مشرف بش سے ملاقات کریں گے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری نے کہا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف لاطینی امریکہ کے دورے کے دوران امریکہ میں مختصر قیام کریں گے اور امریکی صدر جارج بش سے اہم ملاقات بھی کریں گے۔ یہ بات انہوں نے بدھ کے روز پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے بنگلہ دیش کے اپنے ہم منصب سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران بتائی۔ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ مورشید خان سارک کی تیرہویں سمٹ میں شرکت کے لیے پاکستانی وزیراعظم کو دعوت دینے کے لیے آئے ہوئے ہیں۔ یہ اجلاس ڈھاکہ میں ہوگا۔ بش کے دوبارہ امریکی صدر منتخب ہونے کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف کی ان سے پہلی ملاقات ہوگی۔ خورشید محمود قصوری کے مطابق پاکستان کے صدر اپنے امریکی ہم منصب پر زور دیں گے کہ وہ فلسطین سمیت دنیا بھر بالخصوص مسلمان ممالک کے تنازعات طے کرانے میں کردار ادا کریں۔ واضح رہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف برازیل، ارجنٹائن، میکسیکو، برطانیہ اور فرانس کے دورے پر چھبیس نومبر کو روانہ ہورہے ہیں اور چار دسمبر کو واشنگٹن میں مختصر قیام کریں گے۔ خورشید محمود قصوری نے اس موقع پر ایک سوال کے جواب میں کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ محض فوجی طاقت کے زور پر نہیں جیتی جاسکتی بلکہ شدت پسندی کی بنیادی وجوہات کو ختم کرنا ہوگا۔ جو ان کے بقول سیاسی تنازعات منصفانہ طور پر حل کرنے ہی سے ممکن ہو سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی انتظامیہ میں بڑی تبدیلیوں کے باوجود دونوں ممالک کے تعلقات پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ حال ہی میں امریکہ کی جانب سے ستر کروڑ ڈالر کی فوجی امداد کی منظوری جس کا اعلان صدر بش کے پہلے دور میں کیا گیا تھا، پرانی پالیسیوں کے جاری رہنے کی دلیل ہے۔ بنگلہ دیش کے وزیرخارجہ مورشید خان نے کہا کہ پاکستان نے ’ بارہویں سارک سمٹ، کا رواں سال میں انعقاد یقینی بنایا ہے جو کہ ان کی نظر میں پاکستان کی بڑی کامیابی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بارہویں سارک اجلاس اس سے پہلے دو بار ملتوی ہوئی تھی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سارک کے پلیٹ فارم پر رکن ممالک اپنے دوطرفہ معاملات نہیں اٹھا سکتے اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے یہ تنظیم پاکستان اور بھارت کے تعلقات کے آگے یرغمال نہیں بن سکتی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ پاکستان میں بنگلہ دیش کی وزیراعظم خالدہ ضیاء کے خصوصی نمائندے کے طور پر بدھ کے روز پہنچے ہیں۔ انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف سے ہونے والی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے صدر خاصے کھلے دل کے مالک ہیں۔ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ نے اس موقع پر کہا کہ سارک کے رکن مالک مشترکہ منڈی اور کرنسی متعارف کرانے کے بعد یورپی یونین سے بھی زیادہ مضبوط ہوسکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ایسا ہونے میں وقت لگے گا، کیونکہ یورپی یونین کو بھی ایسا کرنے میں چالیس برس لگے۔ انہوں نے کہا کہ ڈھاکہ سارک سمٹ کا ایک اہم مقصد، اسلام آباد سمٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد کرکے حکمت عملی وضع کرنا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بھارت کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش، بھارت کے مفاد کے خلاف کام کر رہا ہے اور نہ ہی کسی بھارت مخالف علحیدگی پسند تحریک کے ان کے ملک میں تربیتی کیمپ ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||