BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 April, 2004, 12:43 GMT 17:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چوتھا خط: تاریخ اور جائز حقوق
آمنیہ النجار مصر کے شمالی شہر سکندریہ میں ایک اسکول میں ٹیچر ہیں۔ اورلی نوائے ایک ایرانی نژاد اسرائیلی صحافی ہیں جو یروشلم میں رہتی ہیں۔ دونوں کام کرنیوالی خواتین ہیں، مائیں ہیں، لیکن دونوں کی دنیا تشدد، سیاست اور مذہب کی وجہ سے مختلف ہے۔ بی بی سی نے ان دونوں کا ای میل کے ذریعے رابطہ کرایا۔ یہ اس سلسلے کی چوتھی کڑی ہے۔

چوتھا خط: اورلی اور آمنیہ کی خط و کتابت

ہائے آمنیہ،

اگر تمہارا زور ’جائز حق‘ کے معاملے پر اتنا ہی ہے تو ٹھیک ہے یوں ہی سہی۔ میں اس معاملے سے گریز نہیں کر رہی تھی بلکہ مجھے یہ احساس تھا کہ اس مسئلے پر بحث سے ہم اس موضوع پر آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔

News image
اورلی یروشلم میں ایک صحافی ہیں

میں فلسطینیوں کی جانب سے ریاست کے مطالبے کو ان کا جائز حق تسلیم کرتی ہوں لیکن اس کے ساتھ میں اسرائیل کے وہ جائز دعوے بھی تمہارے سامنے پیش کر سکتی ہوں جو یہودیوں کی تاریخ اور اجتماعی یادوں سے جڑے ہوئے ہیں۔

سو ایک بار پھر ہم دوبارہ جائز حق کی بحث پر آ گئے اور انہیں الزامات اور دلیلوں پر کہ کس کا دعویٰ زیادہ حق بجانب ہے۔

کیا تمہارے علم میں ہے کہ اسرائیلیوں کی ایک بڑی تعداد کے خیال میں صرف یہودی ہی مقدس سرزمین کے جائز مالک ہیں کیونکہ اس بات کا ذکر بائیبل میں کیا گیا ہے۔ مجھے ان لوگوں سے جائز حق کے موضوع پر بحث نہیں کرنی بلکہ میں تو یہ چاہتی ہوں کہ وہ یہ بات سمجھیں کہ فلسطینیوں کا یقین بھی ایسا ہی پختہ ہے اور یہی باہمی سطح پر سمجھوتہ کر لینے کی موزوں ترین وجہ ہے۔

میں مختلف چیزوں کو ان کے صحیح نام سے پکارنے کی تمہاری خواہش سمجھتی ہوں کیونکہ تشدد کی اپنی ایک منفرد جہت اور ہیئت ہوتی ہے اور استعمار کی اپنی ایک علیحدہ انفرادیت اور ہیئت ہے۔ لیکن میرے خیال میں اصطلاحات کو ان کے حقیقی معنوں کی بجائے لوگوں کے نظریات کے حوالے سے بھی سمجھنے کی کوشش کی جائے تو مختلف موقف کے حامل افراد اپنے نظریات پر کاربند رہتے ہوئے بھی باہمی گفت و شنید کر سکنے کے اہل ہو جاتے ہیں۔

’بیان‘ کرنا صرف ایک انٹلیکچوئل قسم کی چیز نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت کو قبول کرنا بھی ہے۔ اس کا مقصد یہ کہنا ہے کہ ’دیکھو میں نے کہانی کو تمہارے نقطۂ نظر سے سنا ہے اور مجھے معلوم ہے کہ یہ تمہارے لئے کتنا اہم اور بنیادی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ میں تم سے متفق نے ہوں لیکن تم بھی اسی حقیقت کا حصہ ہو جس کا میں اور اسی لئے مجھے اور تمہیں مل جل کر اس کا حل ڈھونڈنا ہو گا‘۔

یقیناً اس سب کا ’شناخت‘ کے سوال سے گہرا تعلق ہے۔ میرے خیال میں آپ کی شناخت وہی ہے جیسی آپ طے کرنا چاہیں نہ کہ وہ جو لوگ آپ کے لئے طے کرنا چاہیں۔ تم نے ذکر کیا تھا کہ اسرائیلیوں کی واحد مشترکہ شناخت ان کا مذہب ہے لیکن مجھے اس سے اختلاف ہے۔ میرے خیال میں یہودیت محض ایک مذہب کا نام نہیں۔ یہ مذہب ایسی قوم کو تشکیل دیتا ہے جس کے افراد ایک مخصوص خطے میں سیاسی حق خود ارادیت کی تمنا رکھتے ہیں۔

میں انفرادی سطح پر سیکولر یا دہریہ ہو سکتی ہوں لیکن اگر ہماری روایات اور تاریخی میراث ایک ہے تو میں یہودیوں کا ہی حصہ ہوں۔ تم نے زبان اور تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی شناخت عرب بتائی اور اس اعتبار سے ہمارے لئے یہودیت کو وہی اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہودیوں کی تاریخ اور زبان بھی ایک ہی ہے۔

صرف میں ہی سوال سے گریز نہیں کر رہی بلکہ تم نے بھی میرے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ یورپ کے نازی کیمپوں تک تمہیں کیا چیز لے گئی؟ کیا یہ کیپم دیکھنے کے بعد تم نے عرب اسرائیل تنازعہ اور اس میں جائز حق جیسے معاملوں کو ایک نئی طرح سے دیکھنا شروع کیا؟

امید ہے تم نزلے سے جلد صحت یاب ہو گی اور اگر اس کے لئے تمہیں آرام کی ضرورت ہے تو آرام ہی بہترین ہے۔

جیئو
اورلی


ہیلو اورلی،

مجھے خوشی ہے کہ تم نے میرا موقف سمجھا کہ کسی کی بات سننے اور سمجھنے سے پہلے یہ بات بہت ضروری ہے ہے کہ چیزوں کو ان کے اصل نام سے پکارا جائے۔

میں نے تمہارے سوال سے ہرگز گریز نہیں کیا بلکہ مجھے ایسا لگا کہ میری ای میل طویل ہو گئی ہے (اور بہت سے ایسے سوالات ابھی باقی ہیں جن کے مجھے جوابات دینے ہیں یا پوچھنے ہیں)۔

آمنیہ اسکندریہ میں ٹیچر ہیں
آمنیہ اسکندریہ میں ٹیچر ہیں

میں آشویتز کیپموں تک کیوں گئی؟ کتنا عجیب سوال ہے کیونکہ اس سے یوں لگتا ہے جیسے مجھے وہاں نہیں جانا چاہئے تھا یا مجھ سے تو یہ توقع ہی نہیں کی جا سکتی۔ میرا تو ہمیشہ سے یہ خیال تھا کہ ہر وہ شخص جسے دنیا کی تاریخ جاننے کا تھوڑا سا بھی شوق ہے اسے وہاں جانے کا موقع کبھی نہیں گنوانا چاہئے۔

میرے لئے آشویتز کے کیمپوں کا مطلب جنگ عظیم دوم کے ظلم و تشدد کے علاوہ تاریخی اعتبار سے یورپی جمہوریت اور یورپ کی انسانی اقدار کی ناکامی بھی ہے۔ اس موقف کو عرب اسرائیل تعلقات کے تناظر میں کیسے دیکھا جا سکتا ہے۔ جہاں تک جائز حقوق کا تعلق ہے تو ان دونوں کو جوڑ کر دیکھنا ناممکن ہے لیکن عالمی تاریخ کے طور پر ہم اس سے بہت سے سبق سیکھ سکتے ہیں۔ مردم کشی ایک ’بدی کی مشین‘ کے مترادف ہے اس لئے بہتر یہی ہے کہ ہم اسی تاریخ کو بار بار دہراتے نہ چلے جائیں۔

آج غزہ میں چودہ لوگ ہلاک کر دیئے گئے، اسرائیلی ٹینکوں نے تین گھر ممار کر دیئے اور باوجود مزاحمت کے ایک ایسی دیوار تعمیر کی جا رہی ہے جو بذات خود امن کے عمل کو تباہ کر سکتی ہے۔ ان حالات میں تمہاری نظر میں امن کے لئے کیا تجویز اچھی ہو سکتی ہے؟

امید ہے کہ تمہارا عربی کا پرچہ اچھا ہوا ہو گا۔۔۔

سلام
آمنیہ

آپ کی رائے

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد