لاہور میں ایم ایم اے کا جلسہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمد نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ہر صورت ایم ایم اے کے انیس دسمبر کے جلسے میں پہنچیں کیونکہ اسی روز صدر مشرف کے خلاف آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جاۓ گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف یاد رکھیں کہ اب ہم یا تو اپنے رب کی طرف جائیں گے یا پھر ایک شاندار اسلامی انقلاب کی طرف جایا جائے گا اور اس انقلاب کے آنے تک جدو جہد جاری رہے گی۔ وہ لاہور کے مینار پاکستان میں ہونے والے جلسہ عام سے خطاب کر ر ہے تھے۔ جلسہ سے مولانا فضل الرحمان سمیت ایم ایم اے کے دیگر قائدین نے بھی خطاب کیا جبکہ اے آر ڈی کی مقامی قیادت نے بھی جلسے میں بطور خاص شرکت کی۔جلسہ عام میں پاکستانی وقت کے مطابق دو بجے سے ہی لوگوں نے آنا شروع کر دیا تھا۔ پنڈال میں چھ ہزار کرسیاں بچھائی گئی تھیں جو تین بجے تک بھر چکی تھیں جس کے بعد پنڈال کے اردگرد لگے بعض خیمے گرا دیے گئے اور لوگ کھڑے ہوکر تقریریں سنتے رہے۔ جلسہ میں حکومت ، صدر مشرف اور امریکہ خلاف نعرے بازی کی گئی اور صدر مشرف کی وردی اتارے جانے کے بارے میں ترنم سے نظمیں پڑھی گئیں۔ یہ جلسہ رات سوا آٹھ بجے ختم ہوگیا اور شرکاء پر امن طور پر منتشر ہوگئے۔ قبل ازیں جلسے سے خطاب کرتے ہوۓ قاضی حسین احمد نے کہا کہ’ مش اور بش دوست ہیں‘ انہوں نے کہاکہ ’انہیں صدر مشرف کی امریکہ نواز پالیسیوں سے نفرت ہے اور صدر مشرف کا امریکہ کا اتحادی ہونا ان کے لیے ایک چیلنج ہے۔‘ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ صدر مشرف کی امریکہ نواز پالیسیوں کا عوام سے کوئی تعلق نہیں ہے انہوں نے کہا کہ صدر مشرف کو ہر صورت اکتیس دسمبر تک وردی اتارنے کے اپنے وعدے کو پورا کرنا ہوگا ورنہ ان سے زبردستی دونوں عہدے خالی کرا لیے جائیں گے۔ حافظ حسین احمد ، لیاقت بلوچ ، ساجد نقوی ، پیر اعجاز ہاشمی اور دیگر مقررین نے بھی صدر مشرف کی وردی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوۓ ان سے فوری طور پر ایک عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔ مقررین نے متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کے حالیہ بیانات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ حکومتی ایما پر قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کے خلاف بیانات جاری کر رہے ہیں۔انہوں نے الطاف حسین کے بیانات کو نظریہ پاکستان کے خلاف قرار دیا۔ مسلم لیگ نواز پنجاب کے صدر سردار ذوالفقار علی کھوسہ نے ایم ایم اے کو بیس دسمبر کو سیالکوٹ میں ہونے والے اے آر ڈی کے جلسے میں شرکت کی دعوت دی جبکہ پیپلز پارٹی لاہور کے صدر حاجی عزیز الرحمان چن نے کہا کہ ملک سے فوجی آمریت کے خاتمے تک ایم ایم اے کا ساتھ دیا جاۓ گا۔ جلسے میں ملک کے تعلیمی بورڈوں کو سر آغا خان ٹرسٹ کے حوالےکیے جانے کے حکومتی منصوبے کی شدید مخالفت کی گئی۔ اسلامی جمیعت طلبہ کے درجنوں کارکن کالی عبائیں پہن کر پنڈال میں موجود رہے ان پر لکھا تھا کہ نامنظور نامنظور آغا خان بورڈ نامنظور۔ جلسے میں منظور کردہ قراردادوں میں صدر مشرف کے کشمیر تقسیم کی تجاویز کو مسترد کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ بحال کیا جاۓ۔ قراردادوں میں صدر مشرف کے پردے کے بارے میں بیانات کی مذمت کی گئی اور حکومت پاکستان میں کروڑ پتی لاٹری کو جوا ء قرار دیتے ہوۓ اسے تعزیرات پاکستان اور شریعت اسلامی کے خلاف قرار دیا گیا ۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||