’سندھ میں حکومت ہمارا حق‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ سندھ میں جہاں بقول ان کے انٹیلیجنس ایجنسیوں کی طرف سے مسلط کئے گئے وزیر اعلی نے استعفی دے دیا ہے، یہ پیپلز پارٹی کا جمہوری حق ہے کہ وہ اگلی حکومت تشکیل کرے۔ پاکستانی صحافیوں سے ایک ملاقات میں انہوں نے کہا پاکستان پیپلز پارٹی کو ملک میں قومی مفاہمت کی حکومت کی تشکیل کی کوئی تجویز نہیں ملی ہے، نہ مرکز میں اور نہ سندھ میں۔ صحافیوں سے اس ملاقات میں ہمارے ساتھی آصف جیلانی بھی موجود تھے۔ وطن واپسی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ واپسی سے تیس روز پہلے اپنے فیصلے کا اعلان کریں گی۔ بے نظیر بھٹو کی پاکستانی صحافیوں سے یہ ملاقات بہت پہلے سے طے تھی۔ یہ اتفاق تھا کہ اس سے چند گھنٹے قبل سندھ کے وزیر اعلی مہر کے استعفی کی خبر آئی لہٰذا ان سے پیشتر سوالات اسی تناظر میں کئے گئے۔ ان کا کہنا تھا ’ کراچی میں جہاں دوبارہ دہشت گردی ، تشدد اور خوف کا دور شروع ہوا ہے ، وزیر اعلٰی کو، جو انٹیلیجنس ایجنسیوں کی طرف سے مسلط کئے گئے تھے، استعفٰی دینا پڑا ہے۔ پہلا جمہوری حق پیپلز پارٹی کا ہے کہ وہ حکومت بنائے،۔ ان سے پوچھا گیا کہ حال میں ملک میں قومی مفاہمت کی حکومت کی تشکیل کی جو تجویزپیش کی گئی اس پر پیپلز پارٹی کا کیا ردعمل ہے ؟ اس پر بے نظیر بھٹو کا کہنا تھا ’میں نےاخبار میں پڑھا کہ قومی حکومت کی کوئی تجویز پیش کی جارہی ہے، میں نے اپنے نائب صدر سے فون پر پوچھا تو انہوں نے کہا کہ نہیں ہمیں ایسا کوئی پروپوزل نہیں ملا۔ میں یہ واضح کرنا چاہتی ہوں کہ پیپلز پارٹی کو نہ تو صوبائی اور نہ ہی قومی حکومت بنانے کا کوئی پروپوزل دیا گیا ہے۔ اگر کوئی قانون رائج ہے تو سندھ گورنر کو سب سے پہلے ہمیں حکومت بنانے کی پیشکش کرنی چاہئے‘۔ گزشتہ چار سال سے لندن میں جلاوطن بے نظیر بھٹو نے پاکستان میں موجودہ حالات کا نہایت سنگین نقشہ کھینچا اور کہا ’ملک میں ایک طرف تو دہشت گردی اور تشدد عام ہے اور دوسری طرف عوام روز بروز زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہوتے جا رہے ہیں اور بے روزگاری کا مسئلہ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ ملک کی باوقار فوج کو کارگل کے بعد اب وانا میں ذلیل کیا جارہا ہے۔ نہ تو پارلیمٹنٹ میں اور نہ پالیمنٹ سے باہر کوئی احتساب ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں تاریکی بڑھتی جا رہی ہے۔ بے نظیر بھٹو سے جب پوچھا گیا کہ ان کا وطن واپس جانے کب ارادہ ہے تو انہوں نے کہا ’میری پالیسی ہے کہ جانے سے تیس دو پہلے میں اس کا اعلان کروں گی۔ اس سلسلے میں مجھ پر امریکہ کا کوئی دباؤ نہیں ہے اور میں اس وقت واپس جاؤں گی جب عوام کو سب سے زیادہ حوصلہ افزائی ملے گی‘۔ جب ان سے کہا گیا کہ وطن واپس نہ جانے کی کیا مجبوری ہے تو انہوں نے کہا ’جب حضور پاک صلی اللہ علیہ وا الہ وسلم نے دیکھا کہ اسلام کے دشمن مکہ شریف میں زیادہ مضبوط ہورہے ہیں تو وہ اپنا پیغام پھیلانے مدینہ ہجرت کرگئے تھے۔ میں نے بھی جب دیکھا کہ ملک میں لوگ جمہوریت کے دشمن ہوگئے ہیں تو میں یہاں چلی آئی تاکہ اپنا لائحہ عمل بنا سکوں‘۔ بے نظیر بھٹو نے بتایا کہ وہ ملک میں آئندہ حکمت عملی کے بارے میں جدہ میں مسلم لیگ نون کے جلاوطن رہنما اور سابق وزیر اعظم نواز شریف سے صلاح مشورہ کر رہی ہیں اور اس بارے میں وہ ان سے مل کر لائحہ عمل طے کریں گی۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کے عمل کے بارے میں انہوں نے کہا ’ہم بر صغیر میں کشیدگی کم کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے اپنے خدشات ہیں کہ کیا ایک فوجی آمر کے دور میں تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہم اس عمل کا خیر مقدم کرتے ہیں اور ہم اسے متنازعہ نہیں بنانا چاہتے‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||