BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 January, 2004, 17:52 GMT 22:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تیرہ جنوری: عورت، پسند کی قیمت

پسند کی قیمت
پسند کی قیمت
جہاں ایک طرف عورتوں پر ظلم و زیادتی کے بہت سے واقعات روزانہ رونما ہوتے رہتے ہیں، دوسری طرف سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر ایسے کام بھی کئے جارہے ہیں جس سے عورتوں کو زیادہ تحفظ مل سکے۔

اس سلسلے میں پنجاب اسمبلی میں سرکاری جماعت مسلم لیگ (ق) کی رکنِ اسمبلی سمیعہ انجم نے گھریلو تشدد روکنے کے لئے ایک بل پیش کر رکھا ہے۔ کل انہوں نے ایک بیان دیا ہے کہ وہ بل منظور کروانے کے لئے ثابت قدم ہیں۔

 گزشتہ سال تقریباً پندرہ سو لڑکیاں مختلف شیلٹر ہومز میں پناہ کی غرض سے گئیں اور پسند کی شادی نہ ہونے اور گھریلو جھگڑوں کے باعث پنجاب بھر میں چار سو تیس عورتوں نے خود کشی کر لی۔
اخبار سنڈے ایکسپریس

پاکستان میں پسند کی شادی کرنا ایک سماجی موضوع ہے۔ عورتوں کے بارے میں اکثر خبریں اس موضوع کے ارد گرد گھومتی ہیں۔ بعض عورتیں اس لئے قتل کر دی جاتی ہیں کہ وہ والدین کی مرضی کے بغیر پسند کی شادی کر لیتی ہیں یا کرنا چاہتی ہیں۔ اخبار سنڈے ایکسپریس کے مطابق گزشتہ سال تقریباً پندرہ سو لڑکیاں مختلف شیلٹر ہومز میں پناہ کی غرض سے گئیں اور پسند کی شادی نہ ہونے اور گھریلو جھگڑوں کے باعث پنجاب بھر میں چار سو تیس عورتوں نے خود کشی کر لی۔

حال ہی میں سپریم کورٹ کا فیصلہ، کہ عورت ولی کی مرضی کے بغیر شادی کر سکتی ہے، سامنے آیا۔ اس سلسلے میں جیو ٹی وی نے ایک ’الجھن سلجھن‘ نامی ایک دلچسپ پروگرام نشر کیا۔ اس پروگرام کے مطابق پسند کی شادی نہ ہونے کی وجہ سے وہ عورت جس کا انٹرویو لیا جا رہا تھا، نفسیاتی مسائل کا شکار ہے۔ وہ اکثر چھری اور چاقو اس خدشے کے تحت چھپا دیتی ہے کہ کہیں اپنے ہی بچوں کو نہ مار ڈالے۔ پروگرام کے مطابق شادی سے پہلے اس عورت کے کسی اور سے تعلقات تھے لیکن کچھ مسائل کی وجہ سے پسند کی شادی نہ ہو سکی۔ ماہرین نے اسے مشورہ دیا کہ اس کے لئے یہی بہتر ہے کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہے۔ انہوں نے اس مسئلے کی بھی نشاندھی کی کہ ایسی شادیاں جس میں میاں بیوی ایک دوسرے سے دور رہتے ہیں جیسے کہ بیرونِ ممالک کام کرنے والے، نوّے فیصد ناکام رہتی ہیں۔

پیر کی شام انڈس نیو ز چینل نے ایک پروگرام دکھایا۔ کمپیئر مجاہد بریلوی نے سندھ کی مشہور شخصیت مہتاب راشدی اور سابق سپیکر قومی اسمبلی الٰہی بخش سومرو سے عورتوں پر ہونے والی زیادتیوں کے حوالے سے بات کی اور عوام سے ٹیلیفون کالز بھی لیں۔

 محلہ بخاری کے پرویز حسن نے اپنی بیٹی کا پہلے ایک شخص کے ساتھ چالیس ہزار لے کر نکاح کیا مگر رخصت نہیں کیا۔ بعد میں اس نے ایک اور شخص سے تیس ہزار لے کر نکاح شدہ بیٹی کا دوبارہ نکاح کروا دیا۔
روزنامہ خبریں

روزنامہ خبریں کے مطابق مظفر گڑھ کے محلہ بخاری کے پرویز حسن نے اپنی بیٹی کا پہلے ایک شخص کے ساتھ چالیس ہزار لے کر نکاح کیا مگر رخصت نہیں کیا۔ بعد میں اس نے ایک اور شخص سے تیس ہزار لے کر نکاح شدہ بیٹی کا دوبارہ نکاح کروا دیا۔ اس خبر میں اگر والدین اور پولیس کا موقف بیان کیا جاتا تو خبر واضح ہو جاتی۔

ضلع سکھر کی شائستہ عالمانی کا کیس بدستور اخبارات کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ آج کے روزنامہ نوائے وقت کے مطابق شائستہ نے بتایا ہے کہ این جی اوز اور میڈیا نے انہیں کمائی کا ذریعہ سمجھا۔ شائستہ کے باپ کا کہنا ہے کہ وہ واپس گاؤں چلے تاکہ اس کی باقی بیٹیاں بچ سکیں اور یہ کہ ’مجھے سرداروں سے بھی بنا کر رکھنی ہے۔‘ اس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستانی معاشرے میں قبائلی نظام کے زیرِ اثر عورتوں کے حقوق کس طرح پامال ہوتے ہیں۔ منگل کے دن ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے شائستہ نے کہا ہے کہ انہیں ابھی تک جان کا خطرہ ہے، وہ پولیس کی نوکری جان کے تحفظ کی عرض سے کرنا چاہتی ہے اور اس نے جنرل پرویز مشرف سے اپیل کی ہے کہ وہ اسے تحفظ فراہم کریں۔

بعض علاقوں میں گاؤں کے بااثر وڈیرے یا چوہدری ’کاری‘ عورت کی پنچایت میں جان بخشی کروا کے اسے اپنی لونڈی بنا لیتے ہیں اور اس عورت کو بغیر شادی کئے ان کی خواہشات کا احترام کرنا پڑتا ہے
روزنامہ ایکسپریس

روزنامہ ایکسپریس کے مطابق بعض علاقوں میں گاؤں کے بااثر وڈیرے یا چوہدری ’کاری‘ عورت کی پنچایت میں جان بخشی کروا کے اسے اپنی لونڈی بنا لیتے ہیں اور اس عورت کو بغیر شادی کئے ان کی خواہشات کا احترام کرنا پڑتا ہے اور ان کی غلامی میں ساری زندگی گزارنی پڑتی ہے۔ اسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جہیز کی کمی اور سسرال والوں کے مطالبات پورے نہ کرنے کے باعث ایک سو اٹھارہ عورتوں کو زندہ جلانے کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔

روزنامہ نوائے وقت میں خبر ہے کہ لاہور مانگا منڈی کے گاؤں مانگا ہٹار میں خالہ اور خالو نے دو بیٹوں کے ساتھ مل کر تیرہ سالہ بھانجی کو اغوا کر لیا اور اپنے گاوں پتوکی لے گئے۔ یہ خبر انتہائی سرسری انداز میں شائع کی گئی ہے۔ روزنامہ خبریں نے فتح پور میں دو بہنوں کے اغوا اور اجتماعی زیادتی کی خبر شائع کی ہے۔ یہ خبر بھی بہت سی اور خبروں کی طرح اخبارات کے صفحات میں کہیں چھپ گئی تھی اور بہت بے معنی سی معلوم ہوتی تھی۔

اسی اخبار کی خبر کے مطابق باپ نے دو بیٹیوں سمیت ٹرین کے نیچے آکر خودکشی کرلی۔ باپ ادریس بیٹیوں کو زبردستی نانی کے گھر سے لے گیا تھا۔ اسی خبر میں بتایا گیا کہ انیس سو بانوے میں اس نے اپنی دو بہنوں کو قتل بھی کیا تھا۔ خبر سے یہ بات واضح نہ ہو سکی کہ ادریس نے بہنوں کو قتل کیوں کیا تھا۔

نوٹ: سیدہ سمانہ زہرا زیدی پنجاب یونیورسٹی میں لسانیات کی طالبہ ہیں۔ اور بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے لئے ذرائع ابلاغ میں خواتین سے متعلق مسائل پر ڈائری لکھ رہی ہیں۔ آپ اس ڈائری پر اپنی رائے دیں۔

آپ کی رائے

یم اے بنین، اسلام آباد، پاکستان

یہ بہت دکھ کی بات ہے۔ یہ انسانیت کے منافی ہے اور نہ ہی اسلام ہمیں اجازت دیتا ہے کہ ہم عورتوں کے ساتھ امتیازی سلوک برتیں۔ ہمیں اس کا خاتمہ کرنا چاہئے اور حکومت اور غحر سرکاری تنظیموں کو اس کے خلاف سخت ایکشن لینا چاہئِے۔

زاہد ممتاز، پاکستان

یہ سب کچھ عورت کی عظمت اور شان کے خلاف ہے اور ایسے واقعات کی ہر سطح پر مذمت کرنی چاہئے اور حکومت کو بھی ایکشن لینا چاہئے۔ میری سیدہ سمانہ زہرا زیدی سے صرف ایک گزارش ہے کہ وہ جہاں ان واقعات کا ذکر کریں، عورتوں نے جو ترقی کی ہے اس کا بھی ذکر کریں۔ مثلاً پاکستان میں عورتیں ایک بڑی تعداد میں وکلاء، جج اور دیگر کئی شعبوں میں کام کر رہی ہیں اور مردوں سے بہتر کام کر رہی ہیں، اس کا بھی سامنے آنا ضروری ہے۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد