| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اخبارات اور پاکستانی خواتین سید ارشد اقبال، ناروے: ہمیں اب جواب چاہئے کہ خواتین کے خلاف ہونیوالے جرائم کو روکنے کے لئے حکومت کیا کررہی ہے؟ جواب کون دےگا؟ قیصر، تنولی، پاکستان: اگر پاکستان میں خواتین کا کوئی فورم ہو تو ان کے مسائل کو اجاگر کرنے میں مدد ملے گی۔ ایم جاوید انور، کینیڈا: عورتوں کے ان مسائل پر لکھنا ایک جہاد ہے۔ کسی نہ کسی کو شروع تو کرنا ہوگا۔ اخلاق حسین، ابوظہبی: میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح کے لوگ مسلمان نہیں ہیں جو عورتوں کے خلاف جرم کرتے ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ پیغمبر محمد نے اپنی بیٹی کو کتنی عزت دی۔ میرا سوال ہے: اس طرح کے رسومات کہاں سے پیدا ہوئے؟ ممد خان، ٹورانٹو: پاکستان میں یہ بڑا مسئلہ ہے کہ عوام تعلیم یافتہ نہیں ہیں، زیاد تر امیروں اور جاگیرداروں کے بارے میں خبریں بھی شائع نہیں ہوپاتی ہیں۔ یہ لوگ خواتین کے خلاف جرائم میں ملوث ہوتے ہیں لیکن ان کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی۔ محمد ثاقب احمد، بہار: جن رسومات کو ہمارے پیغمبر نے مٹا دیا تھا وہ آج پھر زندہ ہوکر اسلام کو بدنام کرنے اور دامنِ اسلام پر داغ لگانے کے لئے دشمنان اسلام کو موقع فراہم کررہے ہیں۔ شاز کھتری، بریڈفورڈ:اللہ نے مرد و عورت کو برابر پیدا کیا ہے اور مرد کو اپنی نگاہیں نیچی رکھنے کے لئے پہلے کہا ہے۔ عورت ہمیشہ سے مردوں سے دبتی آئی ہے لیکن اب سب سے اہم بات ان کا تعلیم حاصل کرنا ہے تاکہ ان میں اپنا حق حاصل کرنے کی جستجو بیدار ہو۔ یہ حق اسلام نے ہی عورت کو دیا ہے۔ خواتین سے بھی گزارش ہے کہ وہ خود کو مناسب اصولوں پر کاربند کریں۔ ایم فرقان خلیل، پاکستان: آپ حقیقت میں ایک بہادر اور مضبوط خاتون ہیں اور تاحیات مضبوط ہی رہیئے گا۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔ سید عاطق زیدی، کینیڈا: یہ بات بالکل درست ہے کہ رپورٹر حضرات یا تو تربیت یافتہ نہیں ہوتے یا پھر ان کے پاس خبروں کے لئے وقت نہیں ہے۔ یکطرفہ کہانی بااثر نہیں ہوتی۔ تعلیم یافتہ اور ذہین قاری اس بات سے آگاہ ہیں کہ اس واقعہ میں کوئی گڑبڑ ضرور ہے اور اس کے ذمہ دار مدیران اور رپورٹر حضرات بھی ہیں کیونکہ انہیں نامکمل خبریں شائع نہیں کرنی چاہئیں۔ شاہد غنی، لاہور: انتہائی متاثر کُن۔ بابر طور، میاں چنوں: خواتین کے لئے یہ ایک قابل ستائش اور اچھی کوشش ہے تاکہ خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی نشاندہی کی جا سکے۔ محمد عدیل سیٹھی، لاہور: قطعی متاثر کُن۔ گلفام قریشی، خوشاب، پاکستان: یہ کافی اچھی رپورٹ ہے۔ اس مطالعے سے ہمیں خبر کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں تفصیل ملتی ہے۔ انجینیئر ہمایوں ارشد، کراچی: انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں ان واقعات پر فوری طور پر کارروائی کریں۔
سعید احمد چشتی، پاک پتن: پاکستان میں خواتین پر تشدد کے حوالے سے یہ رپورٹ بھی مکمل نہیں کیونکہ پاکستان میں عورتوں پر اس سے کہیں زیادہ مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔ خواتین کو آج بھی اسلام میں دیئے گئے حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ سید افتخار گیلانی، ملتان: یہ ڈائری نہ صرف خواتین بلکہ مردوں کے لئے بھی بہت اچھی ہے۔ عبدالوحید: ہم صرف اسی طریقے سے خواتین کو ان کے حقوق سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ ایم صادق خان اعوان، کویت: بہت خوب۔ عباس علی خان ہامیہ، ہنزہ: خواتین کے خلاف ظالمانہ واقعات پر بی بی سی کی یہ کاوش قابلِ ستائش ہے۔ اس طرح خواتین میں اپنے حقوق کے تحفظ کا شعور بیدار ہو گا اور دوسرے لوگوں بھی خواتین سے کی جانے والی زیادتیوں سے آگاہ ہوں گے۔
عظمٰی رعنا، ٹوبہ ٹیک سنگھ: سمانہ نے اچھا تجزیہ پیش کیا ہے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ تعلیم یافتہ لوگ خواتین کو دق کرنے اور ان پر تشدد کرنے کے لئے بہت سی کوششیں کرتے ہیں چاہے یہ خواتین ان کی بہن، بیٹیاں اور بیویاں ہی کیوں نہ ہوں۔ بظاہر مہذب دکھائی دینے والے یہ لوگ حقیقت میں ظالم لوگ ہیں اور میڈیا میں ایسے افراد پر تنقید خال ہی کی جاتی ہے۔ رابعہ ارشد، ناروے: انہوں نے بہت اچھا لکھا ہے لیکن اصل بات ان پر اقدامات اٹھانے کی ہے کیونکہ اگر پولیس اور ذمہ دار ادارے ضروری کارروائی نہیں کرتے تو یہ بات بھی باقی کی طرح پرانی ہو جائے گی۔ ہمارے معاشرے میں خواتین کے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس پر قابو پانے کے لئے حکومت کو سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ محمد علی، کینیڈا: یہ بڑی اچھی کاوش ہے اور یہ کوشش جاری رہنی چاہئے تاکہ لوگوں کو یہ بات معلوم ہو سکے کہ پاکستانی معاشرے میں کیا ہو رہا ہے۔ اعجاز رعنا، کویت: سیدہ سمانہ بہت اچھا کام کر رہی ہیں اور اللہ ان کی مدد کرے۔
آصف اعوان، ملتان: میرے خیال میں آپ نے اچھا لکھا ہے کیونکہ اب ایسا ہونے لگا ہے کہ خواتین پر مظالم کی خبریں پچھلے صفحات پر جانے لگی ہیں۔ پتہ نہیں کہ آیا ہم بے حس ہوتے جا رہے ہیں یا ایسی خبروں کی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ میرے خیال میں مِس زیدی یا کوئی بھی اگر ان موضوعات پر قلم اٹھائے گا تو اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ سادات خان، ملتان: خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے ایک جامع منصوبہ ہونا چاہئے۔ میڈیا کو چاہئے کہ وہ خواتین کے حق میں مثبت خبریں شائع کرے اور لوگوں کو اس بات سے آگاہ کرے کہ خواتین کے ساتھ زیادتی کس قدر بری بات ہے۔ خکومت کو چاہئے کہ وہ خواتین کے تحفظ کے لئے سخت قوانین نافذ کرے اور خواتین کو ملازمتوں کے لئے اچھے مواقع بھی فراہم کرے۔
قیصر ساغر، کینیڈا: ہمیں ایسے موضوعات پر لکھنا اور بولنا چاہئے اور خبر کو سنسنی خیز بنانے کے مقابلے میں اس کی اہمیت نمایاں کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ راشد یونس، گوجرہ: آج کا مصنف وہ کام کر رہا ہے جس کی اس وقت ضرورت ہے تاکہ سماجی بدعنوانیوں کے بارے میں عام لوگوں میں شعور بیدار کیا جا سکے۔ شاہینہ اعوان، کینیڈا: میری رائے میں وہ محض میڈیا اور رپورٹروں کی کارگزاری پر تنقید کر رہی ہیں۔ انہوں نے اس صورت حال پر قابو پانے کے لئے کسی قسم کی تجاویز نہیں دی ہیں۔ اب ہمارے پاس مشاورت کے لئے پہلے سے زائد خواتین موجود ہیں اور یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ پارلیمان کو ان مسائل سے آگاہ کریں۔
شاہد کمال، برطانیہ: تنگ نظر خاتون کی یہ کاوش خواتین کو کوئی نیا راستہ نہیں دکھائے گی۔ اور اسلام کے حوالے سے خواتین کی ساکھ پر مزید منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس طرح کی تنقید کرنے والی خواتین کو خود سے یہ سوال کرنا چاہئے کہ وہ سوسائٹی کے لئے کیا کر رہی ہیں۔ میرے خیال میں انہیں مثبت رویہ اپنانا چاہئے۔ عامر کاظمی، لاہور: خواتین پر ڈھائے جانے والے مسائل سے پردہ اٹھانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ یوں لوگوں کی منفی تربیت ہو گی اور وہ مزید نئے طریقے سیکھیں گے۔ میرے خیال میں اس مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ تعلیم کو عام کیا جائے۔ دانش احمد، نیویارک: یہ ایک بہد ہی عمدہ تحریر ہے۔ بلاشبپ یہ سب کچھ جو پاکستان میں ہو رہا ہے بالکل سچ ہے۔ اس کی بنیادی وجہ شرح خواندگی ہے جو دنیا میں دوسرے آخری نمبر پر ہے۔ آصف نقوی، کراچی: آج کی جدید دنیا میں یہ ایک نہایت ہی نازک مسئلہ ہے۔ اسلام عورت اور مرد دونوں کو برابر کے حقوق دیتا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ ایسے مجرموں کے خلاف سخت ترین اقدامات کرے۔
عمر شاہ، نیویارک: میرے خیال میں یہ ایک بہترین کاوش ہے۔ وہ حقیقی معنوں میں جہاد کر رہی ہیں۔ اللہ ان کا حامی و ناصر ہو کیونکہ پاکستان جیسے معاشرے میں ایسا کرنا ایک خطرناک کام ہے۔ میڈیا کو محض تفریح کے حوالے سے اس مسئلہ کی نزاکت کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ علی رضا، جرمنی: پاکستان میں خواتین کے ساتھ جو سلوک کیا جارہا ہے اس کے خلاف صدر مشرف کو سخت کارروائی کرنی چاہئے۔ جرگہ سِسٹم بالکل ختم ہونا چاہئے۔ یہ لوگ جس طرح کے فیصلے کرتے ہیں، انہیں شرم نہیں آتی؟ خواتین کو اپنی مرضی سے کوئی فیصلہ کرنے کی آزادی بھی نہیں ہے۔ میرے خیال میں پی ٹی وی اور جیو ٹی وی کو خواتین کے مسائل پر پروگرام نشر کرنے کی ضرورت ہے۔ احمد شمشی، شارجہ: آپ لوگ اچھا کررہے ہیں۔ کسی دباؤ میں نہ آئیں اور اس مسئلے پر خوب لکھیں۔ زاہد اکبر، لندن: سمانہ کی تحریر اچھی ہے۔ اس میں کچھ مزید لکھنے کی ضرورت ہے، جیسے میڈیا کا خواتین کی جانب رویہ ایسا کیوں ہے؟ شیراز بٹ، ریاض: میرے خیال میں خبریں عورتیں لکھیں۔
عبدالعزیز ملک، سعودی عرب: میرے خیال سے عورت اس لئے ذلیل ہورہی ہے کہ یہ اللہ تعالی کی حدود کراس کرگئی ہے۔ اگر پردہ میں رہتی اور قرآن اور سنت پر عمل کرتی اور ایمان پر رہتی تو اس کا یہ حال نہیں ہوتا۔ فراز علی، ابوظہبی: میرے خیال میں اس موضوع پر مزید بحث کی ضرورت ہے۔ سمانہ زیدی کی تحریر اچھی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||