BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Friday, 16 January, 2004, 14:35 GMT 19:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایم کیو ایم: سیاست یا حقیقت؟
ایم کیو ایم کی دھمکی، سیاست یا حقیقت؟
ایم کیو ایم کی دھمکی، سیاست یا حقیقت؟

سندھ میں مرضی کی شادی اور سرداروں سے بغاوت کی وجہ سے مشہور ہونے والے شائستہ عالمانی کیس نے کل ایک نئی سیاسی شکل اختیار کرلی جب متحدہ قومی مومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے اعلان کیا کہ اگر شائستہ کو بلخ شیر سے الگ کرنے والے سرداروں کو اڑتالیس گھنٹے کے اندر گرفتار نہ کیا گیا تو وہ حکومت سے الگ ہو جائیں گے۔

تاہم اس دھمکی کی ابتدائی تصدیق کے بعد ایم کیو ایم نے کہا کہ انہوں نے حکومت سے الگ ہونے کی بات نہیں کی تھی بلکہ ’وزارتوں سے الگ ہونے کی بات کی تھی‘۔ بعض تجزیہ نگار اسے ایم کیو ایم اور حکومت کے مابین وزارتوں پر جاری چپقلش کے تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں۔

کیا ایم کیو ایم اس مسئلے کو واقعی حل کرنا چاہ رہی ہے یا اس کے کوئی سیاسی مقاصد ہیں؟ آپ کا ردِّ عمل

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں


ہم ہوئے، تم ہوئے، میر ہوئے

 ہمارے سپہ سالار کو بھی اس کی حفاظت کی فکر ہے جس کی اپنی جان خطرے میں ہے۔

تلاوت بخاری، اسلام آباد

تلاوت بخاری، اسلام آباد، پاکستان: ہم ہوئے، تم ہوئے، میر ہوئے۔ اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے۔ عالمانی سکینڈل بھی کامک ٹریجڈی ہے یا ٹریجک کامیڈی۔ عالمانی کے سب ہمدرد ہیں اور اسے خطرہ ہے تو اپنوں سے۔ ہمارے سپہ سالار کو بھی اس کی حفاظت کی فکر ہے جس کی اپنی جان خطرے میں ہے۔

فضل خان مزاری، سکھر، پاکستان: یہ ایم کیو ایم کا نیا ناٹک ہے۔ ایسا ہوتا تولوگ عدالتوں کے بجائے لیڈروں کے پاس جاتے۔

صائمہ ہاشم، کراچی، پاکستان: لوگ ہمیشہ ایم کیو ایم کے بارے میں منفی طور پر کیوں سوچتے ہیں۔ اگر الطاف حسین درست فیصلے کر رہے ہیں تو ہم ان کی مخالفت کیوں کرتے ہیں؟ کیا صرف اس لئے کہ وہ متوسط طبقے کے رہنما ہیں اور دوسروں سے زیادہ مقبول ہیں۔ ہمیں ذمہ دار شہریوں کی طرح سوچنا چاہئے۔ ایم کیو ایم نے ہمیشہ نچلے اور درمیانے طبقے کے لئے آواز اٹھائی ہے۔

ٹوپی ڈرامہ

 مقصد صرف بریف کیس اور وزارتیں لینا ہے۔ اگر انہیں فکر ہوتی تو وہ صرف بھتہ خوری اور دہشت گردی کے علاوہ بھی کچھ کرتے۔

اسداللہ محمد، امریکہ

اسداللہ محمد، امریکہ: صرف اور صرف ایک ٹوپی ڈرامہ ہے۔ دھمکیوں کا مقصد صرف بریف کیس اور وزارتیں لینا ہے۔ اگر انہیں عوام کی اتنی فکر ہوتی تو وہ پچھلے پندرہ سالوں میں صرف بھتہ خوری اور دہشت گردی کے علاوہ بھی کچھ کرتے۔

ڈاکٹر افضال ملک، راوالپنڈی، پاکستان: صرف ایک شائستہ ہی نہیں، ہمارے ملک میں کتنی ہی شائستائیں ظلم کی چکی میں پس رہی ہیں، ایم کیو ایم ان کے لئے بھی آواز اٹھائے۔

شفیع بلوچ، کراچی، پاکستان: یہ صرف سیاست ہے اور کچھ نہیں۔

بشری شاہ، کراچی، پاکستان: ایک اچھا قدم ہے۔ الطاف بھائی مظلوم کی سچی آواز ہیں۔ ہم ان کے ساتھ ہیں۔

فرحان احمد، کراچی، پاکستان: الطاف حسین اس طرح کی حرکتیں پہلے بھی کر چکے ہیں۔ یہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور اس طرح کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔ یہ صرف اور سرف سیاست ہے، اس کا انسانی ہمدردی سے کوئی تعلق نہیں۔

سلیم عمران احمد، ریاض، سعودی عرب: الطاف بھائی ہی پاکستان کے غریب لوگوں کے رہنما ہیں، سچ بولنا صرف ان کا ہی شیوہ ہے۔

اشرف چوہدری، ونڈسر، کینیڈا: الطاف حسین سیاست میں بہت ذہین آدمی ہیں لیکن ان کے خود غرض سیاستدانوں نے نہ صرف ماضی میں پی پی پی اور مسلم لیگ دونوں کو بلیک میل کیا بلکہ پاکستان کا امن برباد کیا اور کراچی اور حیدرآباد کو تباہ کرکے خود برطانیہ میں مزے لوٹ رہے ہیں۔

الطاف حسین نے اپنی دور اندیشی سے اسے اربوں لوگوں کے ضمیر کا مسئلہ بنادیا ہے؟رضا ہارون، لندن، برطانیہرضا ہارون، لندن، برطانیہ:

شائستہ عالمانی کے کیس نے صرف پاکستان ہی نہیں دنیا بھر کے امن پسندوں کی انکھیں کھول دی ہیں۔ مجھے اتفاق ہے کہ شائستہ عاالمانی اس طرح کی ظالمانے روایات کی نہ تو پہلی اور نہ ہی اکیلی شکار ہیں لیکن ہمیں یقینی بنانا چاہئے کہ وہ کاروکاری کی غیر انسانی روایت کا آخری شکار ثابت ہوں۔ کچھ لوگوں کی الطاف دشمنی نے انہیں اتنا اندھا کر دیا ہے کہ وہ ان کی ان کوششوں کی تعریف کرنے کے بجائے ان پر کیچڑ اچھال رہے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ انہوں نے پاکستان میں رہتے ہوئے پچھلے چھ ماہ سے شائستہ عالمانی کے لئے آواز بلند نہیں کی؟ عورتوں کے خلاف جرائم کے ایک اس طرح کے مسئلے کو عالمی سطح پر اٹھانے میں کیا حرج ہے؟ ہم اس مسئلے کو بی بی سی پر کیوں اٹھا رہے ہیں؟ اس لئے کہ الطاف حسین نے اپنی دور اندیشی سے اسے اربوں لوگوں کے ضمیر کا مسئلہ بنادیا ہے؟

رضوان، سعودی عرب: الطاف حسین کو غریب لوگوں سے کیا سروکار، وہ صرف اپنی سیاست کی دکان چمکانا چاہتے ہیں۔ اگر ان کو غریبوں کا اتنا ہی خیال ہوتا تو متحدہ کے کارکن کراچی میں جبری بھتہ لینا، ڈکیتیاں اور لوٹ مار نہ کر رہے ہوتے۔ میں بھی ایم کیو ایم کا ایک کارکن رہا ہوں مگر اسی وجہ سے آج علیحدہ زندگی گزار رہا ہوں۔

امتیاز احمد لون، ٹیکسلا، پاکستان: ایم کیو ایم ایک لڑکی کو استعمال کرکے سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔ یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں جتنا میڈیا نے اسے بنا دیا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو شائستہ نے کوئی بہت اچھا کام نہیں کیا۔ عورت اپنے خاندان کے ساتھ ہی اچھی لگتی ہے۔

شاہد ہاشم، نارتھ کراچی، پاکستان: الطاف بھائی نے ہمیشہ بغیر کسی مصلحت کے غریبوں کے لئے آواز بلند کی ہے، چاہے ظلم کرنے والا فریق فوج سے ہو یا وڈیرا۔ اس بات کی گواہ تاریخ ہے۔ ان کے بیان کے بعد اب سیاستدانوں کو ہوش آیا ہے ورنہ سب سو رہے تھے۔

احمد صدیقی، کراچی: اگر ایم کیو ایم کو عوام کی فکر ہوتی تو اتنے سالوں سے خون خرابہ اور بھتہ خوری کا بازار کیوں گرم کر رکھا تھا۔ یہ محاذ انگریزوں کے آگے ’انسانی حقوق کا علمبردار‘ کہلانے کی کوشش ہے۔

ایم کیو ایم ڈرامہ 2004

 پہلی قسط اور کچھ نہیں

یاسر نقوی، برطانیہ

یاسر نقوی، برطانیہ: ایم کیو ایم ڈرامہ 2004 کی پہلی قسط اور کچھ نہیں۔

سید خالد حسین جعفری، حیدر آباد: ایم کیو ایم نے ہمیشہ مظلوم عوام کی بات کی ہے۔ اس موضوع پر تنقید تو سبھی کرتے ہیں مگر اتنا بڑا قدم صرف ایم کیو ایم ہی اٹھا سکتی ہے۔ ہم لوگوں کو اب ہوش میں آ جانا چاہئے کیونکہ ہم پر ایم کیو ایم کے لئے اگر اب بھی تعصب کا پردہ پڑا رہا تو پھر پاکستان کا اللہ ہی حافظ ہے کیونکہ یہی پارٹی پاکستان کی نجات دہندہ ہے۔

رضا زیدی، دبئی: پتہ نہیں کہ لوگ مثبت قدم کو منفی انداز میں کیوں سوچتے ہیں۔

اقبال خان، کراچی: ایم کیو ایم نے بالکل صحیح قدم اٹھایا ہے کیونکہ یہ جماعت ہمیشہ سے ہی جاگیر دارانہ نظام کے خلاف رہی ہے۔

آج بابر، سکھر: میں الطاف حسین کے اقدام کو سراہتا ہوں کیونکہ حکومت پاکستان نے اس ضمن میں کوئی کام نہیں کیا تھا لیکن اب وہ بھی الطاف حسین کے بعد کچھ کر رہی ہے۔

ضیافت راٹھور، سیالکوٹ: اچھا فیصلہ ہے تاکہ آج کے بعد کوئی بھی شخص اس طرح کی حرکت نہ کر سکے۔ اگر لڑکی معاف کر دے تو ٹھیک ہے ورنہ سزا ملنی چاہئے۔

بشیر احمد، ریاض: ایم کیو ایم حکومت پاکستان سے چند سیاسی مفادات حاصل کرنا چاہتی ہے اور اس کے علاوہ کچھ نہیں۔

ظفر کریم خان، پشاور: الطاف حسین خود کو پاکستان کی سیاست میں سرگرم رکھنا چاہتے ہیں۔ انہیں عالمانی جیسے معاملات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

تسکین، چین: سب بکواس ہے۔ سیاست چمکا رہے ہیں۔

جاوید، کراچی: یہ سب صرف اور صرف سیاست ہے اور کچھ نہیں۔ جو اپنوں کا نہ ہوا وہ غیروں کا کیا ہو گا؟

عاصم، کراچی: ایم کیو ایم صرف اپنے مطلب کے لئے یہ بات کر رہی ہے۔ سب کو علم ہے کہ الطاف حسین ایک برے اور بدعنوان شخص ہیں۔ ایم کیو ایم حکومت میں مزید وزارتیں حاصل کرنا چاہتی ہے۔

سارہ عباس، ٹیکساس: ایم کیو ایم اس مسئلے کا حل چاہتی ہے۔

محمد ابیر خان، چترال: ہم سب کو علم ہے کہ ایم کیو ایم کراچی کی بدنامِ زمانہ دہشت گرد جماعت ہے اور وہ عوامی حمایت حاصل کرنے کے لئے تمام سیاسی حربے استعمال کر چکی ہے اور یہ ان کا نیا حربہ ہے۔

شیخ نذیر، جدہ: مجھے یقین ہے کہ یہ محض ایک سیاسی چال ہے کیونکہ سندھ حکومت میں ایم کیو ایم کے پاس بہت سی اہم وزارتیں موجود ہیں اس لئے اگر وہ چاہتی تو اپنی حالیہ دھمکی اور مطالبے کے بغیر ہی کارروائی کر سکتی تھی۔

مرزا عاصم محمود، گجرات: سیاست چمکانے کا اس سے بہتر موقع اور کون سا ہو گا اس لئے ایم کیو ایم نے اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔

شاعر چنجا، ککور: شائستہ عالمانی ایک مظلوم لڑکی ہے اور مظلوم لوگوں کی کوئی بھی حمایت نہیں کرتا۔

ظریف قیصرانی، دبئی: عالمانی کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بیرونِ ملک تمام پاکستانیوں کے لئے باعث شرم ہے اور اس اعتبار سے الطاف حسین کا بیان ایک اچھا قدم دکھائی دیتا ہے۔ میں حیران اس بات پر رہا ہوں کہ آخر اس واقعہ کی مذمت کرنے کی بھی کسی میں جرات نہیں ہے۔

مشتاق احمد، قطر: یہ ایک سیاسی ڈرامہ بازی ہے۔

اسلم زاہد، بُورے والا: یہ ایک سیاسی بیان ہے۔

اچھا فیصلہ ہے

 سندھ سے جاگیردارانہ اور وڈیرہ نظام ختم ہونا چاہئے۔

جنید اقبال، جرمنی

جنید اقبال، جرمنی: یہ ایک اچھا فیصلہ ہے۔ سندھ سے جاگیردارانہ اور وڈیرہ نظام ختم ہونا چاہئے۔

عبدالقیوم حیدر آبادی، برلن: یہ سب دھوکے بازی ہے یا پھر پیسہ کمانے کا چکر ہے۔ یہ لوگ کچھ پیسہ لے کر حکومت سے معاملہ طے کر لیں گے۔

خلیل اخون، پاکستان: یہ اقدام کا مقصد صرف اور صرف حکومت کو بلیک میل کرنا ہے۔

عبدل واحد آفریدی: وہ اس معاملے میں بالکل سنجیدہ نہیں ہیں بلکہ اصل کہانی کچھ اور ہے۔

عائشہ احمد، اسلام آباد: یہ سب سیاست چمکانے کے نئے نئے ڈھنگ ہیں ورنہ یہ مسئلہ تو گزشتہ چھ ماہ سے چل رہا ہے۔ اس وقت ایم کیو ایم اور الطاف حسین کو خیال کیوں نہ آیا جب ان کی علیحدگی کو ممکنہ طور پر بچایا بھی جا سکتا تھا۔

طارق اقبال، شارجہ: صرف اور صرف سیاست۔ یہ ملک دشمن لوگ ہیں۔ اگر اتنا ہی خیال ہے تو الطاف پاکستان آ کر یہ مسائل زیادہ اچھے طریقے سے حل کروا سکتے ہیں۔

عبدل لطیف، کوئٹہ: الطاف حسین اپنی سیاست کو چمکانے کے لئے یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔

عمر فضل، امریکہ: ایم کیو ایم کا مقصد کچھ بھی ہو لیکن خوشی اس بات سے ہوتی ہے کہ مظلوم خاتون کی مدد کے لئے کوئی تو موجود ہے۔

عامر گِل، پاکستان: الطاف حسین نے اپنی زندگی میں پہلا قدم اچھا اٹھایا ہے۔

پرانی سیاسی عادت

 شائستہ کیس کے معاملے میں ایم کیو ایم کی دھمکی اس جماعت کی پرانی سیاسی عادت ہے۔

پرویز بلوچ، بحرین

پرویز بلوچ، بحرین: شائستہ کیس کے معاملے میں ایم کیو ایم کی دھمکی اس جماعت کی پرانی سیاسی عادت ہے۔ ایم کیو ایم اس سے پہلے بھی حکومت سے علیحدہ ہونے کے لئے ایسی دھمکیاں دیتی رہی ہے۔

سید جامعی امین، شکاگو: میرے خیال میں یہ سب سیاست چمکانے کا ایک طریقہ ہے۔

نامعلوم: مہاجرین کی بہت سی بیواؤں اور یتیموں کو سب سے پہلے توجہ کی ضرورت ہے۔

ساجد علی بہرانی، دبئی: ایم کیو ایم نے اپنی تشکیل کے پہلے روز سے ہی بلیک میلنگ کی سیاست کی ہے۔ وہ اپنی بات منوانے کے لئے گولی اور گالی کا استعمال کرتی رہی ہے۔ الطاف حسین ہی نے کہا تھا کہ اردو بولنے والے ٹی وی اور وی سی آر بیچ کر اسلحہ خریدیں۔ شائستہ کے معاملے میں بھی کچھ ایسا ہی لگتا ہے مگر میں اس بات کی حمایت کرتا ہوں کہ شائستہ کو تحفظ ملنا چاہئے۔ اس لئے الطاف حسین کے بیان کے حوالے سے یہ بات نہیں دیکھنی چاہئے کہ کون بات کر رہا ہے بلکہ یہ دیکھنا چاہئے کہ کیا بات کر رہا ہے؟

ابرار بیگ، برمنگھم: ایم کیو ایم کا یہ اقدام جاگیردارانہ نظام کے خلاف بہت بڑا قدم ہے کیونکہ یہی وہ واحد جماعت ہے جس میں ملک کا کوئی وڈیرہ یا جاگیردار شامل ہوا ہو۔ ایم کیو ایم ہی اس نظام کو ختم کرنے میں سب سے زیادہ مخلص ہے اور الطاف حسین کا منصوبہ مظلوموں کے لئے امید کی کرن ہے۔

کاشف سلیم، ملتان: سب مائع ہے۔ ایک یا دو مزید وزارتیں مل جانے کے بعد کون سی شائستہ عالمانی اور کیسی دھمکیاں؟

اصمار نبیل، ٹورانٹو: میرے خیال میں یہ ایم کیو ایم کی جانب سے عوامی حمایت حاصل کرنے اور سندھ کی ڈگمگاتی حکومت کو مزید کمزور کرنے کے لئے ایک نیا حربہ ہے۔

سعید احمد چشتی، پاک پتن: پاکستانی سیاستدان بات کا پتنگڑ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ ان سیاسی جماعتوں کو ملک کے استحکام کے لئے کام کرنا چاہئے۔

نیر حسن، جدہ: یہ ایک سنگین معاملہ ہے اور اس کے خلاف آواز بھی بلند کرنی چاہئے لیکن ایم کیو ایم کا اقدام صریحاً ایک سیاسی پیش رفت ہے اور وہ لوگ جو اس جماعت کے واقف ہیں اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ کوئی بھی سمجھدار شخص ایم کیو ایم سے ایسے اچھے قدم کی توقع نہیں کرتا۔

انصاف

 اگر کوئی کسی کو انصاف دلانا چاہ رہا ہے تو باتیں بنا رہے ہیں۔ ہم بس یہی چاہتے ہیں کہ عورت کو انصاف ملے۔

رابعہ ارشد، ناروے

رابعہ ارشد، ناروے: جب عورت کے ساتھ ظلم ہوتا ہے آواز اٹھائی جاتی ہے لیکن اگر کوئی کسی کو انصاف دلانا چاہ رہا ہے تو باتیں بنا رہے ہیں۔ ہم بس یہی چاہتے ہیں کہ عورت کو انصاف ملے۔

ساحر، کراچی: الطاف حسین ہماری سیاست کے سب سے بڑے اداکار ہیں۔

دلاور خان، امریکہ: ہمارے سیاسدانوں کی پرانی عادت ہے کہ وہ ہمیشہ کسی کندھے کی تلاش میں رہتے ہیں کہ اس کی آر میں کوئی فائدہ حاصل کر سکیں۔ آج جب الطاف حسین کی سیاست دم توڑ رہی ہے تو ایک دکھی عورت کے نام پر نئی سیاست شروع کر دی ہے۔

محمد مبشر، کویت: ایم کیو ایم کو چاہئے کہ کراچی میں جاری لوٹ مار پر توجہ دے ورنہ ایم کیو ایم کا نام بدنام ہو جائے گا۔

زاہد محمود، ٹورانٹو: سب ٹوپی ڈرامہ ہے۔

ارشد مجید غوری، امریکہ: یہ ایک سیاسی چال کا حصہ ہے جیسے ماضی میں ایک لڑکی کی موت کا مسئلہ کھڑا کر کے مہاجرین کا مسئلہ پیدا کیا تھا اسی طرح شائستہ کے معاملے کی آڑ میں سندھ میں پاؤں جمانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ہمدردی نہیں شہریت

 ضرورت اس بات کی ہے کہ الطاف صاحب زبانی ہمدردی کی بجائے انہیں برطانیہ میں آباد کرانے کی کوشش کریں۔

فیصل تقی، کراچی

فیصل تقی، کراچی: چاہے یہ حقیقت ہو یا سیاسی ڈرامہ، دونوں صورتوں میں شائستہ کے لئے کچھ نہ کچھ بہتری ظاہر ہوتی ہے۔ البتہ ضرورت اس بات کی ہے کہ الطاف صاحب زبانی ہمدردی کی بجائے انہیں برطانیہ میں آباد کرانے کی کوشش کریں۔

چوہدری عابد عظیم، راولپنڈی: میرے خیال میں الطاف حسین نہ صحیح قدم اٹھایا ہے۔

سعید محمد خٹک، نوشہرہ: الطاف بھائی آپ پاکستانی سیاست سے باہر ہیں اور دوبارہ ملکی سیاست میں آنے کے لئے مختلف طریقے اپنا رہے ہیں۔ اب بات ختم ہو چکی ہے کیونکہ عالمانی کو ان کے شوہر نے طلاق دے دی ہے اس لئے ہمیں اب یہ مسئلہ ختم کر دینا چاہئے۔

ڈاکٹر عبدل مجید، فیصل آباد: الطاف حسین ایک قاتل اور اشتہاری شخص ہیں اس لئے ان کے بارے میں اس فورم پر بات کرنا بی بی سی کو زیب نہیں دیتا۔

سید ابو انتظام، ملتان: یہ سب کچھ صرف اور صرف خود کو خبروں کا مرکز بنانے کے لئے ہے ورنہ پاکستان میں ایک نہیں بہت سی شائستہ ہیں۔

طفیل جمالی، لاڑکانہ: ایم کیو ایم کو شائستہ کی فکر نہیں بلکہ اسے اپنی وزارتیں حاصل کرنی ہیں۔ اگر اسے سندھ کی اتنی فکر ہے تو تھل کینال اور کالا باغ ڈیم کے خلاف حکومت کو دھمکی دے اور اگر حکومت نہیں مانتی تو اس سے علیحدہ ہو جائے۔

مرزا الطاف، آسٹریلیا: ایم کیو ایم صرف اپنی سیاست کی کرسی بچانے کے لئے یہ سب کچھ کر رہی ہے۔ الطاف حسین نے خود بہت سے لوگوں کے گھر تباہ کئے ہیں اور اب وہ لوگوں کو بچانے کی باتیں کرنے لگے ہیں۔ لیکن اس طرح کا مذاق پاکستانی سیاست میں پہلی بار نہیں ہو رہا ہے۔

عبداللہ خان، کراچی: اگرچہ شائستہ عالمانی کا واقعہ ایک المناک سانحہ ہے لیکن اخلاقی قدروں سے گرے ہوئے افراد اس واقعہ کو اپنے مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ ایم کیو ایم جس تیزی کے ساتھ اپنی مقبولیت کھو چکی ہے اس کا اندازہ سیاسی بوکھلاہلٹ سے بھرے اس بیان سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

سرفراز چیمہ، پرتگال: وہ اس معاملے سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

سید زیدی، کینیڈا: میری رائے میں یہ ایم کیو ایم کا ڈرامہ ہے اور اس کے پیچھے سیاسی مقاصد مضمر ہیں۔ جب ان سے کوئی کام نہیں ہوتا تو وہ اس طرح کی دھمکی دین لگتے ہیں۔

ایم عارف، دبئی: جی نہیں ایم کیو ایم کے کوئی سیاسی مقاصد نہیں ہیں بلکہ وہ تو ہمیشہ سے مظلوموں کے ساتھ ہے۔

خان، مسیساگا: خود کی تشہیر کے لئے یہ ان کا سیاسی حربہ ہے۔ اس کے علاوہ وہ اپنی سندھی ہلیہ کا دل بھی جیتنا چاہتے ہیں۔

عارف بلوچ، کراچی: یہ سب سستی شہرت کے لئے ہے اور بلیک میلنگ ہے۔

سید احمد، پاکستان: یہ سب سیاست ہے، یہ مخلصی نہیں ہے۔

نامعلوم: یہ صرف سیاست ہے اور سندھ میں یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے۔

عظیم ہیں۔۔۔

 اگر وہ یہ انسانیت کی بنیاد پر کر رہے ہیں تو وہ بلاشبہ ایک عظیم لیڈر ہیں۔

شفیق اعوان، پاکستان

شفیق اعوان، پاکستان: اگر الطاف حسین یہ سب کچھ انسانیت کی بنیاد پر کر رہے ہیں تو وہ بلاشبہ ایک عظیم لیڈر ہیں۔

عبدالجبار، کینیڈا: ایم کیو ایم سیاسی کھیل کھیل رہی ہے جس سے کراچی کو بہت نقصان ہوا ہے۔ اس سے کسی کی مدد مقصود نہیں ہے۔

راحیل خان، کراچی: الطاف حسین کا حکومت کو الٹی میٹم دینا درست ہے کیونکہ سندھ میں سرداروں کا راج ہے جن کے خلاف صرف الطاف حسین ہی آواز بلند کر سکتے ہیں۔

سید رضوی، کینیڈا: میرے خیال میں یہ الطاف حسین کا نیا سیاسی حربہ ہے۔ بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ سندھ کی ڈگمگاتی ہوئی حکومت کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ اور ایم کیو ایم کے درمیان ضرور کوئی بات چل رہی ہے۔

امتیاز حسین چٹھہ، گجرات: ایم کیو ایم صرف سیاست مفادات حاصل کرنا چاہتی ہے اور یہ پارٹی شائستہ کے معاملے سے مخلص نہیں ہے۔

ایم اویس، مسیساگا: الطاف حسین ایک دہشت گرد ہیں اور اب ایک نجات دہندہ ہونے کا سوانگ رچا رہے ہیں۔

محمد نجم، حیدر آباد: یہ سب سیاست ہے لیکن مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ انہوں ننے کوئی قدم تو اٹھایا چاہے وہ ناجائز ہی کیوں نہ ہو۔ یہ دیگر سیاست جماعتوں کے لئے بھی ایک پیغام ہے کہ وہ عوامی مسائل کے لئے اقدامات کریں۔

فیصل علی خان، حیدر آباد: یہ لوگ تو خود عصمتوں کے لٹیرے ہیں، یہ کیا جانیں کسی بیٹی کی حفاظت کرنا۔ یہ صرف اور صرف سیاست چمکا رہے ہیں۔

اظفر شیخ، سعودی عرب: اب چاہے کوئی اسے سیاست کہے مگر کسی کو تو آگے بڑھنا ہے۔ اگر ایم کیو ایم آگے بڑھ رہی ہے تو ہمیں اس کی حمایت کرنی چاہئے۔

عبدالرحمٰن بٹ، شارجہ: نو سو چوہے کھا کر بِلی گھر کو چلی۔

رضوان عادل، کراچی: ایم کیو ایم حکومت کو بلیک میل کر رہی ہے۔

کفارہ

 اگر الطاف حسین واقعی مخلص ہیں تو یہ اقدام ان کے لسانی منافرت پھیلانے کے اقدام کا کچھ حد تک کفارہ ادا کر سکے گا۔

محمد وقاص، آسٹریلیا

محمد وقاص، آسٹریلیا: یہ تو خدا ہی جانتا ہے کہ ایم کیو ایم کس قدر سنجیدہ ہے۔ مگر اگر الطاف حسین واقعی مخلص ہیں تو یہ اقدام ان کے لسانی منافرت پھیلانے کے اقدام کا کچھ حد تک کفارہ ادا کر سکے گا۔

امتیاز کرامت، کراچی: میرے خیال میں یہ سیاست ہے کیونکہ ایم کیو ایم کو اس طرح کے معاملات میں دلچسی نہیں ہے۔

سید عرفان، گلشن اقبال: یہ سب الطاف حسین صاحب کا ڈرامہ ہے۔ وہ پہلے بھی ایسے بہت سے ڈرامے کر چکے ہیں۔ اس سے عوام کی ہمدری حاصل کرنا مقصود ہے۔

صغیر احمد، کینیڈا: یہ صرف سیاست ہے کیونکہ الطاف حسین اس وقت کہاں تھے جب عالمانی کا مسئلہ شروع ہوا تھا۔ اس وقت کیا وہ سو رہے تھے؟ لیکن جب انہیں پتہ چلا کہ عالمانی سندھی ہیں تو ایم کیو ایم اپنے مقاصد کے حصول کے لئے حکومت کو بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

سلیم احمد، ریاض: ایم کیو ایم ایک حقیقی اور ایماندار جماعت ہے جو مذہبی اور نسلی تضادات سے بالاتر ہو کر صرف غریب لوگوں کی بہبود کے لئے کام کر رہی ہے۔ مجھے الطاف حسین کے اعلان پر فخر ہے۔

اللہ دتا، سویڈن: یہ سب سیاست ہے کیونکہ اس کے علاوہ بھی بہت سے مسائل حل طلب ہیں اس لئے محض عالمانی کے کیس کو بنیاد بنا کر حکومت سے علیحدہ ہونے کی دھمکی دینا ناانصافی ہو گی کیونکہ عالمانی کا مسئلہ انتظامیہ سے بات چیت کر کے بھی حل کیا جا سکتا ہے اس کے لئے کسی قسم کی دھمکی کی کوئی ضرورت نہیں۔ ایک طرف ملک میں لوگ ہلاک ہو رہے ہیں لیکن یہ لوگ اپنی سیاست چمکانے میں لگے ہیں۔

عاصم وِرک، نیویارک: اگرچہ میں ایم کیو ایم کا حامی نہیں ہوں لیکن پھر بھی اس بات کو سراہوں گا کہ ہمارے معاشرے میں موجود فرسودہ روایات کے خلاف کسی نے کوئی قدم تو اٹھایا ہے۔

ندیم خان، سعودی عرب: مجھے سمجھ نہیں آتی کہ جب کوئی شخص یا جماعت زمیندارانہ نظام کے خلاف آواز اٹھاتی ہے تو ہم اس پر شک کیوں کرتے ہیں۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ الطاف حسین کے دل و دماغ میں کیا ہے لیکن کم از کم انہوں نے ایک بری روایت کے خلاف آواز تو بلند کی ہے۔

عطا اللہ شاہ، پاکستان: الطاف حسین اپنی سیاسی پوزیشن کو مزید مستحکم کر لیں گے۔

محمد صالح، راولپنڈی: پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی سیاسی جماعت، سیاستدان، سرکاری یا فوجی افسر نے ایسی جرات کا مظاہرہ نہیں کیا کہ اس نے سچ بولا ہو یا حق کا ساتھ دیا ہو۔ اس اعتبار سے ایم کیو ایم کی دھمکی محض ایک سیاسی ڈرامہ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

سید اشرف علی شاہ، کینیڈا: اس کی وجہ محض سیاسی مقاصد کا حصول ہے۔

مہوش، کراچی: یہ سب ایک ڈھونگ اور سیاسی ڈرامہ ہے اور اسے محض اپنی سیاست چمکانے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔

منیر احمد بھٹی، گجرات: اگر پاکستان سے جاگیردارانہ نظام ختم کر دیا جائے تو تمام بدعنوانیاں خود بخود ختم ہو جائیں گی۔

گلزار خان چینا آقاخیل، کراچی: یہ سب سیاست ہے۔

مہاجروں کی بہن

 اب وہ تمام مہاجروں کی بہن ہیں اور یوں وزارت کیا ہے، ہم ان کے لئے اپنی جان بھی دے سکتے ہیں۔

ہاشم خان، کراچی

ہاشم خان، کراچی: الطاف بھائی نے شائستہ عالمانی کو اپنی بہن بنایا ہے تو اب وہ تمام مہاجروں کی بہن ہیں اور یوں وزارت کیا ہے، ہم ان کے لئے اپنی جان بھی دے سکتے ہیں۔

اپنی رائے بھیجیں
پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد