BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 05 December, 2004, 14:56 GMT 19:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اسامہ کا سراغ نہیں مِل رہا‘

News image
جنرل مشرف لاطینی امریکہ کا دورہ کرکے صدر بش سے ملاقات کرنے کے بعد لندن پہنچے ہیں۔
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ اسامہ بن لادن اور ان کے سینئر ساتھیوں کی تلاش ٹھنڈی پڑتی جا رہی ہے اور حال میں اس سلسلے میں کوئی انٹیلی جینس بھی حاصل نہیں ہو پائی ہے۔

جنرل مشرف نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو بتایا ہے کہ اگرچہ پاکستانی فورسز اسامہ بن لادن کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن حال میں کئے جانے والے آپریشن میں سوائے اس کے کچھ معلوم نہیں ہوسکا کہ اسامہ ابھی تک زندہ ہیں۔

جنرل مشرف نے امریکہ سے اپیل کی کہ افعان فوج کی تربیت اور توسیع کو جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں سرحد کی دوسری جانب پائے جانے والے خلا کو پر کیا جاسکے۔

صدر جنرل پرویز مشرف لاطینی امریکہ کے دورے اور صدر جارج بش سے ملاقات کر کے اتوار کے روز یہاں لندن پہنچے ہیں۔ ان کی یہاں آمد پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں اور ہوائی اڈے پر ان کے استقبال کے لیے بھی چند ہی لوگوں کو آنے دیا گیا۔

صدر مشرف کا برطانیہ کا دورہ اصل میں کل سے شروع ہوگا جب یہاں کے بڑے اخبارات اور میگزینز کے ایڈیٹرز سے ان کی ملاقات ہوگی۔ لیکن لندن میں ان کی سب سے اہم مصروفیت برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر سے بات چیت ہے جس کے بعد دونوں رہنما ایک پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے۔

ٹونی بلیئر سے صدر مشرف کی ملاقات کم از کم اس لحاظ سے بہت اہمیت کی حامل ہے کہ خود صدر مشرف کے بقول اس میں کشمیر کے مسئلے پر بات چیت ہوگی۔ لیکن ایک بہت اہم سوال یہ ہے کہ ٹونی بلیئر کس حد تک دونوں ملکوں کے درمیان معاملات کو آگے بڑھانے میں کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ کیا برطانیہ کا ایسا کوئی کردار بھارت کو قبول بھی ہوگا یا نہیں اور کیا ٹونی بلیئر بھارت سے اس حوالے سے کوئی ٹھوس بات کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے بھی یا نہیں، یہ دیکھنا باقی ہے۔

صدر مشرف اور ٹونی بلیئر کے درمیان پاکستان میں مذہبی شدت پسندوں کے خلاف جاری کارروائی پر بھی بات چیت ہونے کا امکان ہے۔ حال ہی میں پاکستان کو امریکہ سے جنگی آلات ملے ہیں تاکہ شدت پسندوں کے خلاف ایکشن مزید تیز کیا جائے۔ چونکہ برطانیہ اور پاکستان دونوں دہشت گردی کے خلاف عالمی اتحاد کے بہت اہم ارکان ہیں لہذا اس بات کا بہت امکان ہے کہ دونوں رہنما دہشت گردی کے موضوع پر بھی گفتگو کریں۔

صدر مشرف اپنے اس دورے میں لندن میں مختلف تقاریب میں خطاب بھی کریں گے اور خیال ہے کہ وہ برطانوی پارلیمان کے اجلاس میں بھی شرکت کریں۔ بظاہر اپنی تقاریر میں جنرل پرویز مشرف پاک بھارت تعلقات کے تناظر میں بات کریں گے اور ساتھ ہی فلسطین کے مسئلے پر بھی اظہارِ خیال کریں گے۔ وہ کچھ عرصے سے مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ کشمیر اور فلسطین جیسے مسائل کے حل کا وقت قریب آ چکا ہے۔

کل شام صدر مشرف یہاں ایک اور اہم تقریب میں شریک ہوں گے۔ یہ تقریب ان کا برطانیہ میں ان پاکستانیوں سے خطاب ہے جو یہاں آ کر بس گئے ہیں۔ اگلے روز وہ مانچسٹر جائیں گے اور وہاں پر بھی پاکستانیوں سے مخاطب ہوں گے کریں گے۔

برطانیہ کا دو روز قیام کے جنرل مشرف منگل کی شامل اپنے دورے کے اگلے مرحلے میں پیرس چلے جائیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد