’نام نہاد جہوریت کے لیے دھچکا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی کے استعفی کو پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بے نظیر بھٹو اور حزب اختلاف کے دیگر سیاسی رہنماؤں نے جمہوری اقدار کے لیے ایک اور دھچکا قرار دیا ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں بھی اطلاع موصول ہوئی ہے کہ جنرل مشرف اور ان کی فوجی آمریت نے وزیر اعظم جمالی سے استعفی لے لیا ہے۔ بے نظیر بھٹو نے کہا کہ جمالی اپنے دورے اقتدار میں کبھی بھی اپنی بات نہیں منوا سکے اور وہ ہمیشہ اپنے آپ کو ’صدر مشرف کے اسٹاف افسر‘ کہتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم صدر مشرف کے تابیدار رہے ہیں اور اگر مشرف ان کے ساتھ نہ چل سکے تو وہ کسی اور شخص کے ساتھ نہیں چل سکیں گے۔ بے نظیر بھٹو نے کہا ان سب باتوں کے باوجود جمالی کے استعفی سے نام نہاد جہوریت کو شدید جھٹکا پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورت حال میں حزب اختلاف کا ایک رول بنتا ہے اور یہ پاکستان پیپلز پارٹی اپنے اتحادیوں کے ساتھ مشاورت کے بعد یہ کردار ادا کرئے گی۔ انہوں کے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنا ایک ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے اور یہ اجلاس کل بھی جاری رہے گا۔ بے نظیر بھٹو نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نئے وزیر اعظم کے اعتماد کے ووٹ کے موقعہ پر اپنا امیدوار بھی کھڑا کرئے گی۔ انہوں نے کہا کہ اے آر ڈی کی مشاوررت اور اتفاق سے یہ امیدوار نامزد کیا جائے گا۔ جمالی کے استعفی کے بعد ملکی صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہو سکتا ہے ملک میں جلد ہی عام انتخابات بھی منعقد کرائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک انتہائی مشکل حالات سے گزر رہا ہے۔ مغربی سرحدوں پر نازک صورت حال ہے اور ملک کے اندر بھی گڑ بڑ اور بدامنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے اندرونی اور بیرونی معاملات سے عوام کی توجہ ہٹانے کہ لیے یہ اقدام کیا گیا ہو۔ متحدہ مجلس عمل کے رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان نے بھی جمالی کے استعفی کو جمہوریت کے لیے دھچکا قرار دیا اور کہا کہ ایک منتخب وزیر اعظم پر دباؤ ڈال کر ان سے استعفی لینا درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ ہورہا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ فوجی قیادت وزیر اعظم کو کٹ پتلی تصو ر کر تے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما مخدوم امین فہیم نے کہا کہ جہوریت کے نام اور جو ایک جعلی ڈھانچہ بنایا ہوا تھا اس کا ایک ستون گر گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ڈھانچے کے باقی ستون بھی دھڑام دھڑام کر کے گر جائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||