’دنیا پہلے سے کم محفوظ ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بعد سے دنیا پہلے سے کم محفوظ ہے اور یہ جنگ اصل مسائل کا حل نہیں ہے۔ برطانیہ کے دورے پر آئے ہوئے جنرل مشرف سے جب بی بی سی کے نیوز نائٹ پروگرام میں انٹرویو کے دوران پوچھا گیا کہ کیا دنیا دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بعد کم محفوظ ہوگئی ہے تو انہوں نے کہا ’بالکل۔ اور اُن سماجی مسائل کا حل تلاش نہیں کیا جارہا جو دہشت گردی کے پھیلاؤ کے ذمہ دار ہیں۔‘ جنرل مشرف آج لندن میں وزیر اعظم ٹونی بلئیر سے ملاقات کرنے والے ہیں جس میں توقع ہے کہ وہ مسٹر بلئیر پر زور دیں گے کہ تعلیم کے پھیلاؤ ، غربت کے خاتمے اور مسلہء فلسطین کے حل کے لئے مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔ نیوز نائٹ پروگرام میں جنرل مشرف نے کہا کہ ’ہم مسائل کے اصل حل کے بارے میں کچھ نہیں کررہے اور صرف وقتی تدارک کررہے ہیں اور یہ کہ ہم مسائل کے طویل المعیاد حل نہیں ڈھونڈ رہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اُن سیاسی تنازعات اور غیر منصفانہ سماجی حالات پر بھی توجہ دینا چاہئیے جن کی وجہ سے شدت پسندی جنم لیتی ہے۔‘ ’ہمیں غور کرنا چاہئیے کہ وہ کونسے عناصر ہیں جو ایک نوجوان مرد یا عورت کو اپنی جان گنوا دینے پر مجبور کرتے ہیں۔ وہ سیاسی تنازعات کی خاطر ایسا کرتے ہیں اور ہمیں ان کا حل تلاش کرنا چاہئیے۔‘ جنرل مشرف نے کہا کہ ان سب مسائل کی وجہ سے شدت پسندی پھیل رہی ہے اور ان مسائل کا حل تلاش کیا جانا ضروری ہے۔ جنرل مشرف جو برطانیہ کے پہلے سرکاری دورے پر ہیں آج وزیراعظم ٹونی بلئیر ان امور کے علاوہ تجارت اور افغانستان اور کشمیر پر بھی بات کریں گے۔ جنرل مشرف لاطینی امریکہ کا دورہ کرنے اور امریکہ میں صدر بش سے ملا قات کرنے کے بعد برطانیہ پہنچےہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||