| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈائری: خواتین اور اخبارات
گیارہ جنوری: کاروکاری کے319واقعات آج جیو ٹی وی نے ایک رپورٹ میں کاروکاری کے رسم کی نشانہ بننے والی شائستہ عالمانی کے کیس کو اجاگر کیا ہے۔ اس پروگرام میں وفاقی وزیرداخلہ فیصل صالح حیات نے کہا کہ کاروکاری جیسے مسائل کا حل قوانین کی بھرمار نہیں ہے۔ شائستہ عالمانی نے بتایا کہ اسے جان کا تحفظ چاہئے لیکن اسی پروگرام میں وزیرداخلہ فیصل صالح حیات کا کہنا تھا کہ شائستہ کی حفاظت کی ذمہ داری وفاق پر نہیں، حکومتِ سندھ پر ہے۔ شائستہ کا کہنا تھا کہ اسے اب تک طلاق کے کاغذات نہیں ملے ہیں جو اسے ملنے چاہئے۔ جیو ٹی وی کے دوسرے پروگرام ’چھوٹی خبر بڑی بات‘ میں سندھ کی ڈِپٹی اسپیکر راحیل ٹوانہ نے بتایا کہ اس رسم کی شکار صرف لڑکیاں ہوتی ہیں اور لڑکے ہمیشہ بچ جاتے ہیں۔ ٹی وی نے مذہبی رہنماؤں کی رائے لی جنہوں نے بتایا کہ یہ رسم سراسر جہالت ہے اور اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق سن دوہزار تین میں پاکستان میں کاروکارے کے تین سو انیس واقعات پیش آئے۔ ہفتے کے روز شائستہ عالمانی کو ایدھی ہوم بھیجا گیا، جسمانی اور ذہنی چیک اپ کے بعد فِٹ قرار دیا گیا۔ میں نے آج دس انگریزی اور اردو اخبار دیکھے لیکن روزنامہ خبریں کے علاوہ کسی نے اس کے بارے میں کچھ نہیں لکھا ہے۔ اس کے شوہر بلخ شیخ کا اس بارے میں اب تک کوئی بیان کھل کر سامنے نہیں آیا ہے اور نہ ہی یہ کیس عام لوگوں کی نظر میں ہے۔ آج سنڈے ایکسپریس نے کاروکاری کی سیاہ رسم کا نشانہ بننے والی عورتوں کے بارے میں ایک خصوصی صفحہ شائع کیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اس رسم کے خلاف ابھی تک کوئی قانون نہیں بنایا گیا ہے۔ ’حوا کی بیٹی بدستور پستی رہی‘ کے عنوان اس خصوصی اشاعت میں یہ بھی بتایا گیا کہ اندرون سندھ جائداد پر قبضے کے لئے قرآن کےساتھ عورت کی شادی کی رسم عام ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال چھ سو پچیس خواتین کو پاکستان میں جائیداد، دشمنی اور ناجائز تعلقات کی وجہ سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اور لگ بھگ اسی فیصد عورتیں گھریلو تشدد کا نشانہ بنیں۔ اتوار کو نوائے وقت میں ایک خبر شائع ہوئی ہے جس کے مطابق دنیا بھر میں خواتین کی اسمگلِنگ نے باقاعدہ شکل اختیار کرلی ہے۔ اس سلسلے میں دس لاکھ خواتین اور بچے سالانہ اسمگل کیے جارہے ہیں اور اس تجارت سے سالانہ تیرہ ارب ڈالر کمائے جارہے ہیں۔ اس خبر میں یہ بتایا جانا چاہئے تھا کہ کس ملک سے کتنی خواتین اور بچے اسمگل کیے جاتے ہیں، اس میں پاکستان کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا گیا ہے۔ آج روزنامہ خبریں نے اوکاڑہ کی شائستہ بی بی کے بارے میں لکھا ہے جسے رپورٹ کے مطابق غلام رسول نے اغوا کرلیا۔ بازیابی کے بعد مجسٹریٹ کے حکم پر شائستہ کو دارالامان بھیجا گیا جہاں اسے دوبارہ اغوا کیا گیا۔ غلام رسول نے دارالامان کی دیواریں پھلانگ کر اسے اغوا کرلیا۔ خبر سے یہ واضح نہیں ہے کہ اگر وہ خود ہی غلام رسول کے ساتھ گئی تو اس واقعے کے لئے لفظ ’اغوا‘ کا استعمال کیوں کیا گیا؟ اور یہ بھی واضح نہیں ہے کہ مسجٹریٹ نے اسے دارالامان کیوں بھیجا؟ خبریں نے ہی سمن آباد سے دوبہنوں کے اغوا اور ان میں ایک سے اجتماعی زیادتی کی خبر پیش کی ہے۔ ملزمان نے فحش فلم بنائی جس کی بنیاد پر لڑکیوں کے والدین کو دھمکاتے رہے۔ اس خبر کو کسی بھی دوسرے پاکستانی اخبار نے شائع نہیں کیا ہے۔ نوائے وقت میں ایک رپورٹ کے مطابق بِسما امام نے جس کی خبر جنگ میں ہفتے کے روز شائع ہوئی تھی، کہا ہے کہ وہ اب کبھی شادی نہیں کرے گی۔ اس نے بتایا کہ اس پر سسرال والوں نے تشدد کیا ہے۔ اور اب وہ کسی خیراتی ادارے میں پناہ لینا چاہتی ہے مگر کل کی طرح آج بھی یہ رپورٹ یک طرفہ ہے کیونکہ لڑکے کا بیان شائع نہیں کیا گیا ہے تاکہ قارئین کسی نتیجے پر پہنچ سکتے۔ نوٹ: سیدہ سمانہ زہرا زیدی پنجاب یونیورسٹی میں لسانیات کی طالبہ ہیں۔ اور بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے لئے ذرائع ابلاغ میں خواتین سے متعلق مسائل پر ڈائری لکھ رہی ہیں۔ آپ اس ڈائری پر اپنی رائے دیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||