آصف کی جرات کو سلام: بینظیر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو نے سپریم کورٹ سے آصف زرداری کی ضمانت پر رہائی کے فیصلے کے بعد کہا ہے کہ وہ ’اتنی آزمائش کے بعد پارٹی کے سینیئر رہنما بن چکے ہیں‘۔ بینظیر بھٹو نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پارٹی کی قیادت ان کے پاس ہےاور پاکستان کےاندر پارلیمانی لیڈر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری ایک سینیئر لیڈر کی حیثیت سے ’اپنا کردار ادا کریں گے‘ اور ملک میں جمہوری نظام کے لیے کام کریں گے۔ پی پی پی کی سربراہ نے عدالت کے فیصلے کو سراہتے ہوئے اسے انصاف کی جیت کہا ہے۔ آصف زرداری کی رہائی کے لیے حکومت کے ساتھ بات چیت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں بینظیر بھٹو نے کہا کہ ’بات چیت کئی سال کے دوران سے جاری ہے لیکن اس کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا‘۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سے بات چیت کے بارے میں آصف زرداری سے براہ راست پوچھا جا سکتا ہے کیونکہ ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے وہ ان کے ساتھ آزادی سے گفتگو نہیں کر سکتی تھیں۔ بینظیر بھٹو نے کہا ’میں یہ جانتی ہوں کہ لوگ وقتاً فوقتاً پچھلے کئی سالوں سے بات چیت کرتے رہے ہیں اور ماضی میں بھی حکومت سے بہت مذاکرات ہوئے ہیں‘۔ عدالت کے فیصلے کے بعد ایک تحریری بیان میں بینظیر بھٹو نے کہا کہ آصف علی زرداری نے مشکل کا سامنا جرات اور حوصلے سے کیا اور ’قائد عوام (ذوالفقار علی بھٹو) کو اپنے داماد پر فخر ہوگا‘۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ عوام کو گمراہ کرنے کے لیے افواہیں پھیلا رہے ہیں کہ آصف زرداری کی رہائی کسی ڈیل کا نتیجہ ہے۔ بینظیر نے کہا کہ افواہیں پھیلانے والے لوگ عوام کا دھیان اپنی غلط کاریوں سے ہٹانا چاہتےہیں۔ پی پی پی کی سربراہ نے کہا کہ آصف زرداری نے پارٹی کا پرچم بہادر ترین انسان کی طرح اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ جیل مینویل کے تحت کسی سزا میں ممکنہ کمی کا حساب کیا جائے تو کہا جا سکتا ہے آصف زردای نے بغیر کسی مقدمے میں سزا پائے عمر قید سے زیادہ وقت جیل میں کاٹا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||