قلمی دوست ۔ اورلی اور آمنیہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آمنیہ النجار مصر کے شمالی شہر اسکندریہ میں ایک اسکول میں ٹیچر ہیں۔ اورلی نوائے ایک ایرانی نژاد اسرائیلی صحافی ہیں جو یروشلم میں رہتی ہیں۔ دونوں کام کرنیوالی خواتین ہیں، مائیں ہیں، لیکن دونوں کی دنیا تشدد، سیاست اور مذہب کی وجہ سے مختلف ہے۔ بی بی سی عربِک ڈاٹ کام نے دونوں کا ای میل کے ذریعے رابطہ کرایا۔ جس کی پہلی کڑی حسب ذیل ہے: ہائے آمنیہ! ایک اجنبی سے یہ خط ملنے پر تمہیں عجیب سا محسوس ہوگا، بالکل ویسے ہی جیسے مجھے یہ خط لکھنے میں محسوس ہورہا ہے۔ یہ بہتر ہوگا کہ کچھ ذاتی معلومات سے گفتگو شروع کریں۔
میرا نام اورلی ہے، میں شادی شدہ ہوں، میری دو بیٹیاں ہیں جن کی عمر ساڑھے چار اور ایک سال ہے۔ میں یروشلم میں رہتی ہوں اور ایک نئے اسرائیلی فلسطینی ریڈیو اسٹیشن کیلئے پروڈیوسر کی حیثیت سے کام کررہی ہوں جو تین ہفتوں میں شروع ہونیوالا ہے۔ میں ہِبریو یونیورسٹی میں مشرق وسطی کے معاملات میں ڈگری کے لئے تعلیم بھی حاصل کررہی ہوں۔ جب میں یہ خط لکھ رہی ہوں، عجیب سا محسوس ہورہا ہے کہ ہمارے جیسے دو جغرافیائی پڑوسی ایک دوسرے کو نہیں جانتے، اگر تیسری پارٹی (بی بی سی عربِک ڈاٹ کام) نے یہ سلسلہ نہیں شروع کرایا ہوتا۔ بہرحال۔۔۔ میری پیدائش تہران میں ہوئی تھی، اور انیس سو اناسی کے اسلامی انقلاب کے بعد میں اسرائیل آگئی۔۔۔۔ آج تک میں خود کو اتنا ہی ایرانی محسوس کرتی ہوں جتنا میں اسرائیلی ہوں۔ شایہ یہ تم کو عجیب سا لگے، لیکن میں خود کو دو مختلف دنیاؤں سے منسلک پاتی ہوں: ایران اور اسرائیل۔ کبھی کبھی میں تذبذب میں ہوتی ہوں لیکن شاید ایک تارک وطن ہونے کا مطلب ہی یہی ہے۔ آمنیہ، یہ کافی خوبصورت نام ہے، اس کا معنی کیا ہے؟ بہت کچھ کہنے کو ہے، اس مشترکہ سفر پر۔۔۔ تمہاری مشفق ہیلو اورلی! تہمیں یہ خط لکھ کر میں بالکل تعجب میں نہیں ہوں جسے تم ایک ’مکمل اجنبی‘ کہہ رہی ہو۔ انٹرنیٹ کا شکریہ، ہم (ساری دنیا کے لوگ) اب اجنبی نہیں رہے۔
ایمانداری کی بات تو ہے، مجھے اجنبیت کی امید تھی کیونکہ تم ایک اسرائیلی ہو اور میں ایک مصری۔ تم پہلی اسرائیلی شخص ہو جس سے میں نے اس امید میں رابطہ کیا ہے کہ ہم ایک دوسرے کو جانیں گے۔ لیکن یہاں بھی۔۔۔ ہم آپس کی دوری کی وجہ سے اجنبی نہیں رہے۔ میرا نام آمنیہ ہے، میری عمر پینتیس سال ہے۔ میری ایک فنکار سے شادی ہوئی ہے۔ ہم اسکندریہ میں رہتے ہیں اور ہمارے دو بیٹے ہیں جن کی عمر سات اور دو سال ہے۔ قاہرہ میں امریکن یونیورسٹی سے میں نے سیاسیات میں بی اے اور ایم اے کی ڈِگری حاصل کی ہے۔ ہمیشہ ہی مشرق وسطی کی تاریخ اور سیاست میں میری دلچسپی رہی ہے اور مجھے خوشی ہوئی کہ تم بھی مشرق وسطی کے معاملات کا مطالعہ کررہی ہو۔ اسکندریہ آنے سے قبل میں نے انگریزی ادب میں ڈِگری حاصل کی تھی اور یہاں ایک اسکول میں میں انیس سو ستانوے سے پڑھا رہی ہوں۔ ہمارے بیچ میں کئی مشترکہ باتیں ہیں، ہم کام کرنے والی خواتین ہیں، مائیں ہیں، مشرق وسطی سے تعلق ہے، ہم پڑوسی ہیں۔ ہاں! ایک خلیج ہے جو ہماری دنیا کو بانٹ دیتی ہے۔ یہ خلیج کچھ ایسی ہے جیسے تم ایران اور اسرائیل کے درمیان فرق محسوس کرتی ہو۔ کیا ہم اپنی دنیا میں اس خلیج کو بھر سکتے ہیں؟ ایک ایک بڑا کام ہے، اس میں ماضی کی مشکلات اور تلخ یادداشتوں کو بھولنے کے لئے انسانی حوصلے کی ضرورت ہے۔ ہمیں حقیقت کا سامنا کرنا ہے، ہمارے بیچ امن کا معاہدہ، لیکن امن نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کو ایک بڑے سوالیہ نشان سے دیکھیں گے۔ لیکن مجھ پر یقین کرو، میں اس حقیقت کو پسند نہیں کرتی، لیکن اس کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔ اچھی سی ای میل بھیجنے کا بہت بہت شکریہ۔ میرے نام کا معنی ہے ’ایک دعاء‘ اور میری دعاء ہے کہ ہم اپنے مراسلات سے خوش رہیں۔ دعائیں اورلی اور آمنیہ کے درمیان مراسلات کی یہ پہلی کڑی ہے۔ آپ اپنا ردعمل ہمیں بھیجیں۔ شاہد محمود، ہانگ کانگ: دونوں کی ای میل پڑھ کر تصدیق ہوجاتی ہے کہ باوجود اجنی ہونے کے دونوں ایک دوسرے کو دوستوں کی طرح جاننا چاہتی ہیں۔ ہمرے آج کے اس گلوبل گاؤں میں زیادہ تر لوگ دوسروں کو اور ان کی ثقافتوں کو جاننا چاہتے ہیں۔ بہت شکریہ۔ مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ اگر مختلف ممالک کے لوگ ایک دوسرے کو یوں جان لیں تو مشرقِ وسطیٰ جیسے مسائل کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔ عطا حسین، اسلام آباد: دو مختلف الخیال افراد کی آدھی ملاقات خوش کن ہے کہ اس سے اپنے اپنے خیالات پر نظرِ ثانی کی ضرورت پڑے گی۔ جہاں خارجی دنیا میں فاصلے ختم ہورہے ہیں وہاں داخلی دنیا میں موجود خلیجیں بھی عبور کرنا پڑیں گی۔ یہ سلسلہ جاری رہنے کے قابل ہے۔ محمد ابوبکر ہاشمی، نیوزی لینڈ: ہمیں اپنے ذاتی اعتقادات اور رویوں سے بلند ہونا چاہئے۔ کم از کم ہہمیں اپنی رائے دوسروں پر مسلط ہر گز نہیں کرنی چاہئے جیسے کہ مذہب کی سطح پر۔ میرا خیال ہے کہ مذہبی انتہا پسندی سب سے بڑا گناہ ہے جس کے مسلمان مرتکب ہورہے ہیں۔ اس کا ختمہ ہونا چاہئے اور خود کو اور دوسروں کو اپنی مرضی کی زندگی گزارنے کا حق دینا چاہئے۔ انسانوں سے اپنے تاریخی نقطہِ نظر کی بنیاد پر نفرت نہیں کرنی چاہئے۔ انسانوں سے محبت ہی دنیا کے مسائل اور فاصلوں کا خاتمہ کر سکتی ہے۔ شاہدہ اکرام، متحدہ عرب امارات: مجھے ان دنوں کی نیٹ کے ذریعے ٹلاقات بہت اچھی لگی۔ دنیا میں اس قدر تشدد اور دہشت گردی ہو گئی ہے کہ کہیں سے بھی کوئی اچھی نوید سنائی نہیں دیتی۔ اگر کوئی اچھی بات کرے تو دل کو لگتی ہے۔ دنیا میں امن و سکون کے لئے ایسی کوششیں اور بھی ہوتے رہنا چاہئیں۔ عامر اختر، لاہور: جی ہاں بہت اچھی بات ہے، ایسا ہونا چاہئے۔ طارق خان، کراچی: یہ بہت اچھا میڈیا ہے ایک دوسرے کے ممالک کو جاننے کا۔ محمد آفاق، بریڈ فورڈ: انٹرنیٹ زندہ باد۔ کاش یہ دوستی کا ماحول ہر جگہ ہو تاکہ ہر جگہ امن ہی امن ہو اور ہر ایک امنیہ اور ارولی جیسا دوست بن جائے۔ وسیم، کوئٹہ: بہت اچھا، ایسے ہی پاکستان اور انڈیا کے لوگوں کے درمیان بھی ملاقات ہونی چاہئے۔ غلام حیدر، لاہور: میری دعائیں تم دونوں کیلئے، یہ تمہارے لئے اجنبی ہر گز نہیں۔ دنیا برے لوگوں کے ساتھ ساتھ اچھوں سے بھی بھری پڑی ہے۔ مجھے بہت خوشی ہوئی اور تمہارا شکریہ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||