بینظیر بھٹو، وطن واپسی کا مطالبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی جلاوطنی ختم کرکے انہیں وطن واپس آنے دیا جائے۔ ایک ہی روز قبل ان کے شوہر آصف علی زرداری کو آٹھ سال قید کے بعد ضمانت پر رہائی ملی ہے۔ بے نظیر بھٹو نے 1999 میں بدعنوانی کے الزامات سے بچنے کے لیے خود ساختہ جلاوطنی اختیار کی تھی۔ یہ الزامات ابھی بھی ان پر عائد کیے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر انہیں پاکستان واپس آنے دیا جائے ’تو یہ ملک کے لیے اچھا ہوگا‘۔ اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار پال اینڈرسن کے مطابق زرداری اور بے نظیر کے خلاف مقدمات اب بھی موجود ہیں تاہم اب حکومت اور آصف زرداری کی جانب سے ’مفاہمت‘ کی بات ہورہی ہے۔ حکومت کی جانب سے ایک اور مفاہمانہ اقدام کے طور پر صدر پرویز مشرف نے سابق وزیر اعظم نواز شریف سے سعودی عرب فون پر بات کی اور ان کے والد کی وفات پر ان سے تعزیت کی۔ فوج نے نواز شریف کی حکومت کا تختہ 1999 میں الٹ دیا تھا۔ مشرف کی فون کال کے بارے میں پاکستان مسلم لیگ (ق) کے ایک رہنما سید مشاہد حسین کا کہنا ہے کہ ’سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی کی شکل نہیں دینی چاہیے۔ اور صدر مشرف کا بھی یہی پیغام ہے‘۔ بے نظیر بھٹو نے ان قیاس آرائیوں کی تردید کی ہے کہ ان کے شوہر کی رہائی حکومت کے ساتھ کسی معاہدے کا حصہ ہے۔ ’مجھ سے کسی حکومتی رہنما کی ملاقات نہیں ہوئی ہے البتہ یہ لوگ آصف زرداری اور جماعت کے دیگر رہنمماؤں سے ملتے رہے ہیں۔‘ بے نظیر دو مرتبہ پاکستان کی وزیر اعظم رہ چکی ہیں۔ اب وہ اپنے تین بچوں کے ساتھ متحدہ عرب امارات اور لندن میں رہتی ہیں۔ بے نظیر کا کہنا ہے ’میں وطن واپس جانا چاہتی ہوں۔ میرے بچے اپنے والد سے ملنا چاہتے ہیں۔ تمام جلا وطن رہنماؤں کو یہ حق دینا چاہیے کہ وے اپنے وطو واپس آسکیں‘۔ آصف زرداری نے بھی اپنی رہائی کے بعد ایک بیان میں کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ بے نظیر پاکستان واپس آجائیں گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||