| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پندرہ جنوری: عورتوں کی تجارت
آج روزنامہ نوائے وقت نے ایک خصوصی رپورٹ شائع کی ہے جس سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان عورتوں کی تجارت کے کئی پہلو سامنے آئے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق خانیوال میں خرکاروں کے چنگل سے آزاد ہونے والے ذاکر حسین نے بتایا ہے کہ خرکار کیمپ چلانے والوں کا سرغنہ ’بڑا خان‘ ہیلی کاپٹر پر آتا ہے اور پسند کی لڑکیوں کو اٹھا کر لے جاتا ہے۔ اس خبر کے مطابق کیمپس میں اڑھائی سو نوجوان لڑکیاں ہیں۔ جنہیں افغانستان اور پاکستان کی مختلف منڈیوں میں فروخت کیا جاتا ہے ۔ خبر کے مطابق اس کیمپ میں بجلی کے جھٹکے دیے جاتے ہیں، بلیڈ سے زبان پر ٹک لگائے جاتے ہیں اور آنکھوں میں ایسی دوائی ڈالی جاتی ہے جس سے آنکھیں دھندلا جائیں۔ کوئی بھی دن ایسا نہیں جاتا جب غیرت کے نام پر قتل کی خبر اخبار میں نہ آئے۔ ایسی ہی ایک خبر روزمانہ جنگ کی جمعرات کی اشاعت میں ہے۔ خان پور میں محمد رمضان نے عزت کے نام پر کلہاڑی کے وار کرکے بیوی، بہن اور والدہ کو بے دردی سے قتل کر دیا۔ اسے بیوی اور بہن کے چال چلن پر شبہ تھا۔ خبر نامکمل اس لئے تھی کہ اس میں ملزم کے پکڑے جانے یا فرار ہونے کی کوئی اطلاع نہ تھی۔ اخبار میں شائع ہونے والی یہ خبر جاپان کی بنائی گئی ’مرضی کے خواب دکھانے والی مشین‘ کی خبر کی چکاچوند میں گم ہوگئی تھی۔ یہی خبر روزنامہ خبریں کے مطابق اس طرح سے تھی کہ خرچہ نہ ملنے پر محمد رمضان نے بیوی، بہن اور والدہ کو قتل کر دیا اور فرار ہوگیا۔ روزنامہ دن کی ایک خبر میں بیان ہے کہ فیکٹری ایریا کے علاقے النور ٹاؤن کے رہائشی محمد اشرف کی بیوی چار بچوں سمیت بھاگ گئی۔ اس خبر سے واضح نہیں ہوتا کہ کیا بیوی بھاگی تھی؟ اگر بھاگی تھی تو اس کی کیا وجہ تھی؟ اور اگر اسے محمد اشرف کے بیان کے مطابق اغوا کیا گیا ہے تو اس کا محرک کیا تھا؟ اسی اخبار میں خبر ہے کہ نصیرآباد کے علاقے گلاب دیوی ہسپتال کے قریب جوس پینے سے انکار کرنے پر ویگن کنڈیکٹر نے ایک مسافر خاتون کے ساتھ بدتمیزی کی، تھپڑ مارے اور نقاب نوچ کر اسے بےپردہ کر دیا۔ پاکستان میں خواتین کو اعلیٰ سرکاری عہدوں پر تعینات تو کیا جانے لگا ہے لیکن ابھی بھی انہیں امتیازی رویئے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس بات کو لاہور ہائی کورٹ کی سابق جج ناصرہ جاوید اقبال نے اپنی حالیہ گفتگو میں اجاگر کیا ہے۔ جمعرات کے روز جنگ اخبار کی اشاعت کے مطابق ’اکیس ویں صدی میں خواتین کا کردار‘ کے موضوع پر ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ جاوید نے کہا ہےکہ جب تک عورتوں کو مردوں کے برابر حقوق نہیں ملتے، ترقی ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ دنیا کا دو تہائی کام صرف خواتین کرتی ہیں اور ان کو ان کے کام کا معاوضہ صرف دس فیصد دیا جاتا ہے اور جائداد میں ان کو صرف ایک حصہ دیا جاتا ہے۔ خبر کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ جسٹس فخرالنسا کو چیف جسٹس صرف عورت ہونے کی وجہ سے نہیں بنایا گیا۔ انہوں نے روزنامہ نوائے وقت کی خبر کے مطابق کہا ہے کہ خواتین ناانصافیوں کا مقابلہ اجتماعی طور پر کریں۔ حکومتی سطح پر خواتین کے مسائل کے حوالے سے اقدامات کئے جارہے ہیں، چاہے کم ہی سہی اور اس سلسلے میں پرزور بیانات اور اعلانات سامنے آتے رہتے ہتیں۔ اسی ضمن میں آج روزنامہ دن کی اشاعت کے حوالے سے صوبائی وزیر معاشرتی بہبود سیدہ صغرا حسین امام نے کہا ہے کہ جیلوں میں زیادہ مدت کے لئے قید عورتوں کی تعلیم اور انہیں ہنر مند بنانے کی تربیت کے لئے سہولتیں فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ خود کفیل ہو سکیں۔ اس خبر کے مطابق قیدی خواتین اور بچوں کی تربیت، رہائی اور بحالی کے لئے مونیٹرنگ سیل قائم کئے جا رہے ہیں۔ روزنامہ خبریں نے خبر دی ہے کہ گزشتہ روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر بیت المال چوہدری اعجاز شفیع نے بتایا ہے کہ بیواؤں کو نقد مالی امداد دینے کی بجائے ان کی فنی تربیت کے لئے ووکیشنل سینٹرز قائم کئے جائیں گے جس سے انہیں روزگار ملے گا۔ اس رپورٹ کے مطابق علاج معالجہ کے لئے مختص آٹھ فیصد بجٹ سے تین فیصد ایسی خواتین کے لئے مخصوص ہوگا جن کے چہرے چولہے پھٹنے سے، یا تیزاب پھینکنے سے جھلس جاتے ہیں۔ ایک طرف تو عورتوں کے خلاف ہونے والے جرائم کی بے شمار سنگین خبریں ہیں اور ایک طرف لیڈیز کلب کی خواتین کے دعوے۔ ان دعووں پر یقین کرنے کو دل نہیں کرتا۔ روزنامہ خبریں کے ایک صفحے کے خواتین ایڈیشن نے لاہور لیڈیز کلب کی صدر بیگم اقبال سے کی گئی گفتگو شائع کی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ہماری خواتین کو اپنے حقوق کا علم ہی نہیں۔ اس کے علاوہ یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس کلب میں شامل خواتین دوسرے علاقوں میں جاکر خواتین کے مسائل حل کرتی ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب نوٹ: سیدہ سمانہ زہرا زیدی پنجاب یونیورسٹی میں لسانیات کی طالبہ ہیں۔ اور بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے لئے ذرائع ابلاغ میں خواتین سے متعلق مسائل پر ڈائری لکھ رہی ہیں۔ آپ اس ڈائری پر اپنی رائے دیں۔
|
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||