’سیاسی ہانڈی چڑھی ہوئی ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے امریکی صدر اور برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کے ساتھ ’دہشت گردی‘ کے خلاف جنگ میں ’نئے طریقہ کار‘ اپنانے کے بارے میں تفصیلی بات چیت کی ہے۔ یہ بات انہوں نے جمعہ کی شام پریس کانفرنس سے خطاب کے وقت جاری کردہ تحریری بیان میں کہی۔ ان کے مطابق صدر نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ فلسطین اور کشمیر سمیت مسلمان ممالک میں جو بھی سیاسی تنازعات ہیں وہ حل کرائیں تاکہ انتہا پسندی اور شدت پسندی کو روکا جاسکے۔ انہوں نے اس موقع پر صدر کے دورے کو ہر لحاظ سے کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر نے چوالیس ہزار کلومیٹر سفر کیا اور سات ممالک کے صدور سے دو طرفہ تعاون وسیع کرنے کے بارے میں بات چیت کی۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذا کرات سے متعلق سوال پر وزیر نے کہا کہ ابھی مایوسی کی سطح نہیں آئی بلکہ دونوں ممالک مثبت نتائج کے لیے پرامید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن کے لیے دنیا کی دلچسپی بڑھ رہی ہے اور بھارت کو دو طرفہ بنیاد پر مسائل حل کرنے کا موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ ہندوستان کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ بھارت کے اتحادی خود کہتے ہیں کہ اسے’ویٹو پاور‘ نہیں دیا جائے۔ پاکستان کو امریکی دفاعی امداد ملنے کے بارے میں بھارتی اعتراضات کے متعلق وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ بھارت کی تشویش بے جا ہے۔ ان کے مطابق خود بھارت اسلحہ کے ڈھیر لگا رہا ہے اور اسے پاکستان پر اعتراضات نہیں کرنے چاہیے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ خطے میں روایتی اسلحہ میں توازن ہی امن اور بہتر تعلقات کی ضمانت ہے۔ شیخ رشید احمد نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز نے صدر جنرل پرویز مشرف کے حالیہ دورے کے وقت کہیں بھی مظاہرے نہیں کیے جو کہ خوش آئند ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کی اجازت سے حکومت اور حزب مخالف کی اہم جماعتوں کے رابطے جاری ہیں اور ’سیاسی ہانڈی‘ چڑھی ہوئی ہے، اب دیکھنا ہوگا کہ کچھ پکتا بھی ہے یا وہ صرف ابلتی ہی رہے گی۔ انہوں نےکہا کہ ایک نئی تنظیم نے صدر کے دورے کے موقع پر لندن میں مظاہرہ کیا لیکن ہم چاہتے تھے کہ دونوں سیاسی جماعتیں (پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز) مظاہرے نہ کریں، اور ایسا ہی ہوا۔ بینظیر بھٹو اور صدر جنرل پرویز مشرف کے درمیان براہ راست رابطے کے سوال پر انہوں نے تصدیق یا تردید کیے بغیر کہا کہ حکومت اور حزب مخالف کی جماعتوں میں رابطہ ہے۔ نواز شریف سے رابطے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ان سے نہیں تو ان کے خاندان والوں سے تو ہے ۔ وزیر اطلاعات نے ایک اور سوال پر کہا کہ حکومت اور حزب مخالف کے رہنماؤں کے درمیاں’تیسرے فریق، صحافیوں، اور بیچ والے لوگوں‘ کے ذریعے بھی رابطے ہیں۔ شیخ رشید چند ہفتوں سے حکومت اور حزب مخالف کے درمیان مفاہمت کی باتیں کرتے آرہے ہیں لیکن تاحال کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ جب وزیر سے پوچھا گیا کہ حکومت نے جاوید ہاشمی کو ایک خط کی بنا پر سزا دے دی لیکن الطاف حسین آئے دن نظریہ پاکستان کی مخالفت کرتے ہیں لیکن حکومت ان کے خلاف کارروائی نہیں کرتی تو شیخ رشید احمد نے کہا کہ الطاف حسین نے دوسرے روز تردید کردی تھی۔تاہم وہ اس معاملے پر مزید کچھ کہنے سے گریزاں دکھائی دیے۔ صدر کی وردی کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ دنیا میں کسی کو پتہ ہی نہیں ہے کہ ’فوجی وردی‘ پاکستان کا کوئی مسئلہ بھی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||