BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 November, 2004, 13:11 GMT 18:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آصف زرداری سے انٹرویو
 زرداری
میری رہائی کسی ڈیل کا نتیجہ نہیں: زرداری
پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے پیر کو پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کی بی ایم ڈبلیو مقدمے میں ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس موقع پر بی بی سی کی صحافی ایلیا حیدر نے آصف علی زرداری سے بات چیت کی۔

ایلیا حیدر: ضمانت کی منظوری پر آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں؟

آصف زرداری:الفاظ میں تو بیان نہیں کیا جا سکتا ہے۔ انسان اپنی آزادی کو کیسے بیان کرے۔ ابھی تو انہی دیواروں میں ہوں تو لگتا ہے کہ وہیں ہوں۔ جب باہر نکلیں گے، دنیا دیکھیں گے تو آپ کو بتائیں گے۔

ایلیا: کیا آپ کو رہائی کے آرڈر نہیں ملے ہیں؟

آصف زرداری: بی بی ، ایک پروسیجر(procedure ) ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ سے جب ضمانت ہوتی ہے تو کاغذ ہائی کورٹ جاتے ہیں۔ وہاں سے کاغد نیب کورٹ جاتے ہیں اور وہاں سے ریلیز آرڈر آتے ہیں۔ ریلیز آرڈر جب جیل اتھارٹی کو ملیں گے تو رہائی ہو گی۔

ایلیا: کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ آپ کی حکومت سے کوئی بات چیت چل رہی تھی اور یہ رہائی اسی ڈیل کا نتیجہ ہے؟

آصف زرداری: یہ تو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے پوچھنا پڑے گا کیونکہ ضمانت تو انہوں نےلی ہے۔ حکومت سے پوچھ کردی ہے تو انہیں ہی پتہ ہو گا۔ میں تو ڈیڑھ سال سے کوشش کر رہا تھا کہ ضمانت ہو جائے۔

ایلیا: کیا آپ ڈیل سے متعلق الزامات کو نہیں مانتے؟

آصف زرداری: الزامات، ابھی تو میں نکلا بھی نہیں ہوں اور آپ الزامات کی بات کر رہی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ سوچ کا فرق ہے۔(difference of opinion)
اور اگر بات کر کے نکلنا تھا تومیں آٹھ سال پہلے کیوں نہیں نکل آیا؟

ایلیا: آپ کا آگے کا کیا پلان (plan) ہے؟

آصف زرداری: آگے کا پلان، سیاست کرنی ہے، پارٹی کی خدمت کرنی ہے، پہلے جا کر بزرگوں کے قبرستان پر حاضری دینی ہے اور بھٹو صاحب کی قبر پر حاضری دینی ہے۔ ان دوستوں کا شکریہ ادا کرنا ہے جو ہمارے ساتھ رہے ہیں۔ ان دوستوں کے گھر جانا ہے جو ہم میں نہیں رہے ہیں جیسے منور سہروردی ہے دوشری دوست ہیں جو اس دنیا میں نہیں رہے ہیں اور اس جدوجہد میں مارے گئے ہیں۔

ایلیا: اپوزیشن صدر کی وردی کے خلاف جو تحریک شروع کرنے والی ہے کیا آپ اس کا حصہ بنیں گے؟

آصف زرداری: فی الحال تو مجھے ہسپتال سے ریلیز نہیں کر رہے ہیں۔ ڈاکٹروں نے مجھے دو ہفتے کا ریسٹ(rest) کہا ہے۔

ایلیا: لیکن صدر مشرف کی وردی بہر حال ایک اہم مسئلہ ہے۔

آصف زرداری: پورا پاکستان ایک اہم مسئلہ ہے، وردی ایک اہم مسئلہ ہے، جمہوریت اہم مسئلہ ہے۔

ایلیا: کیا آپ اس تحریک کا حصہ بنیں گے یا نہیں؟

آصف زرداری: میرے اندازے کے مطابق میں اس تحریک کا حصہ ہوں۔ اگر آپ نہیں مانتیں تو میں کیا کہ سکتا ہوں۔ انسان جیل کیوں کاٹتا ہے۔ اپنے اصولوں کے لیے کاٹتا ہے، ملک کے لیے کاٹتا ہے، جمہوریت کے لیے کاٹتا ہے، جدوجہد کے لیے کاٹتا ہے اور جدوجہد تو چل رہی ہے۔

ایلیا: وہ جدوجہد تو آپ جیل کے اند سے کر رہے تھے۔ اب آپ آزاد ہو گئے ہیں او آپ کی پالیسی کیا ہو گی؟

آصف زرداری: ہماری پالیسی وہی ہو گی جو پارٹی کی پالیسی ہے کیونکہ ہم ورکر ہیں

ایلیا: آپ کے لہجے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیل میں رہ کر آپ میں لچک پیدا ہو چکی ہے۔

آصف زرداری: ایسا کچھ نہیں ہے لیکن اگر میں کہوں کہ باہر نکل کر میں اسلام آباد کے درودیوار ہلا دوں گا تو یہ صحیح بات نہیں ہو گی۔

ایلیا: زرداری صاحب بی بی سی سے بات کرنے کا بہت بہت شکریہ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد