 |  آصف زرداری کی رہائی پر پیپلز پارٹی کے کارکن |
پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے پیر کے روز پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیرِ اعظم بےنظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری کی آخری مقدمے میں بھی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ گزشتہ آٹھ برس سے زیادہ عرصہ سے مسلسل قید آصف علی زرداری پر قتل اور بدعنوانی کے الزامات کے تحت ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ مقدمات درج کیے گئے تھے۔ ان میں کچھ مقدمات میں وہ رہا کیے جاچکے تھے تاہم انہیں دوسرے مقدمات کے تحت گرفتار کیا جاتا رہا۔ اب سپریم کورٹ نے باقی مقدمات میں بھی ان کی ضمانت منظور کرلی ہے۔ وزیرِ اطلاعات شیخ رشید نے بھی اسے ایک خوش آئند قدم قرار دیا ہے اور کہا کہ حکومت اس فیصلے کا احترام کرتے ہوئے انہیں قانونی کاروائی کے بعد رہا کردے گی۔ آپ اس پر کیا کہتے ہیں؟ کیا یہ فیصلہ انصاف کے تقاضوں کے مطابق کیا گیا ہے یا ضرورت کے تحت؟ کیا آصف کی رہائی کے نتیجے میں موجودہ حکومت اور پیپلز پارٹی کے تعلقات بہتر ہوں گے؟ آپ کی رائے اب یہ فورم بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
ندیم ملک، پیرس، فرانس: یہ کیسا قانون ہے، ایک وی آئی پی کا مقدمہ آٹھ سال چلا ہے اور ابھی تک وہ مکمل بری نہیں کیا گیا۔ اگر غریب آدمی ہوتا تو کب کا جیل میں مر چکا ہوتا۔ پہلے ملک کا قانون ٹھیک کریں، فیصلے بعد میں کیجیےگا۔غلام مصطفےٰ بلوچ، بریمن، جرمنی: اور بھی بہت کچھ ہونے والا ہے، اس سال کے ابھی انتالیس دن باقی ہیں۔ پرویز احمد میمن، رانی پور، سندھ: یہ ایک بہت اچھا فیصلہ ہے کیونکہ ملک میں جتنا سیاسی انتشار کم ہوگا اتنا ملک ترقی کرے گا اور انڈیا کے ساتھ اچھی بات چیت کر سکے گا۔ امتیاز محمود، برطانیہ: جمہوریت کے لیےامریکہ کےدباؤ کی وجہ سے ملک کی دو بڑی سیاسی طاقتوں میں سے ایک کوتو بہرحال سامنے لانا تھا۔ اسلام سے قربت کی وجہ سے نواز شریف کو تو نہیں لایا جاسکتا تھااس لیے سیکولر پیپلز پارٹی کو ترجیح دی گئی ہے۔ برہان صدیقی، نیویارک، امریکہ: یہ پاکستان کی تاریخ ہے کہ سب سے بڑے اور سب سے زیادہ بدعنوان مجرموں کو سب سے زیادہ رعایت دی جاتی ہے اورآصف زرداری عرف’مسٹر ٹین پرسینٹ‘ کے سلسلہ میں بھی اس روایت کو زندہ رکھا گیا ہے۔ پاکستان کے بدعنوان ترین شخص کی رہائی بہرحال کسی ڈیل کا نتیجہ ہی ہے۔ حکومت چاہے جو کہے لوگ یقین نہیں کرسکتے۔ حکومت نے آصف کو سپریم کورٹ سے ضمانت دلوانے کا راستہ صاف کر دیا ہے۔ ممتاز احمد ملک، لندن، برطانیہ: آصف نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ مضبوط اعصاب کے مالک ہیں۔ وہ بے نظیر بھٹو کے شوہر اور ذوالفقار علی بھٹو کے داماد کہلانے کے حقدار ہیں۔ ہم ان کی کامیابی کے لیے دعاگو ہیں۔ آصف منہاس، ٹورانٹو، کینیڈا: جو بھی ہوا اچھا ہوا، چاہے کسی ڈیل کے نتیجے میں ہی ہوا ہو۔ان کواتنی دیر حراست میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ کبیر احمد، بلجیم: آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟ ویسے زرداری صاحب کو گھر میں عجیب لگے گا کیونکہ جو آسائشیں انہیں جیل میں حاصل تھیں وہ شاید گھر میں نہ مل سکیں۔ کرن جبران، واٹرلو، کینیڈا: آصف زرداری کے لیے تو ایک ہی بات یاد آتی ہے، ’جن کے آنگن میں امیری کا شجر لگتا ہے، ان کا ہر عیب زمانے کو ہنر لگتا ہے‘۔ صنم نورانی، جامشورو: ہمیں تو ڈر ہے کہ رہا کرنے کے بعد کہیں آصف کو کسی نام نہاد حادثے میں مار دیا جائے گا، مرتضےٰ بھٹو کی طرح۔ میرا آصف کویہی مشورہ ہے کہ وہ ملک چھوڑ جائیں۔ رؤف امتیاز، کینیڈا: یہ سب ایک ڈیل ہے۔ اگر حکومت اتنی ہی انصاف پسند ہے تو مخدوم جاوید ھاشمی پر جھوٹے مقدمات بھی ختم کرے۔ الیاس بنگش، ٹورانٹو، کینیڈا: آصف زرداری اگر جیل میں تھے تو اپنے مقاصد کے لیے تھے۔جب وہ جیل گئے تھےتب کافی لوگ قتل ہو رہے تھے، ان کو جان بچانے کے لیے ایک محفوظ جگہ چاہیے تھی۔ پاکستان آصف جیسے لوگوں کے لیے بہت اچھی جگہ ہے، جب مناسب سمجھا باہر آگئے جب حالات برے ہوئے اندر چلے گئے۔ خلیل رحمٰن، میرپورخاص: پیپلز پاٹی نے ہمیشہ فوج کے ساتھ ڈیل کی ہے اور اس دفعہ بھی یہی ہوا ہے۔ وہ ہمیشہ دوسروں کو الزام دیتی ہے لیکن خود فوج اور امریکہ کے ساتھ ڈیل کر لیتی ہے۔ نام نہاد لبرل لوگ ہمیشہ پارٹی کی اس قسم کی حرکات کو بھول جاتے ہیں۔ فراز قریشی، کراچی: میرے خیال میں آصف علی زرداری بہت عقلمند آدمی ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جب وہ باہر آئیں گے تو مرتضےٰ بھٹو کے جیالے ان کو مار دیں گے یا بی بی ان کو کیش کرا لےگی اپنے بھائی کی طرح۔ بہت خوب آصف زرداری، آپ اس وقت تک محفوظ ہیں جب تک جیل میں ہیں۔ عرفان عنایت، سُمبریال: موجودہ حکومت کے سابقہ اقدامات سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے اس نے جو بھی کیا اپنی کرسی کے تحفظ کے لیے کیاہے۔ یہ کوئی عوامی حکومت تو ہے نہیں، ایک قبضہ گروپ ہے جو اپنا اقتدار برقرار رکھنے کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہے۔ صوبیہ شکیل، نیویارک، امریکہ: اب دیکھیں نواز اینڈ گروپ کو کب معافی ملتی ہے۔ جاوید، جاپان: صرف زرداری کیوں؟ جیلوں میں بے شمار ایسے لوگ بند پڑے ہیں جو یہ بھی نہیں جانتے کہ ان پر الزام کیا ہے۔ واہ واہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عدالتوں کا انصاف! محمد احمدظفرانبالوی، فیصل آباد: ایسے فیصلوں سے ایک عام آدمی کی صحت پر کیا فرق پڑ سکتا ہے۔ یہ سب اوپر والے طبقے کی ھیرا پھیری ہے۔ عطاءالقدوس طاہر، کینیڈا: ’مسٹر ٹین پرسینٹ‘ کو رہائی مبارک ہو۔ امید ہے وہ آئندہ کمیشن میں احتیاط کریں گے۔ لگتا ہے پیپلز پارٹی بھی قائداعظم لیگ بننے کی تیاری میں ہے۔ محمد عامر خان، کراچی: آصف تو باہر آگئے اب بی بی کو اپنی پیپلز پارٹی کی تاحیات چئرپرسن ہونے کی خیر منانی چاہیے۔شاید آصف زرداری کا اگلا شکار بےنظیر ہی ہوں، وہ انہیں ہٹا کر خود چیرمین بن جائیں کو مشرف صاحب کو ڈیل سے پورا پورا فائدہ دلوائیں۔ آصفہ رشید، بہاولنگر: سب ڈرامہ ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ حکومت کو ہوا کیا ہے۔مجھے تو لگتا ہے پارٹی کے حالات بہتر ہوں نہ ہوں ملک کے حالات ضرور خراب ہوں گے۔ میں ملک کے حکمرانوں سے مکمل مایوس ہوچکا ہوں۔ ندیم شیخ، لاہور: عام لوگوں کے لیے بہتری کی کوئی امید نہیں، صرف بڑے لوگوں کی دفعہ ڈیل ہوتی ہے۔ مصدق حسین طوری، کرم ایجنسی: جو ظلم آصف زرداری کے ساتھ ہوا ہے وہ شاید کسی دوسرے کے ساتھ نہیں ہوا لیکن آخر آصف کی جیت ہوئی ہے۔نواز شریف صرف آصف سے انتقام لینا چاہتے تھے۔ فرید خان، الخوبر، سعودی عرب: یہ صرف ایک سیاسی فیصلہ ہے وردی بچانے کے لیے۔جیسا ہی اےآرڈی نے وردی کے خلاف تحریک کا اعلان کیا آصف کو رہا کردیا گیا۔ دیکھ لیجیے گا اب پیپلز پارٹی اے آر ڈی کی حمایت کرنا بند کر دے گی۔ سعید احمد چشتی، پاکپتن : اس سے جمہوریت نواز لوگوں کو بہت خوشی ہوگی جبکہ آمریت کے پروردہ لوگ پریشان ہوں گے۔ اب نواز شریف اور بے نظیر کو بھی واپس آنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ اسی میں ملک کا فائدہ ہے۔ حمود حسن سید، کراچی: یہی شخص کبھی ’مسٹرٹین پر سینٹ‘ کے نام سے مشہور تھا۔ یہ پرویز مشرف کی ایک اور حماقت ہے۔
 | اگلا شکار؟  آصف تو باہر آگئے اب بی بی کو اپنی پیپلز پارٹی کی تاحیات چئرپرسن ہونے کی خیر منانی چاہیے۔شاید آصف زرداری کا اگلا شکار بےنظیر ہی ہوں۔  محمد عامرخان، کراچی |
جاویداقبال ملک، چکوال: آصف صاحب نے بہرحال یہ ثابت کردیا ہےکہ وہ ثابت قدم رہے ہیں۔ آٹھ سال ’اندر‘رہنا کوئی آسان کام نہیں۔ اب دعا کریں وہ ’مسٹر بیس فیصد‘ نہ بن جائیں۔عابد خورشید، کیوبیک، کینیڈا: زرداری کی ہمت اور صبر نے ثابت کر دیا ہے کہ ان کی رہائی کسی ڈیل کا نتیجہ نہیں ورنہ نواز شریف تو چار دن قید نہ کاٹ سکتے۔ آصف کی عظمت کو سلام۔ ہما کاشف، کراچی: لگتا ہے یہ ایک ڈیل کا ہی نتیجہ ہے ورنہ حکومت ان کو ایک نئے مقدمے میں پکڑ سکتی ہے جیسا ماضی میں ہوا ہے۔ وردی کے خلا ف تحریک کو ختم کرنے کی ڈیل۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔ شاید ہمیں الطاف بےنظیر بہن بھائی کی طرز پر مشرف بے نظیر بہن بھائی کا نعرہ بھی سننے کو ملے۔
 | انڈہ یا بچہ  ’شیر بچے دیتا ہے یہ انڈے‘ ایک استاد نے پوچھا۔ بچے نے کہا کہ شیر جنگل کا بادشاہ ہے، اس کی مرضی انڈا دے یا بچہ۔ ہمارے ہاں گرفتاری یا رہائی کبھی میرٹ پر ہوئی ہے؟  اصغرخان، چین |
سلمان رضا، کینیڈا: جب ہر روز پاکستان کی عدالتوں میں رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے ملزموں کی ضمانتیں منظور ہو جاتی ہیں تو زرداری صاحب کی ضمانت، اور وہ بھی آٹھ سال بعد،ہونےمیں کیا حرج ہے؟اصغر خان، چین: ’شیر بچے دیتا ہے یہ انڈے‘ ایک استاد نے پوچھا۔ بچے نے کہا کہ شیر جنگل کا بادشاہ ہے، اس کی مرضی انڈا دے یا بچہ۔ ہمارے ہاں گرفتاری یا رہائی کبھی میرٹ پر ہوئی ہے؟ ارسلان قریشی،جدہ، سعودی عرب: یہ آصف زرداری کی حکومت کے ساتھ کسی ڈیل کا نتیجہ ہے۔ یہ سب کچھ مشرف اپنی وردی بچانے کے لیے کر رہے ہیں۔ رحمت اللہ کرد، کوئٹہ: صدر صاحب نے متحدہ مجلس عمل سے ڈر کر اور ان سے سودہ بازی میں ناکامی کے بعد آصف کو رہا کیا ہے۔ اچھی بات ہے مگر لوگوں کا عدالتوں پر سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔ لوگوں کو پتا لگ گیا ہے کہ کسی بھی بات پر ڈیل ہو سکتی ہے۔ فیاض خان، اٹک: حکومت نے پیپلز پارٹی کو اپنے خلاف جاری ایم ایم اے کی تحریک سے الگ کرنے کے لیے یہ چال چلی ہے۔ حکومت کی پوری کوشش ہے کہ اس تحریک کے حصے بخرے کر دیے جائیں۔ اس کے لیے حکومت نے یہ ناجائز حربہ استعمال کیا ہے۔ رانا خان، ٹورانٹو، کینیڈا: میرا خیال ہے آصف پاکستان کے اگلے وزیر اعظم ہوں گے۔ جیل کے آٹھ سالوں نے انہیں ایک کامیاب سیاستدان بنا دیا ہے۔ گڈ لک آصف! علی رضا، امریکہ: مجھے پتا ہے بہت سے لوگ اسے ایک ڈیل قرار دیں گے لیکن میرا ان سے سوال ہے کہ کیا یہ بھی ایک ڈیل تھی کہ گذشتہ آٹھ برسوں میں تین حکومتیں آصف زرداری کے خلاف ایک مقدمہ بھی ثابت نہ کر سکیں۔ یہ صرف ایک شخص کی کامیابی نہیں بلکہ جمہوریت کی کامیابی ہے۔ شاہدہ اکرام، ابوظبی، عرب امارات: کتنی عجیب بات ہے کہ آٹھ سال ایک شخص جیل میں رہا، اس پر کئی مقدمات قائم کیےگئے اور ایک دن اسے رہا کر دیاگیا۔ کیا شاندار نظام ہے ہمارا۔ جب ایک با اثر آدمی کے بارے میں فیصلہ کرنے میں آٹھ سال لگ سکتے ہیں تو ایک عام آدمی کوتو کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے۔ یہ رہائی سوفیصد ایک ڈیل ہے۔ اکرم ساندھو، ایٹلانٹا، امریکہ: اگر نظریہ ضرورت کے تحت اسمبلیاں توڑی جا سکتی ہیں تو زرداری کاچھوٹ جانا کوئی بڑی بات نہیں۔ ڈاکٹر ایوب شیخ، کراچی: پاکستان میں معصوم لوگوں کو زیرِ حراست رکھنے پر کوئی طریقہِ کار ہونا چاہیے۔ آصف زرداری، ان کی بیوی اور بچے پچھلے آٹھ برس سے ایک دوسرے سے دور رہے۔ اب انہیں رہا کردیا گیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس کا ازالہ کیا جائے گا۔ یہ شخصی آزادی کے ضمن میں قانون میں ایک خلاء کے مترادف ہے۔ راحیل سرور، ملتان: میری رائے میں یہ مشرف کی ایک چال ہے کہ وہ ایم ایم اے اور پی ایم ایل این کو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ پی پی پی حکومت کے ساتھ ڈیل کر رہی ہے۔ تاکہ وہ وردی کے مسئلے پر اے آر ڈی کے اتحاد کو توڑ سکیں۔ تاہم میرا خیال ہے کہ ایم ایم اے اور اے آر ڈی اس چال کو سمجھتے ہیں اور حکومت کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ سب کو معلوم ہے کہ زرداری کا اس بدعنوانی سے کوئی تعلق نہیں تھا اور اگر پاکستان کی عدلیہ متعصب نہ ہوتی تو انہیں آٹھ سال پہلے رہا کردینا چاہیے تھا۔ بہر حال وہ جب جیل میں تھے تب بھی ایک ہیرو تھے اور جب جیل سے باہر ہوں گے تو بھی ایک ہیرو رہیں گے۔ سکندر لاکھو، گھوٹکی: وہ آٹھ سال سے جیل میں ہے اور ان پر کبھی جرم ثابت نہیں ہوا تو آزادی ان کا حق ہے۔ محمد اسامہ، امریکہ: ہمیں آصف زرداری سے ہمدردی کرتے ہوئے یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ان کے دور میں عام آدمی اور کاروباری حضرات کا گلا کیسے دبایا گیا۔ کراچی کا صنعتی حصے سائٹ زرداری صاحب کے دنوں میں صحرا میں بدل گیا تھا۔ جو چیز مجھے بری طرح خوف زدہ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ کیا ہم بھٹو زرداری کے ایک اور دورِ حکومت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اگر یہ واقعی سچ ہے تو میں ملک سے باہر ہی بہتر ہوں۔  | خطرے کے تحت  جب جنرل صاحب کو خطرہ محسوس ہوا تو انہوں نے سپریم کورٹ کو زرداری کی رہائی کا حکم دے دیا۔  فدا حسین، ٹورنٹو، کینیڈا |
فدا حسین، ٹورنٹو، کینیڈا: جب جنرل صاحب کو خطرہ محسوس ہوا تو انہوں نے سپریم کورٹ کو زرداری کی رہائی کا حکم دے دیا۔ مجھے ان عدالتوں پر کوئی بھروسہ نہیں۔ تاہم زرداری کی جدوجہد کو سلام۔اطہر، علی پور: جناب ہمارے ملک میں جو بھی فیصلہ ہوتا ہے وہ نظریہِ ضرورت کے تحت ہی ہوتا ہے۔ اگر زرداری صاحب بےگناہ تھے تو ان کو آٹھ سال تک کس جرم کی سزا دی گئی؟ شاہد ظفر، کینیڈا: اگر قتل اور بدعنوانی کے تحت آصف زرداری کو جیل میں بند کیا گیا تھا تو میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے یہ پوچھتا ہوں کہ پورے کے پورے اتفاق گروپ کو کیوں جدہ روانہ کردیا گیا۔ اللہ ورائیو بوزدار، گھوٹکی: یہ ان کا بنیادی حق تھا۔ وہ پہلے بھی آزاد ہوسکتے تھے لیکن عدالت کا حالیہ فیصلہ بہت اچھا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ آصف علی زرداری پاکستان کی سیاست میں ایک اہم کردار ادا کریں گے اور پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لیے ہم ان کے کردار کے منتظر ہیں۔ محمد سراج الاسلام، پشاور: یہ پرویز مشرف کی ضرورت تھی اور یہ صرف رشوت ہے جس کے ذریعے پی پی پی کو ایم ایم اے کی مشرف کے خلاف ایجی ٹیشن سے علیحدہ کیا جارہا ہے۔ ندیم پتافی، حیدرآباد: میرا خیال ہے کہ یہ حکومت کا ایک بہت اچھا فیصلہ ہے لیکن یہ دراصل ایک ’ڈیل‘ ہے۔ محمد انورچوہدری، سعودی عرب: یہ سوائے ’ڈیل‘ کے کچھ نہیں۔ یوسف، لاہور: یہ فیصلہ ضرورت کے تحت کیا گیا ہے اور یہ پاکستان میں بدعنوانی کا بڑا ثبوت ہے۔  | سیاست دان ہی کیوں؟  جرنیلوں نے ملک کو توڑا، بدعنوانی کی تمام حدود پار کیں مگر ان کو تو آٹھ دن کے لیے بھی کبھی جیل میں نہیں رکھا گیا۔  علی اطہر، ملتان |
علی اطہر، ملتان: پتہ نہیں ہمارے ملک میں اچھے فیصلے اتنی دیر سے کیوں ہوتے ہیں۔ جرنیلوں نے ملک کو توڑا، بدعنوانی کی تمام حدود پار کیں مگر ان کو تو آٹھ دن کے لیے بھی کبھی جیل میں نہیں رکھا گیا۔ جب کہ ایک سیاست دان کو یہ سب جھیلنا پڑا۔ محمد کریم علی خان، امریکہ: یہ سب کسی منصوبہ بندی کے تحت اور جنرل مشرف کی مرضی کے ساتھ ہوا ہے۔ محمد عمر، سیالکوٹ: آصف زرداری کو آٹھ سال غیر قانونی حراست میں رکھ جانے پر ریاست کے خلاف ہرجانی کے دعویٰ کردینا چاہیے۔ |