پانچواں خط: خون کا حساب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آمنیہ النجار مصر کے شمالی شہر سکندریہ میں ایک اسکول میں ٹیچر ہیں۔ اورلی نوائے ایک ایرانی نژاد اسرائیلی صحافی ہیں جو یروشلم میں رہتی ہیں۔ دونوں کام کرنیوالی خواتین ہیں، مائیں ہیں، لیکن دونوں کی دنیا تشدد، سیاست اور مذہب کی وجہ سے مختلف ہے۔ بی بی سی نے ان دونوں کا ای میل کے ذریعے رابطہ کرایا۔ یہ اس سلسلے کی پانچویں کڑی ہے۔ ہائے آمنیہ، اگرچہ خون کے حساب کتاب سے مجھے انتہائی نفرت ہے لیکن تمہاری انتیس جنوری کی ای میل کے بعد یروشلم میں میرے گھر سے دو سڑکیں دور ایک بس پر کیے گئے خودکش حملے میں بارہ لوگ ہلاک ہوئے اور پچاس سے زائد کو اسپتال پہنچایا گیا۔
اس سے کیا غزہ میں پیش آنے والا واقعہ حق بجانب ثابت ہو سکتا ہے؟ بالکل نہیں۔ کیا اس سے پیچیدگی بڑھے گی؟ میرے خیال میں بڑھے گی۔ تمہارا پوچھنا ہے کہ ایسی صورت حال میں کیا کیا جا سکتا ہے۔ میرے خیال میں ہر فریق کو پہلے تو یہ کرنا ہو گا کہ وہ صرف اپنے حامیوں کی لاشوں کی تعداد نہ دیکھے بلکہ دوسرے فریق کو پہنچنے والے دکھ کو بھی سمجھے۔ میرے ان خیالات کی وجہ سے کہ فلسطینی علاقوں پر سے قبضہ جلد از جلد ختم ہونا چاہئے اور یہ قبضہ ہر طرح سے غلط ہے، فلسطینیوں کی ذمہ داریوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ میرے خیال میں ایسے تمام لوگوں میں سے خاص طور پر تمہیں، جو چیزوں کو ان کے اصل نام سے پکارنے پر زور دیتے ہیں، یہ سمجھنا چاہئے کہ بچوں اور شہریوں سے بھری بس کو خودکش کارروائی سے اڑانے کو کسی طرح جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ میں اسرائیلی پالیسی کو جائز قرار دینے کی کوشش نہیں کر رہی بلکہ میں اس کی سخت مخالف ہوں۔ لیکن میرا یہ بھی خیال ہے کہ ہمیں حقیقت پر غور کرنا چاہئے ورنہ یہ محض کھوکھلے نعرہ بن کر رہ جائے گی اور آگے بڑھنے کا امکان معدوم ہو جائے گا۔ سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ شدت پسندوں کو ان پرتشدد کارروائیوں کا اسرائیل اور فلسطین دونوں ہی کے حوالے سے ایک سا فائدہ ہوتا ہے۔ خودکش حملے سے اسرائیل کو غزہ اور دیگر فلسطینی علاقوں میں گھس کر ظلم کرنے کا بہانہ ملتا ہے جس کے نتیجے میں حماس، اسلامی جہاد اور دیگر تنظیمیں اسرائیلی کارروائی کی بنا پر مزید خودکش حملے کرتی ہیں اور ایک انتہائی ’خطرناک چکر‘ شروع ہو جاتا ہے۔ میرے خیال میں اسرائیل ہی امن معاہدہ نہیں کرنا چاہتا بلکہ فلسطینی عوام میں بھی بہت سے گروہ امن معاہدے کے خلاف ہیں۔ جب بھی تعلقات کے فروغ کا امکان پیدا ہوا، فلسطین کی جانب سے دہشت گرد کارروائی میں اچانک اضافہ ہو گیا۔ امن کے فروغ میں رکاوٹ ڈالنے کی یہ دانستہ کوشش تھی۔ میرے خیال میں اس طرح کا کوئی بھی اقدام اسرائیلی پالیسی کو جائز نہیں ٹھہراتا البتہ اس تنازعہ اور لڑائی پر بحث کرتے ہوئے یہ نقطۂ نظر، نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ میرے پرچے اچھے ہوئے، شکریہ، میں اپنے کام میں خاصی مصروف رہتی ہوں۔ ہم تقریباً دوہفتوں میں نشریات شروع کر دیں گے اور ابھی بہت کام باقی ہے۔ یہ اسرائیل کا پہلا ریڈیو ہوگا جس کی نشریات دو زبانوں عربی اور عبرانی میں ہوں گی۔ جیو! ہیلو اورلی، مجھے امید ہے کہ تم بخیریت ہو۔ میں تمہیں کل اس لئے جواب نہیں دے سکی تھی کیونکہ جمعہ کو گھر والوں کے ساتھ عموماً خاصی مصروفیت رہتی ہے۔ تم نے خون کے حساب کتاب کا ذکر کیا تھا اور تمہاری آخری دو ای میلوں سے ’ہم تمہارے خلاف ہیں‘ کا سا تاثر ملتا ہے۔ تم محسوس کرتی ہو کہ میں یہ نہیں سمجھتی کہ فلسطینیوں کے خلاف بھی تشدد جاری ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے کیونکہ میں یہ اچھی طرح سمجھتی ہوں۔ لیکن جب فلسطینی علاقے پر قبضہ کیا جائے گا تو تم ایسے وقت میں کیا توقع کر سکتی ہو؟
تمہیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تم بحیثیت اسرائیلی کبھی بھی ایسی صورت حال سے دوچار نہیں ہوئی کہ تمہارے علاقے پر قبضہ کیا گیا ہو۔ اگر ہمیں چیزوں کو ان کے اصل نام سے پکارنا ہے تو ہمیں قومی مزاحمت کے نظریے کو سمجھنا ہو گا۔ کیونکہ یہ ایک ایسا جائز آلہ ہے جسے دنیا بھر میں کسی بھی ملک کی سالمیت کو خطرے کی صورت میں استعمال کیا جاتا ہے۔ قومی مزاحمت کا قطعی خاتمہ ، قبضے کے اختتام پر ہی ممکن ہے۔ خودکش حملے کرنے والوں کی انفرادی حیثیت ہے اور وہ فلسطینی ریاست کی نمائندگی نہیں کرتے۔ غزہ میں پیش آنے والے واقعات اور اس سے پہلےجنین اور ہِبرون میں ہونے والے واقعات اسرائیلی کارگزاری کی ترجمانی کرتے ہیں۔ میں (دونوں فریقوں کے) انتہا پسندوں سے پرتشدد کارروائیوں کی توقع تو کرسکتی ہوں لیکن ریاست کی سرپرستی میں دہشتگردی کیے جانے کو ہرگز جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تم نے خطرناک چکر کا ذکر کیا ہے۔ میرے خیال میں اگر فلسطینیوں کو علیحدہ ریاست کے علاوہ انہیں حق خودارادیت اور اپنی ریاست کی سلامتی کے امور سونپ دیے جائیں تو یہ خطرناک چکر ٹوٹ سکتا ہے۔ مسئلہ یہاں یہ ہے کہ فلسطینیوں کے ساتھ کس طرح کی امن مفاہمت ہوتی ہے۔ کیا یہ ایک ایسی مفاہمت ہوگی جو دونوں فریق کو مطمئن کردے یا یہ صرف اسرائیلی مفاد کے حق میں ہوگی؟ اگر تشدد کی کارروائیاں ختم کرنی ہیں تو فلسطینی علاقوں پر قبضہ بھی ختم کرنا ہوگا۔ دوسری بات یہ بھی اہم ہے کہ کسی بھی امن معاہدے میں ساتھ ساتھ رہنے کی خواہش کا عنصر ہے یا نہیں؟ کیا ایسے معاہدے میں فلسطینیوں کے وجود کا احترام کرنے کی خواہش بھی ہے؟ اس میں کئی مسئلے ہیں، مثال کے طور پر، یروشلم کی حیثیت، فلسطینی رفیوجیوں کی (اسرائیل میں) وطن واپسی، یہودی بستیاں، پانی کے وسائل، (اسرائیل کی) داخلی سیکیورٹی، وغیرہ۔ دونوں فریق کو اس بات کو سمجھنے کی ضرورت بھی ہے کہ امن ہی واحد راستہ ہے۔ لیکن کوئی فریق بھی زمین کے سوال پر کھلے مذاکرات کے بغیر امن نہیں چاہتا۔ اس میں جتنی دیری ہوتی ہے، دونوں طرف اتنے ہی لوگ تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔ سلام |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||