BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Tuesday, 21 September, 2004, 17:00 GMT 22:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
روبرو: ایم ایم اے کی شریعت
کفایت اللہ نبی خیل ایک صحافی ہیں اور پشاور میں ایک نیوز ایجنسی سے وابستہ ہیں۔ ان کا تعلق بنیادی طورپر افغانستان سے ہے لیکن گزشتہ کئی برس سے وہ پشاور میں مقیم ہیں۔

وہ متحدہ مجلس عمل کی جانب سے سرحد میں شریعت کے نفاذ کے لیے کی گئی کوششوں سے غیرمطمئن ہیں اور کہتے ہیں کہ ایم ایم اے عوام کے انکھوں میں دھول جھونک رہی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ایم ایم اے نے اس سلسلے میں عملی اقدامات نہ کیے تو وہ اگلا الیکشن نہیں جیت سکے گی۔

ناصر مہمند کا تعلق بھی پشاور سے ہے۔ وہ بھی صحافی پیں اور جیو ٹی وی پشاور کے نمائندے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں ایک مخصوص لابی صوبائی حکومت کو بدنام کرنے پر تلی ہے۔

اس گفتگو کا اہتمام بی بی سی کے رفعت اللہ اورکزئی نے کیا۔

کفایت اللہ نبی خیل

News image
کفایت اللہ نبی خیل

تہکال پایان، پشاور
متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کی دو ہزار دو کے انتخابات میں کامیابی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ مذہبی جماعتوں نے امریکہ کی جانب سے گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد افغانستان پر حملے کی بھرپور مخالفت کی تھی۔

اس کے علاوہ ایم ایم اے نے انتخابی مہم کے دوران لوگوں سے شریعت کے نام پر ووٹ لیا اور یہ وعدہ کیا کہ وہ برسرِ اقتدار آ کر ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کو یقینی بنائے گی۔ لیکن اس نے محض برائے نام شریعت بل سرحد اسمبلی سے پاس کروایا اور عملاً اب تک کچھ نہیں کیا ہے۔

شراب نوشی اور فحاشی اب بھی پہلے کی طرح جاری ہے۔ سنیما گھروں کے سامنے سے تو بورڈ ہٹ گئے لیکن اندر کوئی پابندی نہیں ہے۔

وزیراعلیٰ سرحد نے حلف اٹھاتے ہی اپنی پہلی پریس کانفرنس میں اس بات کا اعلان کیا تھا کہ پشاور شہر کے اندر پپبلک ٹرانسپورٹ میں میوزک سننے پر پابندی عائد ہوگی۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ گانوں پر پابندی لگانے کا غریب عوام پر کیا اثر پڑے گا؟

ہمارے صوبے میں غربت عام ہے ، بیروزگاری اور مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ امن و امان کا بھی فقدان ہے۔ ہم سب مسلمان ہیں اور ہمیں اسلام سے بھی انکار نہیں لیکن پہلے ان چیزوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہیں جو اکثریت کے مسائل ہیں۔

ایم ایم اے نے غیر اہم چیزوں کو پکڑ لیا ہے اور یہی ان کی ناکامی کی وجہ بھی ہے۔ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر ایم ایم اے نے سرحد میں شریعت کے سلسلے میں عملی اقدامات نہ کیے تو اگلے انتخابات میں شکست ان کا مقدر ہوگی۔

ناصر مہمند

News image
ناصر مہمند

پشاور صدر
جب سے صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت قائم ہوئی ہے تب سے ایک مخصوص لابی حکومت کو ناکام ثابت کرنے کے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہی ہے اور حکومت کے فلاحی کاموں میں بھی کیڑے نکالنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔

ایم ایم اے کی حکومت نے برسراقتدار آتے ہی اپنے منشور کے مطابق نفاذ شریعت کو اولین ترجیح دی اور سرحد اسمبلی سے شریعت بل متفقہ طور پر منظور کروایا جبکہ حسبہ بل کی منظوری اب حکومت کے ایجنڈے پر سرفہرست ہے۔

صوبائی حکومت کی جانب سے حال ہی میں نظام صلواۃ کے قیام سے جہاں مسلمانوں کو ایک ضروری فرض کی ادائیگی میں سہولت ملے گی وہاں معاشرے میں نظم وضبط پیدا ہوگا، کاروبار میں ایمانداری اور لوگوں میں خوف خدا پیدا ہوگا۔

تاہم اس حوالے سے بعض لوگ خصوصاً انگریزی پریس حکومت کے پیچھے پڑگیا ہے اور کوئی اسے طالبانائزیشن قرار دے رہے رہا ہے تو کوئی اسے دین میں زبردستی کا عنصر گردانتا ہے۔

اب ہم بلاسود بنکاری کو ہی لیتے ہیں یہ بات سب جانتے ہیں قرآن میں سود پر اصرار کرنے والوں کو اللہ تعالی سے جنگ کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔

متحدہ مجلس عمل نے اس سلسلے میں بھی اپنی ذمہ داری نبھانے کی کوشش کی ہے اور اپنے زیرکنٹرول بنک آف خیبر میں بلاسود بنکاری متعارف کرا دی ہے۔

ایم ایم اے کی حکومت قائم ہونے کے بعد جہاں دوسرے شعبوں کے لیے کمیشن قائم کیےگئے وہاں تعلیمی شعبے میں بھی اصلاحات کی گئیں۔ ماہرین کے ایک کمیشن اپنی رپورٹ میں تعلیم خصوصاً تعلیم نسواں کے فروغ کے لیے چند تجاویز دی ہیں جس میں خواتین میڈیکل کالج ، خواتین میڈیکل یونیورسٹی اور دیگر اداروں کا قیام شامل ہے۔

اس کے علاوہ ایم ایم اے کے وزراء نے کمیشن اور کرپشن کے کلچر کا خاتمہ کر دیا ہے۔ وزراء کے دفاتر میں اب ان عناصر کا داخلہ تک بند ہے جو ماضی میں صاحبان اقتدار کے گرد منڈلاتے اور تبادلوں، تقرریوں اور پلاٹوں اور پرمٹوں کے بازار لگاتے تھے۔

دفاتر میں باجماعت نماز کا اہتمام کیا جاتا ہے اور بلا لحاظ عہدہ و مرتبہ اور سماجی رتبہ ہر ایک کی بات غور سے سنی جاتی ہے۔

خواتین کے لیے الگ میڈیکل کالج اور خواتین یونیورسٹی کے قیام کے علاوہ صوبہ میں سورہ جیسی رسم کو ختم کرنا اور غیرت کے نام پر قتل کرنے والے کے خلاف بلا کسی رعایت کے قتل کا مقدمہ درج کرنا یقیناً اس حکومت کے ایسے کارنامے ہیں جن کی ان سے توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔

آپ کی رائے

سید یاسر احمد، پاکستان:
اللہ کا شکر ہے کہ دونوں صحافی حضرات اس بات پر متفق ہیں کہ ملک میں اسلامی نظام ہونا چاہیے۔ جہاں تک غریب لوگوں کے پیٹ بھرنے کا تعلق ہے تو جب تک وفاقی حکومت مہنگائی کم نہ کرے، ایم ایم اے کی حکومت یہ کام نہیں کرسکتی۔

عنایت خان، دبئی، متحدہ عرب امارات:
ایم ایم اے اس وقت تک شریعت کا نفاز نہیں کر سکتی جب تک مرکزی حکومت اس کے ساتھ تعاون نہیں کرتی اور پاکستان کے لوگ جانتے ہیں کہ جنریلوں کا مفاد شریعت میں نہیں ہے۔ لہًذہ شریعت کو بھول جائیں۔

نوید احمد، جہلم، پاکستان:
ایم ایم اے سرحد جیسے پسماندہ صوبہ میں بہت اچھا کام کر رہی ہے۔ محدود اختیارات کے باوجود انھوں نے واپڈا کے خلاف بقایاجات کا مقدمہ جیتا، صوبائی وزراء میں عوامی کلچر متعارف کیا، بلاسود بنکاری شروع کی، اور امن ِعامہ کی صورتِحال بہتر کی۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ اقدامات سیکولر لوگوں کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹک رہے ہیں۔

محمدعلی،ٹورنٹو، مریکہ:
دونوں حضرات مسلمان ہیں اسلیے دونوں کو چاہیے کہ صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کو سامنے رکھتے ہوئے لوگوں کی رہنمائی کریں۔

عصمت اللہ، پاکستان:
اسلام مخالف عناصر ایم ایم اے کوبدنام کر رہے ہیں۔ آج صوبہ سرحد میں ہر شعبہ میں حالات گزشتہ حکومتوں سے بہتر ہیں۔

کرن جبراب، ٹورنٹو، کینیڈا:
اسلام نام ہے امن کا، اور یہ مذہب دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے آیا تھا۔ مگر آج اسلام کا شور مچانے والے اپنے گھر کی حدود میں بھی امن قائم کرنے میں ناکام ہیں۔

احتشام، پشاور، پاکستان:
جناب ناصر مہمند صاحب، آپ بالکل غلط ہیں۔ ایم ایم اے کی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔

عفاف اظہر، کینیڈا:
کیسی شریعت اور کہاں کا اسلامی نظام۔ جناب جہاں پر کسی کو یہ بھی نہیں پتا کہ شریعت ہوتی کیا ہے؟ اسلام کس بلا کا نام ہے؟ وہاں باقی سب باتیں بےمعنی ہیں۔ اسلام کے نام پر تو سب شور مچاتے ہیں۔ لیکن ان سے کوئی یہ تو پوچھے کہ اسلام ہوتا کیا ہے۔ پاکستان تو درکنار دنیا کے کسی ملک میں بھی صحیح معنوں میں اسلام نہیں ہے۔ اس بات سے بھی سب آگاہ ہیں کہ آج اسلام کے نام پر کیا کچھ نہیں ہو رہا۔

عبدالقدوس خان، یو اے ای:
کیا شریعت کبھی کسی بِل کے ذریعے بھی آئے گی؟ گانا بند کر دینے سے کیا غریب کا پیٹ بھرے گا؟ ایم ایم اے نے صرف کاغذی کام کیا ہے عمل نہیں کیا۔

ملک شان، لاہور:
بی بی سی والوں کو کیا ضرورت ہے کہ وہ متنازعہ مسائل کو اٹھائے؟ یہ ایک سازش ہے جو بی بی سی کی فطرت میں شامل ہے یعنی عیسائی مسلم دشمنی۔

اظہار صدیقی، سعودی عرب:
مجھے مہمند صاحب کی بات سے اتفاق ہے کیونکہ ایم ایم اے نے چند بہت اہم کام کیے ہیں۔ سرحد میں امن و امان کی صورت حال دیگر صوبوں کے مقابلے میں کہیں بہتر ہے۔ یہ لوگ دیگر صوبائی حکومتوں پر تنقید کیوں نہیں کرتے؟ میں مانتا ہوں کہ ایم ایم اے اب بھی بہت کام کر سکتی ہے لیکن وہ صرف اسی وقت ممکن ہے اگر مرکزی حکومت اس بات کی اجازت دے۔

محمد فدا، کینیڈا:
کتنی عجیب بات ہے کہ دونوں صاحبان صحافی ہیں اور ایک ہی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور دونوں ہی پشاور میں کام کرتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ ایک پاکستان کا شہری ہے اور دوسرا ایک پناہ گزین۔

تلاوت بخاری، اسلام آباد:
یہ سیاست باز اور فرقہ باز اسلام کے نام پر فساد پھیلا کر اپنے مفادات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جہاں تک شریعت کا سوال ہے تو ایسی کوئی متفقہ چیز تو سرے سے ہی نہیں۔ اور رہی بات قران کی تو اس کی بھی طرح طرح کی انٹرپریٹیشنز کی ہوئی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد