| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خاندان کی قوت
میں ہمیشہ پورےخاندان کے ساتھ کام کرتا ہوں کیونکہ خواہ نفسیاتی دباؤ کی علامات گھرانے کے صرف ایک فرد ہی میں کیوں نہ دکھائی دیں، آپ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اس کے حل یا مسئلے میں پورا خاندان شریک رہا ہوگا۔ غزہ میں بھی افراد پر خاندان کے اثرات اتنے ہی گہرے ہوتے ہیں جتنے کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں۔ فواد کے کیس میں میں نےاس کے خاندان سے اتنی ہی مدد حاصل کی جتنی انہوں نے مجھ سے۔ جب میں پہلی دفعہ فواد کے والد سے ملا تو اس نے مجھ سے کہا کہ ’مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے ہم اسے کھو رہے ہیں۔ پہلے میرا اس سے گہرا تعلق ہوا کرتا تھا لیکن اب لگتا ہے جیسے میں کسی اجنبی سے بات کر رہا ہوں۔‘ اس کی پریشانی عجیب نہیں تھی۔ اس کا چودہ سالہ بیٹا کبھی ہونہار، پراعتماد طریقے سے بات کرنے والا اور اپنی جماعت میں بہترین طالبِ علم ہوا کرتا تھا لیکن اب وہ وہ روکھا، سڑیل اور باغی ہو چکا تھا۔ پڑھائی میں اس کا دل بالکل نہیں لگتا تھا اور دوستوں کی طرف اس کا رویہ جارحانہ تھا۔
میرے زیادہ تر مریضوں کی طرح فواد بھی فلسطین کے دہلا دینے والے حالات کے جھٹکے کا شکار ہو چکا تھا۔ پچھلے سال اکتوبر میں جب اس کی گلی میں اسرائیلی ٹینک گھس آئے اور انہوں نے فائرنگ شروع کر دی تو وہ اپنی ماں اور دو بہنوں کے ساتھ گھر میں پھنسا رہ گیا۔ وہ خوف کی وجہ سے اتنا بےقرار ہوا کہ اس نے ایک چمچے سے دیوار میں پیر رکھنے کے لئے سوراخ کھودنا شروع کر دیا۔ بالآخر اس کی ماں انہیں چھت پر لے گئی۔ لیکن وہاں سے فواد نے نیچے گلی میں دو لوگوں کو ہلاک اور ایک کو زخمی ہوتے ہوئے دیکھا۔ تب سے اس نے خواب میں بکھرے ہوئے انسانی اعضاء اور دماغ دیکھنے شروع کر دیئے۔ اس کے ماں باپ نے ہم سے اس لئے رابطہ کیا کیوں کہ وہ اس کی صورتِ حال سے بہت پریشان تھے۔ وہ انتقام پر مصر تھا اور اس نے اس سلسلے میں اپنے سے بڑے لڑکوں سے دوستی کرنی شروع کر دی جن کا شاید مسلح جدوجہد سے تعلق تھا۔ جب میں نے اس کا علاج کرنا شروع کیا تو اس نے مجھ سے کہا کہ اگر وہ اسرائیلیوں سے نہ لڑا تو اسے لگے گا کہ اس نے اپنے خاندان اور اپنے آپ سے غداری کی ہے۔ ’جو انہوں نے ہمارے ساتھ کیا اس کے بعد مجھے انہیں نقصان پہنچانے کا حق ہے۔ آنکھ کے بدلے آنکھ۔‘ لیکن اسے یہ بھی پتہ تھا کہ جب وہ بارود بھری بوتلیں اسرائیلی چوکیوں اور فوجیوں پر پھینکنے جائے گا تو اس کے ماں باپ دہل کر رہ جائیں گے۔ ’مجھے پتہ ہے کہ وہ ایسا نہیں چاہتے۔ مجھے ان سے جھوٹ بولنا پڑتا ہے اور اس سے انہیں تکلیف ہوتی ہے‘۔
اس کے گھر میں ایسا تناؤ تھا جس کا میں فائدہ اٹھا سکتا تھا لیکن اس صورتِ حال سے اس کے ماں باپ کئی دوسرے نقصانات کا شکار بھی ہوئے۔ انہیں ندامت تھی کہ وہ اسے تشدد سے تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں اس لئے وہ اس کے ہر مطالبے کو پورا کرکے توقع کرتے کہ اس سے اس کا رویہ بہتر ہوجائے گا۔ لیکن اس کے نتائج بالکل برعکس نکلتے۔ میں نے انہیں سمجھایا کہ اس طرح وہ والدین کے اختیارات کھو دیں گے اور اس کے اندر بھی ناجائز فائدہ اٹھانے کی عادت پڑ جایے گی۔ ہمیں کچھ سخت اقدامات کرنے ہوں گے اور ان پر مکمل عمل کرنا ہوگا۔ ان میں یہ تین چیزیں لازمی ہیں۔ گھر واپسی کے وقت کی سختی سے پابندی، پرتشدد گیمز سے مکمل پرہیز اور بڑے لڑکوں سے دوستی کا مکمل خاتمہ۔ اس طرح کا نظم وضبط اور مستقل اسے یہ احساس دلانے سے کہ اگر اس نے ان نئے دوستوں کی خاطر اپنے اور اپنے والدین کی طرف اپنے فرائض سے غفلت برتی تو یہ دھوکہ دہی ہوگی، آہستہ آہستہ اس کا غصہ کم ہونا شروع ہوا۔ بالآخر اس کے والد نے مجھے کچھ دنوں بعد یہ خوش خبری سنائی کہ ’ایک سال سے زیادہ ہوچکا تھا لیکن آج میرا بیٹا بغیر میرے پوچھے میرے ساتھ مسجد گیا۔‘ اس کا پڑھائی میں بھی دل لگنا شروع ہو گیا اور اس نے ٹیوشن لینے کے لئے اصرار کرنا شروع کیا تاکہ وہ جلدی سے وہ مضامین پڑھ لے جن میں وہ پیچھے رہ گیا تھا۔
یہ سب خاصی جلدی میں ہوا اس لئے میں نے اس کے والدین کو خبردار کیا کہ ابھی بھی کسی وقت کوئی مسئلہ کھڑا ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی فواد نے مجھے ملنے سے انکار کر دیا کیوں کہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کے ہم جماعتوں کو یہ پتہ چلے کہ وہ ایک نفسیاتی امراض کے ماہر سے ملتا ہے۔ یہ ہمیشہ ایک حساس مسئلہ ہوتا ہے کیوں کہ ذہنی امراض کو کہیں بھی اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ تاہم جس حقیقت کا مجھے احساس نہیں تھا وہ یہ تھی کہ کس طرح اس کا پورا کنبہ اپنی پوری کوشش کر رہا تھا کہ اس میں رونما ہونے والی مثبت تبدییلیوں کو مزید پکا کر دیا جائے۔ اس میں اس کی ماں، باپ، چچا اور دادا سب شامل تھے۔ میری خاندان کی قوت سے یہی مراد ہے۔ اس کے باپ نے مجھے اس پر اپنے دوستانہ اثر کی ایک بہت اچھی مثال دی۔ ’ جب ہم مسجد سےواپس گھر لوٹ رہے تھے اور مجھے احساس ہوا کہ اب وہ میری بات دوبارہ غور سے سننے کی اہلیت رکھتا ہے تو میں نے اسے ایک بیوہ کا حوالہ دیا جس کا شوہر اس دن گلی میں مارا گیا تھا۔ اس عورت نے اس دکھ کو بڑی عزتِ نفس اور ہمت کے ساتھ برداشت کیا تھا اور اپنا خیال رکھتی تھی۔ میں نے فواد سے کہا کہ دیکھو اس عورت نے ہمیں دکھایا ہے کہ ان حالات کا مقابلہ کیسے کیا جا سکتا ہے۔ اسے تم سے زیادہ غصے اور مایوسی کا حق تھا۔ لیکن اس نے اپنے اندر ان جذبوں سے آگے بڑھ کر زندہ رہنے کی اہلیت ڈھونڈھ لی ہے۔‘ فواد کا کہنا ہے کہ اب وہ ایک نیورو سرجن بننا چاہتا ہے۔ اس کے ایک دوست کو یہاں کی مسلسل جاری جنگ کے دوران کچھ دماغی چوٹیں آگئی تھیں جن کے نتیجے میں اب وہ ایک ایسے مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہے جو اس سے بالکل مختلف ہے جس سے اس کا خاندان کچھ عرصہ قبل تک سہما ہوا تھا۔ اس کا باپ فخریہ کہتا ہے کہ ’ یہ واقعی میرا وہی بیٹا ہے جو یہ ہوا کرتا تھا۔‘ مائیکل میکالک غزہ کی پٹی میں طبی امداد کی بین الاقوامی تنظیم میڈیسنز سانز فرنٹیئرز کی ایک گشتی ٹیم کے رکن ہیں جو علاقے میں جاری تشدد سے متاثرہ خاندانوں کے لیے کام کرتی ہے۔ یہ متاثرین عموماً بمباری، تباہ کاری اور جنگی صورت حال کے باعث صدمے اور خوف کا شکار رہتے ہیں۔ ڈاکٹر میکالک نے اپنے ہفتے بھر کی مصروفیات کے دوران پیش آنے والے واقعات اور مریضوں کا احوال اپ کی آواز میں ایک روز نامچے کی صورت میں بیان کرتے ہیں۔ ان کے اس تازہ ترین ڈائری پر آپ کیا رد عمل ہے؟ ہمیں لکھئے۔ آپ اپنی رائے اردو، انگریزی یا رومن اردو میں بھیج سکتے ہیں |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||