BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Friday, 16 April, 2004, 10:08 GMT 15:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چھٹا خط: ’میں بمقابلہ تم‘
آمنیہ النجار مصر کے شمالی شہر سکندریہ میں ایک اسکول میں ٹیچر ہیں۔ اورلی نوائے ایک ایرانی نژاد اسرائیلی صحافی ہیں جو یروشلم میں رہتی ہیں۔ دونوں کام کرنیوالی خواتین ہیں، مائیں ہیں، لیکن دونوں کی دنیا تشدد، سیاست اور مذہب کی وجہ سے مختلف ہے۔ بی بی سی نے ان دونوں کا ای میل کے ذریعے رابطہ کرایا۔ یہ اس سلسلے کی چھٹی کڑی ہے۔

ہائے آمنیہ،
میں تمہیں ایک خوبصورت برفانی دن کے اختتام پر لکھ رہی ہوں۔ آج ہم گھر کے اندر رہے اور خوب لطف اندوز ہوئے۔

جب میں نے تمہارے ساتھ خط وکتابت شروع کی تو میرے ذہن میں کہیں یہ نہ تھا کہ یہ خط و کتابت ’ہم بمقابلہ تم‘ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ لیکن کبھی کبھی مجھے خیال آتا ہے کہ تمہارے لئے اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ تم اسرائیلی نقطہ نظر کو دیکھ یا سمجھ سکو کیونکہ ایسی کسی بھی کوشش کو تم اسرائیلی نقطہ نظر کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کے مترادف سمجھو گی۔

News image
اورلی یروشلم میں ایک صحافی ہیں

جب تم یہ کہتی ہو کہ تمہیں احساس ہے کہ فلسطینی بھی تشدد کرنے کے مرتکب ہو رہے ہیں تو اس کے ساتھ ہی تم یہ بھی کہہ دیتی ہو کہ ’ جب کسی کی سرزمین پر کسی کا قبضہ ہو تو کوئی کیا کرے‘۔ تمہاری اس بات سے ایسا لگتا ہے جیسے قومی جدوجہد کرنے کا مطلب یہی ہے کہ لوگوں کو بسوں میں بم دھماکوں سے اڑا دیا جائے۔

بر سبیل ِتذکرہ اسرائیلی قومی تحریک کو بھی برطانوی قابض افواج سے لڑنا پڑا تھا۔ ہگانہ اور ایسٹل کو بھی اپنی آزادی کے لئے لڑنا پڑا۔ جب یورپ سے ہزاروں زندہ بچ جانے والے یہودیوں کے لئے کوئی جائے پناہ نہ تھی لیکن انہوں نے پھر بھی کبھی شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا۔

صرف ایک موقعہ پر ایسا ہوا جب ایسٹل نے کنگ ڈیوڈ ہوٹل پر حملہ کیا۔ لیکن اس کے فوراً بعد ہگانہ کے افسران نے اپنے مسلح ساتھیوں کو برطانیہ کے حوالے کر دیا کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ اسرائیلی قومی جدوجہد کو دہشت گردی سمجھا جائے۔

خودکش حملہ آوروں کے فعل کو ان کے انفرادی فعل کے طور پر پیش کرنا ایسا ہی ہے جیسے یہودی بستیوں میں بسنے کو ایک انفرادی فعل کہا جائے۔ لیکن ان دونوں کو ایسا سمجھنا غلط ہے۔

یہ دونوں فعل دراصل اپنی اپنی قوموں کے سرکاری حلقوں، چاہے وہ حماس ہو یا اسلامی جہاد ہو یا اسرائیل کی دائیں بازو کی جماعتیں ہوں، کی سرکاری پالیسی کا اظہار ہے۔

ہر خودکش حملہ آور کے پیچھے ایک تفصیلی نظام کام کرتا ہے جس میں بھرتی سے لے کر ٹریننگ، نقل و حمل اور پیسے کی فراہمی وغیرہ شامل ہے۔ اب یہ کہنا کہ فلسطین اتھارٹی کو اس کے بارے میں کچھ علم نہیں، ناقابل ِ یقین لگتا ہے۔

اب یا تو ان کو پتہ ہے اور وہ اس کے بارے میں کچھ نہیں کر تے یا پھر ان کو پتہ ہے اور وہ اس کے بارے میں کچھ کر نہیں سکتے یا پھر ان کو اس کے بارے میں کچھ پتہ ہی نہیں ہے۔ موخرالذکر دونوں امکانات اسرائیلی نقطہ نظر سے زیادہ پریشان کن ہیں کیونکہ اگر فلسطین اتھارٹی کو علم نہیں کہ ان کے علاقوں میں کیا ہو رہا ہے یا وہ اس کے بارے میں کچھ کر نہیں سکتے تو پھر ان کو امن مذاکرات میں حصہ لینے کا کیا حق ہے۔

لیکن اس سب کے باوجود میرے خیال میں اسرائیل کو اس شیطانی چکر کو توڑنے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ ذمہ داری اسی کی ہوتی ہے جس کے پاس طاقت اور اختیار ہوتا ہے۔

چونکہ اسرائیل زیادہ مضبوط ہے اور فلسطین پر اختیار کی پوزیشن میں ہے، اس لئے اسے پہلا ٹھوس قدم اٹھانا چاہیے جس کا مطلب مقبوضہ علاقوں سے فوری انخلاء ہے۔

میرا خیال ہے کہ اسے ایسا خود اپنے مفاد میں بھی کرنا چاہیے کیونکہ بحثیت ایک معاشرہ ہمیں اخلاقی طور پر اسرائیلی قبضے کی بڑی بھاری قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اس وقت تک اپنے اندرونی مسائل کی طرف توجہ نہیں دے سکتے جب تک یہ قبضہ جاری ہے۔

اگر تم سوچو تو شاید بہت سے وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے جس کی بناء پر اسرائیلی حکومت امن کے لئے کوئی حقییقی کوشش نہیں کرتی کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں اسے اسرائیل کے اندر غربت، معاشرتی ناہمواری وغیرہ جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس لئے اسرائیلی حکومت کا خیال ہے کہ ایک مشترک دشمن کے خلاف قوم کو متحد کرنا زیادہ آسان ہے۔

ایک اچھے ہفتے کے لئے نیک خواہشات،

اپنا خیال رکھنا
اورلی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہائے اورلی،

میرا خیال ہے ہم میں اس وقت ایک اور چیز بھی مشترک ہے اور وہ سرد موسم ہے۔

میں نے کل بڑی دلچسپی سے تمہارا برفانی یروشلم کے بارے میں اظہار پڑھا۔ سکندریہ میں بھی پچھلے سارے ہفتے کے دوران بارش ہوتی رہی۔ سنیچر کے دن میں بچوں کو صبح کی سیر کے لئے سمندر کے کنارے لے گئی۔ بپھرا ہوا سمندر، سرد ہوا اور پانی کی لہریں سب کچھ انتہائی خوبصورت تھا۔

آمنیہ اسکندریہ میں ٹیچر ہیں
آمنیہ اسکندریہ میں ٹیچر ہیں

میرے خیال میں تمہارا تاریخ کا مطالعہ میرے تاریخ کے مطالعے سے یقیناً مختلف ہے۔ برطانوی قبضے کے خلاف ’اسرائیلی قومی‘ جدوجہد کے بارے میں کسی نے نہیں سنا کیونکہ اس وقت تک تو اسرائیل کا قیام بھی عمل میں نہیں آیا تھا۔

قانونی طور پر اس وقت فلسطین ترک سلطنت کے تحت برطانیہ کے حوالے کیا گیا تھا۔

اب یہ دوسری بات ہے کہ یہودی جو ابھی تک ’ہولوکاسٹ‘ میں ہونے والے مظالم سے ہراساں ہیں، اس جنگ کو جنگ ِآزادی‘ کا نام دینا چاہتے ہیں تاکہ دنیا کو اپنے وجود کی دلیل پیش کر سکیں حالانکہ اس وقت یہ علاقہ پوری دنیا میں فلسطین کے نام سے جانا جاتا تھا۔

تاریخ کی کتابوں (صرف عرب نقطہ نظر سے نہیں) میں اسرائیل کی تخلیق کے بارے میں کوئی ابہام نہیں۔

میں تمہاری ساتھ دہشت گردی کے مسئلہ پر بھی متفق نہیں۔ میرے نزدیک ریاستی دہشت گردی سب سے بڑا خطرہ ہے اور اسرئیل مختلف طریقوں سے اس کا ارتکاب کرتا رہتا ہے۔ مثال کے طور پر عرب بستیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا، شہریوں کا قتل اور انخلاء، مکانات کی تباہی، عرب علاقوں پر قبضہ، دیئر یاسن، لبنان یاجنین میں بربریت، اور حقیقی امن کے لئے قابل ِ عمل منصوبے سے انکار۔

یہ کیسے ممکن ہے کہ شیرون ایک طرف تو فلسطینیوں سے امن مذاکرات کی بات کرے اور دوسری طرف حفاظتی حصار کی تعمیر اور یہودی بستیوں میں اضافہ میں مشعول رہے۔ شیرون عرفات سے مذاکرات کیسے کر سکتا ہے جب وہ اسے ’تمام آزاد دنیا کا دشمن‘ قرار دیتا ہے اور اسرائیلی افواج کو عرفات کے رملہ میں واقع رہائش گاہ کے گھیراؤ کی اجازت دیتا ہے۔

تمہارے نزدیک فلسطینی کس چیز کی نمائیندگی کرتے ہیں؟ ہرچند مجھے یہ سوال اپنے پہلے کسی ای میل میں کرنا چاہیے تھا لیکن میرے خیال میں اس وقت پوچھنے کو اور بہت سے باتیں تھیں۔

تم یروشلم کی رہائشی ہو، تمہارا روزانہ کی سطح پر فلسطینیوں سے کس قسم کا رابطہ ہوتا ہے؟ اور اگر کوئی رابطہ نہیں ہے تو اس کی کیا وجہ ہے؟

اگلی دفعہ تک،
آمنیہ

آپ کی رائے
اپنے عنوانات ہمیں بھیجیں
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد