خواتین اور پاکستانی اخبارات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دس جنوری: خواتین اور جرائم آج پاکستانی اخباروں میں عورتوں کے ساتھ ہونیوالے جرائم کو خاص جگہ دی گئی ہے۔ نوائے وقت میں ایک خبر ہے: ’غریب محنت کش کی بیٹی، ایک سال تک برائی کے اڈوں پر لٹتی رہی۔‘ بورے والا گاؤں کے سردار محمد کی چودہ سالی بیٹی کی یہ کہانی ہے جسے اغوا کرکے ایک اڈے پر، جسم فروشی کے لئے لے جایا گیا جس کا مالک وکیل تھا۔ اخبار نے اس خبر کو سنسنی خیز طریقے سے پیش کیا۔ یہ خبر اخبار کے آخری صفحے پر شائع کی گئی ہے۔ اگر میں ایڈیٹر ہوتی تو اسے صفحۂ اول پر جگہ دیتی۔ اس خبر کو پڑھنے سے لگتا ہے کہ رپورٹر نے غربت پر زور زیادہ دیا ہے، نہ کہ واقعہ کی تفصیل پر۔خبر کو اس طرح سے پیش کیا جانا چاہئے تھا جس سے اس کا اثر ختم نہیں ہوتا۔ اخبار جنگ نے بھی ایک خبر شائع کی ہے جس کے مطابق نوشہرہ کے قریب ایک بیس سالہ لڑکی کو اس کے شوہر نے شادی کی دوسری رات طلاق دے دی۔ وہ والدین کے پاس آگئی، بعد میں والدین نے دھمکی دی کہ اگر وہ اپنے شوہر کے یہاں نہیں گئی تو اسے قتل کردیا جائے گا۔ جان بچانے کے لئے وہ لاہور پہنچی جہاں اسے سرکاری ادارے دارالامان بھیج دیا گیا۔ یہ خبر پڑھ کر ذہن میں کئی سوالات ابھرتے ہیں۔ آخر طلاق کیوں دی گئی؟ طلاق کے بعد بھی اس کے ماں باپ نے اسے واپس جانے کو کیوں کہا؟ نوبت قتل تک کیوں پہنچی؟ رپورٹ کو تفصیل سے لکھنا چاہئے تھا تاکہ قارئین کسی نتیجے پر پہنچتے۔ جرائم کی باقی خبروں کی طرح اخبار کے اندرونی صفحات میں یہ خبر بھی ٹنڈر نوٹسوں اور اشتہارات کے درمیان گم ہوگئی ہے۔ آج جنگ نے گزشتہ سال ہونیوالے جرائم کی وارداتوں پر ایک خصوصی صفحہ بھی شائع کیا گیا ہے لیکن اس خصوصی اشاعت میں عورتوں کے خلاف ہونیوالے جرائم کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔ اردو روزنامہ ایکسپریس نے اوکاڑہ سے اغوا کی جانیوالی عورت کے بارے میں ایک خبر شائع کی ہے۔ اس کے مطابق احمد علی کی شادی شدہ بیٹی کو چار ماہ قبل آصف اور راشد نے اغوا کرلیا۔ بعد میں پنچایت کے ذریعے لڑکی کو واپس بلایا گیا۔ شمیم کو اس کے بہن کے گھر سے ایک بار پھر اغوا کرلیا گیا۔ رپورٹر نے اس خبر کے کئی پہلوؤں کو نظر انداز کیا ہے: جیسے اسے اغوا کیوں کیا گیا؟ پنچایت نے انہیں کیوں چھوڑا؟ ان کے خلاف کارروائی کیوں نہ کی گئی؟ روزنامہ دن لاہور میں ایک مثبت خبر یہ بھی ہے کہ خواتین کا معاشی تحفظ موجودہ دور کی ضرورت ہے۔ خواتین و بہبود کی پنجاب کی صوبائی وزیر عاشفہ ریاض سے انٹرویو پر مبنی یہ خبر ایک خاتون رپورٹر نے لکھی ہے جس میں وزیر نے کہا ہے کہ عورتوں کو ہنر مند بناکر معاشی طور پر مضبوط اور خودمختار بنایا جائے۔ اخبار جنگ نے ایک خبر شائع کی ہے: امام بخش پر لگائے گئے الزامات کی تردید۔ اس کے مطابق مرضی کی شادی میں تشدد کی گنجائش نہیں۔ اس خبر میں اعتراف کیا گیا ہے کہ بِسما کی ماں اس رشتے سے خوش نہیں تھی اور اسے بلیک میلِ کیا کرتی تھی۔ رپورٹر نے خبر کے صرف ایک پہلو کو بیان کیا ہے۔ یہ خبر پڑھ کر ذہن میں سوال اٹھتا ہے کہ کیا وہ لڑکی امام بخش کے تشدد کا نشانہ بنی؟ یا اس نے اعتراف کیا؟ اور اگر کیا تو اس کا میڈیکل چیک اپ کیوں نہیں کیا گیا کیونکہ لڑکے نے اس الزام کی تردید کی ہے کہ اسے سگریٹ سے نہیں داغا گیا؟ اچھا ہوتا کہ خبر کو یک طرفہ انداز میں پیش نہ کیا جاتا بلکہ میاں بیوی دونوں کے موقف کو سامنے رکھا جاتا۔ رپورٹر نے لڑکی والوں سے بات نہیں کی ہے۔ عموما پاکستان کے ٹی وی چینل عورتوں کے خلاف جرائم کو اپنی خبروں میں شامل نہیں کرتے۔ اوپر جو واقعات بیان کیے گئے ہیں انہیں کسی ٹی وی چینل نے آج نشر نہیں کیا ہے۔ مگر ٹی وی چینل پر عورتوں کے عمومی مسائل پر بحث ضرور ہوتی ہے۔ لیکن ہفتے کے روز انڈس ٹی وی کے پروگرام ’شہر شہر گاؤں گاؤں‘ میں رپورٹر مجاہد بریلوی نے قصبے قصبے جاکر خواتین کونسلروں سے انٹرویو کیے اور عورتوں کے مسائل کے بارے میں ان کے کام کاج سے متعلق دریافت کیا۔ میڈیا میں عورتوں سے متعلق مسائل کی کوریج ہورہی ہے۔ لیکن عورتوں کی معاشی زندگی، سماجی سرگرمیوں اور زندگی کے مختلف پہلو اخبارات کی توجہ سے محروم نظر آتے ہیں۔ تاہم ٹی وی چینلوں کا دائرہ کار اخبارات کی نسبت زیادہ وسیع ہے۔ نوٹ: سیدہ سمانہ زہرا زیدی پنجاب یونیورسٹی میں لسانیات کی طالبہ ہیں۔ اور بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے لئے ذرائع ابلاغ میں خواتین سے متعلق مسائل پر ڈائری لکھ رہی ہیں۔ آپ اس ڈائری پر اپنی رائے دیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||