BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مبارک ہو: نواز کا بےنظیرکوفون

News image
ماضی میں بھی ان رہنماؤں کے درمیاں فون پر رابطہ رہا ہے۔
پاکستان کے دو جلا وطن سابق وزراء اعظم میاں نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے درمیاں بدھ کے روز فون پر گفتگو ہوئی ہے۔

پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے بی بی سی کو بتایا کہ کم از کم بیس منٹ تک جاری رہنے والی اس بات چیت میں میاں نواز شریف نے آصف علی زرداری کی رہائی پر بینظیر بھٹو کو مبارکباد دی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ یہ فون میاں نواز شریف نے جدہ سے خود کیا اور انہوں نے پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن کو بتایا کہ وہ زرداری کو بھی فون پر مبارکباد دے چکے ہیں۔

ترجمان کے مطابق دونوں سابق وزراء اعظم نے اس موقع پر پاکستان کی سیاسی صورتحال اور بالخصوص حزب مخالف کی تحریک کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ماضی میں بھی دونوں رہنماؤں کے درمیاں فون پر رابطے ہوتے رہے ہیں یا یہ ان کا پہلا رابطہ تھا؟ تو اس کے جواب میں فرحت اللہ بابر نے بتایا کہ ماضی میں بھی ان رہنماؤں کے درمیاں فون پر رابطہ رہا ہے اور جب نواز شریف کے والد میاں محمد شریف فوت ہوگئے تھے اس وقت بینظیر بھٹو نے انہیں فون کرکے تعزیت کی تھی۔

دونوں رہنماؤں کے درمیاں سیاسی صورتحال کے بارے میں ہونے والی گفتگو کی تفصیلات انہوں نے بتانے سے گریز کیا اور کہا کہ فی الوقت اتنا ہی کافی ہے۔

واضح رہے کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو دسمبر دو ہزار میں جدہ روانہ کردیا گیا تھا۔ جس کے بارے میں حکومت کا دعویٰ رہا ہے کہ وہ ایک معاہدے کے تحت باہر گئے ہیں اور دس برس تک پاکستان نہیں آئیں گے۔ جبکہ حکومت کے اس دعوے کو مسلم لیگ نواز سختی سے مسترد کرتی رہی ہے۔

پیپلز پارٹی کی سربراہ اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو خود ساختہ طور پر جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ ان پر پاکستان میں بدعنوانی کے الزامات کے تحت مقدمدات بھی داخل ہیں۔

آٹھ برس بعد سپریم کورٹ کی جانب سے ضمانت کی منظور کے نتیجے میں گزشتہ پیر کو آصف علی زرداری رہا ہوئے تھے۔ انہوں نے رہائی کے بعد دعویٰ کیا تھا کہ آئندہ سال عام انتخابات ہوں گے۔ وزیر داخلہ نے ان کے بیان کی تردید کی ہے۔

جہاں ماضی میں ایک دوسرے کے سخت سیاسی حریفوں اور آج کے حلیفوں میاں نواز شریف اور بینظیر بھٹو میں رابطہ ہوا ہے وہاں صدر جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف سے بھی فون پر رابطہ کیا ہے۔

ایسی صورتحال میں تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حزب مخالف کے دعوے اور حکومت کی تردیدیں اپنی جگہ لیکن جس طرح پاکستان میں تیزی سے سیاست کے میدان میں اچانک واقعات رونما ہورہے ہیں یہ کسی بڑی سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد