BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Friday, 19 March, 2004, 17:40 GMT 22:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دوسرا خط: اورلی اور آمنیہ
اورلی اور آمنیہ کی خط و کتابت
اورلی اور آمنیہ کی خط و کتابت
آمنیہ النجار مصر کے شمالی شہر سکندریہ میں ایک اسکول میں ٹیچر ہیں۔ اورلی نوائے ایک ایرانی نژاد اسرائیلی صحافی ہیں جو یروشلم میں رہتی ہیں۔ دونوں کام کرنیوالی خواتین ہیں، مائیں ہیں، لیکن دونوں کی دنیا تشدد، سیاست اور مذہب کی وجہ سے مختلف ہے۔ بی بی سی عربِک ڈاٹ کام نے دونوں کا ای میل کے ذریعے رابطہ کرایا۔ یہ اس سلسلے کی دوسری کڑی ہے۔ اس میں انہوں نے ایک دوسرے سے اپنی ثقافتوں کی بات کی ہے اور یہ سوال اٹھایا ہے کہ آیا یہ حقیقت کی صحیح عکاسی ہے یا نہیں:

دوسراخط: اورلی اور آمنیہ کی خط و کتابت

ہائے آمنیہ،
مجھے تمہاری ای میل پڑھ کر بہت لطف آیا۔ ایک طرح سے اس ای میل نے وہ سکوت توڑا ہے جو ہمارے ارد گرد پھیلا ہے۔ ہمیں اتنی مرتبہ یہ یاد دہانی کروائی گئی ہے کہ غیرملکی، خاص طور پر عرب ہمیشہ ہمیں ناراضگی سے ہی دیکھتے ہیں اس لئے یہ ایک سادہ سا خط وکتابت کا سلسلہ بھی اہم واقعہ میں بدل گیا ہے۔

News image
اورلی یروشلم میں ایک صحافی ہیں

شاید کسی بھی حکومت کے لئے ایسے لوگوں پر حکمرانی کرنا آسان ہوتا ہے جو غیر محفوظ محسوس کرتے ہوں کیوں کہ اس سے حکومت کو اپنے ہر اقدام کا جواز ملتا رہتا ہے۔ لیکن پھر بھی میں پوچھے بغیر نہیں رہ سکتی کہ تمہیں ایک اسرائیلی سے بات کرنا کیسا لگتا ہے؟ جب تم اسرائیل کے متعلق سوچتی ہو تو تمہارے ذہن میں پہلا خیال کیا آتا ہے؟

میرے لئے مصر سب سے پہلے تو ایک عظیم تہذیب کی جائے پیدائش ہے لیکن دوسری سطح پر یہ ایک ایسا وعدہ بھی ہے جو کبھی پورا نہ ہوسکا۔ مصر کے ساتھ امن معاہدے کے بعد لوگوں کی امیدیں بڑھ گئی تھیں اور یہ توقع تھی کہ اس سے ہمارے لئے عرب دنیا کے دروازے کھل جائیں گے، بدقسمتی سےایسا نہ ہوسکا۔

مجھے غلط نہ سمجھنا، مجھے معلوم ہے کہ اسرائیل نے ایسے کئی مواقع گنوائے جو امن کی طرف لے جا سکتے تھے لیکن ایک سطح پر یہ احساس بھی موجود تھا کہ یہ معاہدہ مصر پر ٹھونسا گیا تھا اور یہ کہ یہ مفاہمت کی سچی خواہش کی بجائے ایک سیاسی چال تھی۔ لوگ اسرائیل میں اکثر اس بات کی شکایت کرتے ہیں کہ اگرچہ بہت سے اسرائیلی سیاح مصر جاتے ہیں، لیکن مصر سے تقریباً کوئی سیاح کبھی اسرائیل نہیں آیا۔ مجھے یقین ہے کہ تمہارے نقطہ نظر سے چیزیں یقیناً بہت مختلف ہوں گی اور میں وہ ضرور جاننا چاہوں گی۔

تم نے پوچھا کہ کیا ہماری دنیاؤں کے درمیان مفاہمت ممکن ہے؟ میں اپنے اس یقین پر قائم رہنا چاہتی ہوں کہ ہاں ایسا ہو سکتا ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ اس عمل کو پہلے ثقافتی سطح پر شروع کرنا ہوگا نہ کہ سیاسی سطح پر۔ ہم سب ایک ہی ماحول میں رہتے ہیں اور ایک ہی ذریعے سے جینے کی امنگ حاصل کرتے ہیں اور اگر لوگ پاگلوں کی طرح مغرب کی تقلید کرنا بند کردیں تو یہی ہماری مشترکہ زمین ثابت ہوسکتی ہے۔

لیکن تم مجھے اپنے متعلق کچھ اور بھی بتاؤ؟ تمہارے بچوں کے نام کیا ہیں؟ تمہیں ٹیچر ہونا کیسا لگتا ہے؟ میرا ہمیشہ خیال رہا ہے کہ یہ دنیا کا سب سے مشکل کام ہوگا۔ مجھے تو اپنی بچیوں کو اپنی باتوں پر عمل کروانے میں بھی انتہائی دقت پیش آتی ہے جبکہ نوجوان لوگوں سے بھری ایک جماعت کا تو تصور ہی مجھے ڈرانے کو کافی ہے۔

مجھے سکندریہ کے بارے میں بھی بتاؤ (مجھے اس لفظ کی آواز بہت اچھی لگتی ہے، اس میں کچھ شاہانہ تصور ملتا ہے)؟ میں مصر کے بارے میں جو کچھ جانتی ہوں وہ درسی کتب سے پڑھا تھا۔ مجھے دلچسپی ہے کہ میں وہاں کی روزمرہ کی زندگی کے بارے میں جان سکوں۔

تمہارے اگلے خط کی منتظر
نیک خواہشات کے ساتھ
اورلی


ہیلو اورلی،

صبح تمہاری ای میل پڑھ کر بہت اچھا لگا۔ تم نے کئی ایسے سوالات اٹھائے ہیں جو میرے بھی تھے۔

دراصل مصر میں کسی اسرائیلی سے رابطہ کرنا گناہ جیسا ہے۔ میرے لئے اسرائیل کا ذکر تشدد، کنفیوژن اور ایک بڑے سوالیہ نشان کی علامت ہے۔ مجھے ایک طرح سے یہودیوں سے ہمدردی ہے کیونکہ ان سے بہت لمبے عرصے تک تعصب برتا گیا ہے خصوصاً یورپ میں۔ میں نے وارسا میں یہودیوں کے کیمپ اور آسوٹز کیمپ بھی دیکھے ہیں جہاں ان پر ظلم کئے گئے۔ میں نے نازی جرمنی کے زمانے میں ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کی بہت سی فلمیں بھی دیکھی ہیں۔

آمنیہ اسکندریہ میں ٹیچر ہیں
آمنیہ اسکندریہ میں ٹیچر ہیں

مارچ انیس سو ترانوے کی ایک رات جب میں پیرس میں تھی، مجھے خیال آیا کہ اسرائیلیوں کے دشمن یورپ میں تھے اور وہ عرب دنیا میں جنگ لڑ رہے ہیں۔ یورپ یا مغرب ابھی تک عربوں اور اسرائیل کے درمیان تصادم میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایسا کیوں ہے کہ جب بھی ’سامی مخالفت‘ کا لفظ آتا ہے لوگ صرف یہودیوں کے بارے میں سوچتے ہیں۔ کیا عرب سامی نہیں ہیں؟ کیا یورپ سے لے کر امریکہ تک مغرب میں عرب بھی تعصبات کا شکار نہیں ہیں؟ کیا اسلام ایک نئی نفرت کے محور پر نہیں کھڑا کر دیا گیا؟

میں بات کو اچانک دوسری طرف نہیں لے جانا چاہتی۔ میں صرف ان چیزوں کی اصلیت جاننا چاہتی ہوں جن کے ہماری زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ میں نے اپنے خاندان میں مصری یہودیوں کے بارے میں بہت سی اچھی باتیں سنی ہیں جیسے کہ وہ کتنے خوش اخلاق اور اچھے ہمسائے ہیں اور کتنے اچھے دستکار ہیں وغیرہ وغیرہ۔ لیکن میں بڑی ہوئی اور کسی سے نہ مل سکی۔ میں انیس سو سڑسٹھ کی جنگ کی شکست اور انیس سو تہتر کی جنگ کے نتائج دیکھنے کے لئے بڑی ہوئی۔ میرے کئی رشتہ دار ان جنگوں میں لڑے ہیں۔ حالتِ جنگ میں لوگ دشمن کی بات کرتے ہیں اور دشمن اسرائیل تھا جس نے وادیِ سینا اور بہت سی عرب زمین پر قبضہ کر لیا تھا۔ میں نے اپنے بچپن میں مستقل جنوبی لبنان پر اسرائیلی قبضے کی تصاویر دیکھیں۔ میں صرف چودہ برس کی تھی لیکن ایک سوال میرے دماغ میں موجود رہا۔ ’آخر یہودی مہاجرین فلسطین میں پرامن طور پر آباد ہونے کی توقع کیسے کرسکتے ہیں‘؟

سیاست پر جو پہلی کتاب میں نے پڑھی وہ گولڈا میئر کی کی یادوں پر مشتمل تھی۔ میں ہائی سکول میں تھی اور یہ پڑھ کر حیران رہ گئی کہ انہیں اپنے آبائی علاقے ’کئیو‘ میں کیسی کیسی تکلیفیں اٹھانی پڑی تھیں جب وہاں یہودیوں پر ظلم و ستم ڈھائے جا رہے تھے۔ لیکن پھر بھی وہ فلسطین میں یہودی بستیاں بنانے کے حق میں تھیں۔ میرا خیال ہے کہ امن کے متعلق کوئی بھی مذاکرات شروع کرنے سے پہلے اس پر بات کرنا ضروری ہے کہ کس کا جائز حق کیا ہے۔ زبردستی کبھی بھی فائدہ مند ثابت نہیں ہوتی۔

مجھے لگتا ہے کہ شاید ایک فلسطینی ماں کو یہ قبول کرنے میں آسانی ہو کہ یہودیوں کو یورپ سے دور ایک گھر کی ضرورت ہے بہ نسبت اس کے کہ فلسطین میں گھر بنانا ان کا جائز حق ہے۔ تمہارا اس کے متعلق کیا نقطہِ نظر ہے؟ میں کئی اور باتیں بھی تم سے کرنا چاہتی ہوں۔ مجھے لگ رہا ہے کہ اب تک جو میں نے لکھا ہے وہ شاید تمہارے سوال کے جواب میں مجھے یاد آیا ہے۔

مجھے پڑھانا بہت اچھا لگتا ہے۔ مجھے ہائی سکول کے طلباء کو پڑھانے میں لطف آتا ہے۔ جن چیزوں کے بارے میں وہ جاننا چاہتے ہوں ان پر ان کی حیران رہ جانے کی حس مجھے زندگی کے بھرپور ہونے کا احساس دلاتی ہے۔ اب تک جو سب سے اچھی بات مجھے میرے کسی شاگرد نے کہی ہے وہ یہ تھی کہ میرا دل کرتا ہے یہ کلاس کبھی ختم نہ ہو۔ مجھے یہ انتہائی اچھا لگا اور میں بھی اپنے شاگردوں سے بہت سیکھتی ہوں۔

مجھے بہت برا زکام ہورہا ہے اور آرام کی ضرورت ہے۔ میں سکندریہ میں زندگی کے بارے میں تمہیں اگلی مرتبہ لکھوں گی۔

سلام
آمنیہ

آپ کی رائے

شاہدہ اکرم، ابوظہبی: پچھلی دفعہ کی طرح اب بھی آمنیہ اور اورلی کا دوسرا خط پڑھ کر بہت اچھا لگا۔ شاید دنیا شکرانے کے عمل میں آگئی ہے، میری عمر کے لوگوں کے لئے بھی یہ ایک نئی اور بہت پیاری ہوگئی ہے۔ فاصلے اگر اس طرح کم ہوتے رہیں تو یہ جنگیں شاید خود بخود ختم ہوجائیں گیں۔

محمد سعید، پاکستان: میری سمجھ میں نہیں آتا کیونکہ عموما کوئی اسرائیلی کسی مسلم ملک کو نہیں سمجھ سکتا۔ جبکہ اب ایک اسرائیلی اور مصری کے درمیان دوستی ہورہی ہے؟

اپنی رائے بھیجیں
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد