مشرف، اناکیولولا کی ملاقات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر پرویز مشرف لاطینی امریکہ کے دورے کے پہلے مرحلے میں برازیل پہنچ گئے ہیں جہاں وہ سوموار کو برازیل کے صدرلوئیز اناکیو لولا سے ملاقات کریں گے۔ توقع ہے کہ برازیل کے دارالحکومت میں صدر لوئیز اناکیو لولا سے ہونے والی اس ملاقات میں صدر مشرف دونوں ممالک کے تعلقات کی بہتری اور تجارت کے فروغ پر بات کریں گے۔ صدر جنرل مشرف سنیچر کی برازیل میں پہنچنے کے بعدخوبصورت مقامات کی سیر کی۔ صدر مشرف نے کرائسٹ ریڈیمر کے مجسمے کا نظارہ کرنے کے بعد ساحل سمندر کا بھی نظارہ کیا۔ خراب موسم کی وجہ سے وہ ہیلی کاپٹر پر شہر کا نظارہ نہیں کر سکے۔ صدر مشرف برازیل کے دورے کے دوران منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام، ویزہ کی پابندیوں کو نرم کرنے اور سیاسی معاملات پر تعاون کے معاہدوں پر دستخط کریں گے۔ برازیل کی وزارت داخلہ کے ترجمان ایڈمنڈو فوجیٹا نے کہا کہ پاکستان لاطینی امریکی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو وسعت دینا چاہتا ہے۔ برازیل کے صدر لوئیز اناکیو لولا اور صدر جنرل پرویز مشرف کے درمیان ملاقات میں سکیورٹی کونسل کے مستقل ممبران کی تعداد کو بڑھانے کا معاملہ بھی زیر غور آ سکتا ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غیر مستقل ممبران کے ذریعے پھیلاؤ کے حق میں ہے۔ پاکستان اور برازیل کے درمیان اب تک محدود پیمانے پر تجارت ہوتی آئی ہے۔ سن 2003 میں دونوں ممالک کے درمیان 50 ملین ڈالر کی تجارت کی گئی تھی۔ صدر مشرف کے ہمراہ اس دورے پر خارجہ، تجارت اور نجکاری کے شعبوں کے وزراء کے علاوہ تاجروں کا ایک گروپ بھی موجود ہے۔ اسلام آباد کے لیے برازیل کے سفیر فاستو گوداؤ کا کہنا ہے کہ برازیل پاکستان کے سمندروں میں تیل کی تلاش اور ملک میں نجکاری میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مشرف یکم اور دو دسمبر کو ارجنٹائن کا دورہ کریں گے، دسمبر تین اور چار میکسیکو میں گزاریں گے اور چار دسمبر کو ہی واشنگٹن پہنچیں گے جس کے بعد وہ لندن اور پیرس کا دورہ بھی کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||