تیسرا خط: آمنیہ اور اورلی کی ای میلز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آمنیہ النجار مصر کے شمالی شہر سکندریہ میں ایک اسکول میں ٹیچر ہیں۔ اورلی نوائے ایک ایرانی نژاد اسرائیلی صحافی ہیں جو یروشلم میں رہتی ہیں۔ دونوں کام کرنیوالی خواتین ہیں، مائیں ہیں، لیکن دونوں کی دنیا تشدد، سیاست اور مذہب کی وجہ سے مختلف ہے۔ بی بی سی نے ان دونوں کا ای میل کے ذریعے رابطہ کرایا۔ یہ اس سلسلے کی تیسری کڑی ہے۔ ہائے آمنیہ، امید ہے کہ تم اب بہتر محسوس کر رہی ہوگی۔ میں احسان مند ہوں کہ تم نے اپنے زکام کے باوجود پچھلی مرتبہ مجھے جواب لکھ بھیجنے میں تاخیر نہیں کی۔ میں ابھی سے تمہارے خطوط کی عادی ہوتی جارہی ہوں اور اپنا میل باکس بےچینی سے چیک کرتی رہتی ہوں۔
تم نے ’جائز‘ حقوق کا سوال اٹھایا ہے۔ میں اس کے لئے مختلف اصطلاح استعمال کرنا چاہتی ہوں اور وہ ہے ’بیان‘۔ مجھے لگتا ہے کہ ’جائز‘ کی بحث ہمیں اس طرف گھسیٹ لے جاتی ہے جہاں ’درست‘ اور ’غلط‘ اور ندامت اور ملال جیسے سوال اٹھا دیئے جاتے ہیں۔ اگرچہ مجھے احساس ہے کہ تمہاری اس سے مراد ایک دوسرے کے دکھ کو سمجھنے کی ہے۔ اسی لئے میں اس کے لئے ’بیان‘ کا لفظ استعمال کرنا چاہتی ہوں کیوں کہ یہ تمہاری کہانی ہے اور کوئی نہیں کہہ سکتا تمہیں کہ یہ جائز ہے یا ناجائز۔ ہو سکتا ہے ہم ایک ہی بات کر رہے ہوں اور یہ صرف لفظوں کا ہیر پھیر ہو کیونکہ ہم دونوں ’دوسرے‘ کو سننے کی صلاحیت کی بات کر رہے ہیں، خواہ وہ کوئی بھی ہو اور اسے سننا کتنا ہی تکلیف دہ کیوں نہ ہو۔ مجھے لگتا ہے کہ اسرائیل ’نہ سننے‘ کی قیمت اٹھا رہا ہے۔ یہ حال ہی میں ہوا ہے کہ لوگ یہاں ایک فلسطینی ریاست کے تصور کو قبول کرنا شروع کر رہے ہیں، کئی قیمتی سال اور جانیں گنوانے کے بعد۔ انسانی فطرت کے بارے میں مجھے ایک بات بہت عجیب لگتی ہے اور وہ ہے اپنی اخلاقی طاقت کے بارے میں غلط اندازے لگانے کی۔ امریکیوں کے ساتھ بھی یہی ہورہا ہے خاص طور پر عراق میں۔ وہ آزادی اور انصاف کی بات کرتے ہیں لیکن درحقیقت عراقی عوام کی قیمت پر اپنے مفاد کے لئے سب کچھ کر رہے ہیں۔ میں متفق ہوں کہ مغرب میں عرب دنیا کے خلاف ایک بڑے پیمانے پر تعصب اور عداوت پائی جاتی ہے اور مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بہت سے اسرائیلی بھی اسی نقطہ نظر کو دل سے مان چکے ہیں۔ انہیں احساس نہیں ہوتا کہ ہم اسی ’مشرق‘ کا حصہ ہیں جس کے ماتھے پر مغرب کی جانب سے یہ سیاہی ملی جاتی ہے۔ مجھے یہ جاننے میں دلچسپی ہے کہ تمہیں کیا چیز یورپ میں یہودیوں کے لئے بنائے گئے کیمپ تک لے گئی؟ ایک طرح سے وہ کیمپ اسرائیل کے وجود کا اصل ’بہانہ‘ بنے۔ تمہارا پچھلا خط پڑھتے ہوئے میں شناخت کے سوال پر سوچتی رہی- یہودی اور اسرائیلی شناخت کے فرق پر، عرب اور مسلمان کے فرق پر، تمہارے لئے ان لفظوں کا کیا مطلب ہے؟ میرے لئے ان لفظوں کا کیا مطلب ہے؟ جیسا کہ میں نے تمہیں بتایا تھا میں ایک اسرائیلی ریڈیو سٹیشن پر کام کرتی ہوں اور میں نے دیکھا ہے کہ فلسطینیوں میں اس طرح کے الفاظ پر ایک قسم کی کنفیوژن پائی جاتی ہے۔ ’یہودی‘ اکثر ’اسرائیلی‘ اور صیہونی‘ کے ساتھ کنفیوز کیا جاتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اسی طرح ہم مسلمان اور عرب میں فرق نہیں کرتے۔ تمہارے لئے ان لفظوں کے کیا معنی ہیں؟ اگر تمہیں اپنی شناخت کے لئے تین چیزیں چننا ہوں تو تم کیا انتخاب کرو گی؟ مختصر خط کے لئے معذرت۔ مجھے اپنے کل کے عربی کے امتحان کی تیاری کرنی ہے۔ اگلی بار تک، نیک ترین خواہشات شام بخیر اورلی، مجھے اپنے ’جائزحق‘ کے بارے میں اٹھائے ہوئے سوال کے متعلق تمہارا ردِّعمل پڑھ کر خوشی ہوئی کیونکہ اس سے مجھے اپنے نقطے کی وضاحت کا موقعہ ملا ہے۔ یہ حقیقت کہ تم نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا معنی خیز ہے کیونکہ میں نے ’درست‘ یا ’غلط‘ کے بارے میں کوئی فیصلہ دینے کی کوشش نہیں کی تھی۔ اور ویسے بھی سیاست کب درست یا غلط کے بارے میں رہی ہے؟ سیاست صرف مفاد کے بارے میں ہے۔ تاہم عرب اسرائیلی تنازعے میں جائز حق کے مسئلے پر ایک صاف جواب فریقین کے مفادات کی حدیں طے کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
میں یہاں مصر پر برطانوی استعمار کی مثال دوں گی۔ برطانوی یہاں ترک حکمران خیدیو کی درخواست پر ایک فوجی بغاوت کو کچلنے آئے تھے اور پھر وہ انیس سو چون تک یہیں رہے۔ اس دوران برطانویوں کو مصر میں اپنے مفادات کے متعلق کوئی شک نہیں تھا اور نہ ہی مصریوں کو جنہوں نے کئی قومی مزاحمت کی تحریکیں چلائیں۔ سیاسی حالات کے ساتھ ساتھ ان کے مطابق اصطلاحات کو گھڑنے سے بات چیت میں مدد ملتی ہے۔ اسرائیلی اور فلسطینیوں کے درمیان امن مذاکرات کے متعلق بھی میرا یہی مشورہ ہے۔ تم نے ذکر کیا کہ اب تک اسرائیلیوں کے لئے فلسطینیوں کی اپنی ریاست کا تصور قبول کرنا مشکل رہا ہے۔ میں اس میں اضافہ کرنا چاہوں گی کہ اب تک اسرائیلیوں کے لئے یہ قبول کرنا بھی مشکل رہا ہے کہ وہ ایک استعماری طاقت ہیں، نہ صرف فلسطین میں بلکہ گولان کی پہاڑیوں پر بھی۔ برطانویوں کے کیس میں، انہیں نہ صرف مصریوں کی قومی مزاحمت کو تسلیم کرنا پڑا بلکہ بالآخر مصر سے مکمل طور پر رخصت ہونے کے مذاکرات پر بھی آمادہ ہونا پڑا۔ اس کی وجہ سے مصریوں کے دل میں برطانویوں کے لئے کوئی نفرت نہیں اور کوئی خون نہیں بہا۔ لیکن اسرائیلی مثال میں جو چیز دکھائی نہیں دیتی وہ سیاسی مفادات کے بارے میں واضح تصور ہے۔ شاید اسی کا تعلق شناخت کے سوال سے بھی ہو۔ فلسطینی عرب ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ان کی زمین پر ان کا جائز حق ہے۔ تم نے مجھ سے اپنی شناخت کے لئے تین چیزوں کا پوچھا ہے۔ مجھے تین چیزوں کی ضرورت نہیں ہے، میرے لئے ایک ہی کافی ہے اور وہ ہے عرب شناخت جو تاریخ اور زبان سے جڑی ہوئی ہے۔ اسرائیل کے کیس میں وہاں مختلف ثقافتوں، نسلوں، زبانوں اور جغرافیائی سرحدوں سے تعلق رکھنے والے لوگ آکر بسے ہیں۔ مذہب ہی سب میں واحد مشترک شئے ہے لیکن سیاسی مفاد کی سطح پر اس سے کیا مراد لی جائے؟ میں متفق نہیں ہوں کہ تم ’بیان‘ جیسے لفظ سے ’جائز حق‘ ’استعمار‘ اور ’تشدد‘ جیسے تصورات کا تبادلہ کر سکتی ہو۔ بیان اس وقت بالکل صحیح لگتا ہے جب ہم زندگی کی کہانیاں اور ذاتی تجربات بیان کرنے بیٹھتے ہیں۔ مثلاً بیان سے تم ایرانی، اسرائیلی اور یہودی تشخص کے تصور کا کیا کروگی؟ تمہارا تجربہ مجھے تمہیں سمجھنے میں مدد دے گا لیکن اس سے مجھے یہ یقین نہیں آسکتا کہ اسرائیل میں آنے والے تارکینِ وطن کا اس زمین پر زیادہ حق ہے جہاں فلسطینی پیدا ہوئے تھے۔ میں کوئی فیصلہ صادر نہیں کرنا چاہ رہی، میں صرف مختلف خیالات سے کھیلنا چاہ رہی ہوں۔ خوش رہو، سلام |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||