BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 04 December, 2004, 12:54 GMT 17:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بش اور مشرف کی آٹھویں ملاقات
بش اور مشرف کے درمیان یہ اٹھاویں ملاقات ہے۔
بش اور مشرف کے درمیان یہ آٹھویں ملاقات ہے
صدر جنرل پرویز مشرف جنوبی امریکہ اور یورپ کے پانچ ملکی دورے کے دوران ہفتے کو امریکہ میں صدر بش سے ملاقات کی ہے۔ دونوں صدور نے دہشتگردی کے خلاف جنگ، پاک بھارت تعلقات اور تجارتی روابط پربات چیت کی۔

صدر مشرف نے اس ملاقات کو مثبت قرار دیا ہے۔

اس ملاقات میں صدر بش نے القاعدہ کے خلاف پاکستانی افواج کی مہم میں اپنے پورے تعاون کی پیشکش کی ہے۔

صدر بش اور صدر مشرف کے درمیان یہ آٹھویں ملاقات تھی جس سے امریکہ کے لیے پاکستان کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔

اس سے دونوں رہنماؤں کے درمیان پائے جانے والے قریبی تعلقات کا بھی اظہار ہوتا ہے۔

گزشتہ ملاقات کی طرح اس مرتبہ بھی اسلامی انتہا پسندی کے خلاف چلائی جانے والی عالمی مہم اور پاک بھارت تعلقات پر بات چیت کا زیادہ وقت صرف ہوا۔ پاک افغان سرحد پر القاعدہ اور طالبان کے روپوش اراکین کی تلاش کی کوششوں کے بارے میں صدر مشرف نے صدر بش کو تفصیل سے آگاہ کیا۔ تاہم علاقے میں پاکستانی افواج کی تعداد کم کرنے کے حالیہ اقدام پر صدر بش نے اپنے خیالات کا اظہار نہیں کیا۔

اس ملاقات کے بعد امریکی صدر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ صدر مشرف کے تعاون اور پاک فوج کی کارکردگی سے خوش ہیں۔ انہوں نے کہا ’فوج نے القاعدہ اور طالبان کو سرحدی علاقوں میں روپوش ہونے کے خلاف جو مہم چلائی ہے وہ غیر معمولی طور پر جرات مندانہ ہے‘۔

پاکستان فوجی حکام کا دعوی ہے کہ اس نے پاکستان کے قبائلی علاقوں سے انتہا پسند اور القاعدہ عناصر کا صفایا کر دیا ہے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن اور ان کے قریبی ساتھیوں کا پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔

اس سال ہی امریکہ نے پاکستان کو غیر نیٹو اتحادی کا درجہ دیاہے جس کے بعد پاکستان کو امریکی ہتھیاروں کی بڑے پیمانے پر فروخت میں پائے جانے والی تمام روکاوٹیں دور ہو گئی ہیں۔

صدر مشرف نے کہا ہے کہ امریکی صدر نے اسرائیل فلسطین تنازع حل کرنے میں امریکہ مزید مثبت کردار ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

دونوں صدور کی ملاقات سے قبل وائٹ ہاؤس کے ترجمان سکاٹ میکلیلن نے کہا تھا کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان خفیہ معلومات کا کافی تبادلہ ہوتا ہے تاہم ان کا خیال ہے کہ اس سلسلے میں اور بہت کچھ ہوسکتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد