BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 27 November, 2004, 14:02 GMT 19:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکومت کو حزبِ اختلاف کا جواب

مسلم لیگی کارکن
حکومت سیاسی قیدیوں کو رہا کرے: نثار علی
پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز نے حکومت سے مفاہمت کے لیے
شرائط پیش کی ہیں۔

مسلم لیگ نواز کے قائم مقام صدر چودھری نثار علی خان نے ایک اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ حکومت ملک کی خارجہ پالیسی نئے سرے سے تشکیل دے اور تہتر کا آئین اصل شکل میں بحال کرے تو ان کی جماعت بات چیت کے لیے تیار ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انتقامی سیاست بند کی جائے، تمام سیاسی رہنماؤں کے خلاف مقدمات واپس لیے جائیں اور لیگل فریم ورک آرڈر کی وجہ سے برطرف کیے گئے ججوں کو بحال کیا جائے تو بات آگے بڑھ سکتی ہے۔

حکومت کی جانب سے وزیراطلاعات شیخ رشید احمد نے دو دن قبل کہا تھا کہ وہ حزب مخالف سے مفاہمت چاہتے ہیں۔ انہوں نے مفاہمت کے لیے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ آصف زرداری کی رہائی میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالنا، صدر جنرل پرویز مشرف کا نواز شریف سے فون پر والد کی وفات پر تعزیت کرنا اور وزیراعظم کی مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات حکومت کے مثبت اقدامات ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر حزبِ مخالف اپنی ضد چھوڑ کر حکومتی پیشکش کا مثبت جواب دے گی تو حکومت مزید آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے۔

چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ مسکرانا، کسی سے ہمدردی کے بول بولنا یا کسی کو جیل میں ڈال کر رہا کرنے کے اقدامات سیاسی شعبدہ بازی ہے اور حکومت اگر سنجیدہ ہے تو ٹھوس اقدامات کرے۔

چودھری نثار علی خان نے کہا کہ ان کی جماعت کوشش کر رہی ہے کہ اتحاد برائے بحالی جمہوریت، متحدہ مجلس عمل، مظلوم قوموں کے اتحاد ’پونم‘ اور دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر ایک نکاتی ایجنڈے پر متحد ہوکر حکومت کے خلاف تحریک چلائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ حال ہی میں نواز شریف سے متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں کی ملاقات میں اس معاملے پر بات ہوئی تھی اور وہ پُرامید ہیں کہ حزب مخالف کی تمام جماعتیں جلد متحد ہوجائیں گی۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر ان کی جماعت آئین کی بحالی کی جدوجہد میں اکیلی بھی رہ گئی تو وہ مایوس نہیں ہوں گے۔

نثار علی خان نے پیپلز پارٹی کی جانب سے چھ دسمبر کو پشاور کے بجائے مالاکنڈ میں جلسہ کرنے کے فیصلے کے بارے میں کہا ہے کہ ان کی جماعت کو اعتماد میں لیے بنا ایسا کیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ اس جلسے میں شریک ہوں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ مستقبل کے لیے سیاسی جماعتوں کا ضابطہ اخلاق طے کرنے کے لیے پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بینظیر بھٹو سے میاں نواز شریف کی بات ہوئی ہے اور دونوں جماعتوں نے کمیٹیاں بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ ان کے مطابق راجہ ظفرالحق اور احسن اقبال کو ان کی جماعت نے نامزد کیا ہے اور پیپلز پارٹی نے ابھی کمیٹی بنانی ہے۔

مسلم لیگ نواز کے رہنما کا کہنا ہے کہ وہ ایسا ضابطہ اخلاق بنانا چاہتے ہیں کہ آئندہ جیتنے والی جماعت کے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور ان کی مدت مقرر کرنے میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد