روبرو: ایم ایم اے کی شریعت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کفایت اللہ نبی خیل ایک صحافی ہیں اور پشاور میں ایک نیوز ایجنسی سے وابستہ ہیں۔ ان کا تعلق بنیادی طورپر افغانستان سے ہے لیکن گزشتہ کئی برس سے وہ پشاور میں مقیم ہیں۔ وہ متحدہ مجلس عمل کی جانب سے سرحد میں شریعت کے نفاذ کے لیے کی گئی کوششوں سے غیرمطمئن ہیں اور کہتے ہیں کہ ایم ایم اے عوام کے انکھوں میں دھول جھونک رہی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ایم ایم اے نے اس سلسلے میں عملی اقدامات نہ کیے تو وہ اگلا الیکشن نہیں جیت سکے گی۔ ناصر مہمند کا تعلق بھی پشاور سے ہے۔ وہ بھی صحافی پیں اور جیو ٹی وی پشاور کے نمائندے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں ایک مخصوص لابی صوبائی حکومت کو بدنام کرنے پر تلی ہے۔ اس گفتگو کا اہتمام بی بی سی کے رفعت اللہ اورکزئی نے کیا۔
تہکال پایان، پشاور اس کے علاوہ ایم ایم اے نے انتخابی مہم کے دوران لوگوں سے شریعت کے نام پر ووٹ لیا اور یہ وعدہ کیا کہ وہ برسرِ اقتدار آ کر ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کو یقینی بنائے گی۔ لیکن اس نے محض برائے نام شریعت بل سرحد اسمبلی سے پاس کروایا اور عملاً اب تک کچھ نہیں کیا ہے۔ شراب نوشی اور فحاشی اب بھی پہلے کی طرح جاری ہے۔ سنیما گھروں کے سامنے سے تو بورڈ ہٹ گئے لیکن اندر کوئی پابندی نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ سرحد نے حلف اٹھاتے ہی اپنی پہلی پریس کانفرنس میں اس بات کا اعلان کیا تھا کہ پشاور شہر کے اندر پپبلک ٹرانسپورٹ میں میوزک سننے پر پابندی عائد ہوگی۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ گانوں پر پابندی لگانے کا غریب عوام پر کیا اثر پڑے گا؟ ہمارے صوبے میں غربت عام ہے ، بیروزگاری اور مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ امن و امان کا بھی فقدان ہے۔ ہم سب مسلمان ہیں اور ہمیں اسلام سے بھی انکار نہیں لیکن پہلے ان چیزوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہیں جو اکثریت کے مسائل ہیں۔ ایم ایم اے نے غیر اہم چیزوں کو پکڑ لیا ہے اور یہی ان کی ناکامی کی وجہ بھی ہے۔ میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر ایم ایم اے نے سرحد میں شریعت کے سلسلے میں عملی اقدامات نہ کیے تو اگلے انتخابات میں شکست ان کا مقدر ہوگی۔
پشاور صدر ایم ایم اے کی حکومت نے برسراقتدار آتے ہی اپنے منشور کے مطابق نفاذ شریعت کو اولین ترجیح دی اور سرحد اسمبلی سے شریعت بل متفقہ طور پر منظور کروایا جبکہ حسبہ بل کی منظوری اب حکومت کے ایجنڈے پر سرفہرست ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے حال ہی میں نظام صلواۃ کے قیام سے جہاں مسلمانوں کو ایک ضروری فرض کی ادائیگی میں سہولت ملے گی وہاں معاشرے میں نظم وضبط پیدا ہوگا، کاروبار میں ایمانداری اور لوگوں میں خوف خدا پیدا ہوگا۔ تاہم اس حوالے سے بعض لوگ خصوصاً انگریزی پریس حکومت کے پیچھے پڑگیا ہے اور کوئی اسے طالبانائزیشن قرار دے رہے رہا ہے تو کوئی اسے دین میں زبردستی کا عنصر گردانتا ہے۔ اب ہم بلاسود بنکاری کو ہی لیتے ہیں یہ بات سب جانتے ہیں قرآن میں سود پر اصرار کرنے والوں کو اللہ تعالی سے جنگ کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ متحدہ مجلس عمل نے اس سلسلے میں بھی اپنی ذمہ داری نبھانے کی کوشش کی ہے اور اپنے زیرکنٹرول بنک آف خیبر میں بلاسود بنکاری متعارف کرا دی ہے۔ ایم ایم اے کی حکومت قائم ہونے کے بعد جہاں دوسرے شعبوں کے لیے کمیشن قائم کیےگئے وہاں تعلیمی شعبے میں بھی اصلاحات کی گئیں۔ ماہرین کے ایک کمیشن اپنی رپورٹ میں تعلیم خصوصاً تعلیم نسواں کے فروغ کے لیے چند تجاویز دی ہیں جس میں خواتین میڈیکل کالج ، خواتین میڈیکل یونیورسٹی اور دیگر اداروں کا قیام شامل ہے۔ اس کے علاوہ ایم ایم اے کے وزراء نے کمیشن اور کرپشن کے کلچر کا خاتمہ کر دیا ہے۔ وزراء کے دفاتر میں اب ان عناصر کا داخلہ تک بند ہے جو ماضی میں صاحبان اقتدار کے گرد منڈلاتے اور تبادلوں، تقرریوں اور پلاٹوں اور پرمٹوں کے بازار لگاتے تھے۔ دفاتر میں باجماعت نماز کا اہتمام کیا جاتا ہے اور بلا لحاظ عہدہ و مرتبہ اور سماجی رتبہ ہر ایک کی بات غور سے سنی جاتی ہے۔ خواتین کے لیے الگ میڈیکل کالج اور خواتین یونیورسٹی کے قیام کے علاوہ صوبہ میں سورہ جیسی رسم کو ختم کرنا اور غیرت کے نام پر قتل کرنے والے کے خلاف بلا کسی رعایت کے قتل کا مقدمہ درج کرنا یقیناً اس حکومت کے ایسے کارنامے ہیں جن کی ان سے توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔ سید یاسر احمد، پاکستان: عنایت خان، دبئی، متحدہ عرب امارات: نوید احمد، جہلم، پاکستان: محمدعلی،ٹورنٹو، مریکہ: عصمت اللہ، پاکستان: کرن جبراب، ٹورنٹو، کینیڈا: احتشام، پشاور، پاکستان: عفاف اظہر، کینیڈا: عبدالقدوس خان، یو اے ای: ملک شان، لاہور: اظہار صدیقی، سعودی عرب: محمد فدا، کینیڈا: تلاوت بخاری، اسلام آباد: |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||