’سرے محل بک گیا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان حکومت نےدعویٰ کیا ہے کہ سرے میں واقع ’راک ووڈ پیلس، جو ان کے بقول سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری کی ملکیت ہے، 43 لاکھ پاونڈ میں بیچ دیا گیا ہے اور رقم پاکستان کو ملے گی۔ پاکستان کی وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری کردہ اس بیان کے مطابق لیکوڈیٹر نے پاکستان حکومت سے حاصل کردہ اختیارات کی بنا پر محل فروخت کیا ہے اور وصول کردہ رقم پاکستان کو دلائی جائے گی۔ پیپلز پارٹی کے ترجمان نے ایک جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ سرے محل سے بینظیر بھٹو کا کوئی واسطہ نہیں اور نہ ہی اس سے کوئی تعلق ہے کہ کس نے کس کو کس مقصد کے لیے بیچا ہے۔ انہوں نے حکومتی الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ پاکستان کے تمام اخبارات نے سنیچر کے روز نمایاں طور پر راک ووڈ پیلس جسے ’سرے محل، بھی کہتے ہیں، کی فروخت کے متعلق خبریں شائع کی ہیں۔ سرے محل کے بارے میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے بینظیر بھٹو کے دوسری بار وزیراعظم رہنے کے دوران پارلیمان میں تقریر کرتے ہوئے ان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ محل انہوں نے پاکستان سے مبینہ طور پر لوٹی ہوئی رقم سے خریدا ہے۔ بینظیر بھٹو اور آصف زرداری شروع سے ہی تردید کرتے رہے ہیں کہ سرے محل ان کی ملکیت ہے۔ جمعہ اور سنیچر کے روز حکومت کے جاری کردہ اس مبہم بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سرے محل کے قرب و جوار میں املاک کے مالک ایک برطانوی شہری نے وہ محل خریدا ہے۔ سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سرے محل کے اصل مالکوں کی شناخت چھپانے کے لیے بعض ’ٹرسٹ کمپنیاں، بنائی گئیں تھیں جن کے مقرر کردہ ’لیکوڈیٹر، نے محل فروخت کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||