیش رفت کوئی حیران کن بات نہیں کیونکہ ستمبر کے مہینے میں اس وقت سے جب جنرل مشرف نے ایسے اشارے دئے تھے کہ وہ آرمی چیف کے عہدے سے دسمبر کے آخر تک استعفٰی نہیں دیں گے، یہی خیال کیا جارہا تھا کہ ایسا بل منظور ہو جائے گا۔

شائد عالمی سطح پر جاری دہشت گردی کے خلاف تحریک کے پس منظر میں ، جنرل مشرف بین الاقوامی برادری پر پاکستانی سیاست کی یہ حقیقت واضح کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں کہ سیاسی ڈھانچہ خواہ کوئی بھی ہو اس ملک میں طاقت کا اصل منبع فوج کا ادارہ ہے۔

پاکستان میں سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر مغربی ممالک کو یہ جان کر خوشی ہی ہوگی کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کا ایک بنیادی اتحادی اقتدار میں ہے۔

لیکن جنرل مشرف کے خلاف پاکستان کے مذہبی حلقوں میں مخالفت ضرور موجود ہے۔ آخر انہیں یہ وعدہ کرنے پر بھی چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد نے ہی مجبور کیا تھا کہ وہ اس سال کے آحر تک آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دیں گے۔

ان مذہبی جماعتوں کے ووٹر امریکہ کے سخت خلاف ہیں اور جنرل مشرف کو امریکہ کا ’ایجنٹ‘ سمجھتے ہیں۔ لیکن ایم ایم اے کی مشرف مخالف تحریک کی کامیابی کی امیدوں پر حال میں ہونے والی کچھ سیاسی تبدیلیوں سے خاصا اثر پڑا ہے۔

پیپلز پارٹی کی رہنما بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف زرداری کی رہائی کے بعد سے ملک میں ایسی افواہیں گردش کررہی ہیں کہ شائد سیکولر سیاسی جماعتوں اور آرمی کے درمیان کوئی سمجھوتہ ممکن ہوجائے۔

لیکن ایسے کسی بھی ممکنہ سمجھوتے سے مذہبی حلقوں کو نقصان پہنچےگا۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے جنرل مشرف کی حمایت کی صورت میں تو ایم ایم اے کے اندر پھوٹ کا اندیشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایم ایم اے کی جماعتوں نے تاریخی طور پر صرف اس وقت ہی ترقی کی ہے جب جب انہوں نے فوج کی ضروریات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالا ہے۔ مثال کے طور پر افغانستان میں طالبان کی حمایت کے وقت یا پھر جب پاکستان کی فوج کو کشمیر میں انڈیا پر دباؤ بڑھانا ہو۔

ایم ایم اے میں موجود سب سے بڑی جماعت جمیعت علمائے اسلام نے ماضی میں سیکولر جماعتوں کے ساتھ کام کیا ہے۔ اور مسٹر زرداری تو جمعیت کے رہنما مولانا فضل الرحمٰن کو ایک ’قریبی اور ذاتی دوست‘ بھی بتاتے ہیں۔ پاکستان میں بہت سے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ مسٹر زرداری شائد ایم ایم اے کو اس بات پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہوجائیں کہ وہ جنرل مشرف کی وردی اتروانے کا مطالبہ چھوڑ دیں۔

لیکن اگر ایم ایم اے نے ایسا کرنے سے انکار کردیا تو شائد مسٹر زرداری کو اتحاد میں پھوٹ ڈالنے کے لئے اور زیادہ کوشش کرنا ہوگی۔

لیکن اس سب کے بیچ ایک بات واضح ہے کہ اگر کسی کو اپنا حلیہ بدلنا پڑ رہا ہے تو وہ ہیں سیاسی قوتیں۔ جہاں تک جنرل مشرف کی وردی کا سوال ہے وہ اب پاکستان کی ایک آئینی اور قانونی حقیقت ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد