| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنسی ہراس پر خاموشی کیوں؟
عورتیں تقریباً ہر معاشرے اور طبقے میں جنسی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ تاہم مغرب میں میں جہاں عورتیں جنسی طور پر ہراساں کئے جانے کے خلاف آواز اٹھا لیتی ہیں، وہاں پاکستان میں بہت سی عورتیں بدنامی کے خوف سے کسی کو شریکِ درد بنانے کا تصور بھی نہیں کر سکتیں۔ جنسی زیادتی کے واقعات اندرون سندھ، پنجاب، یا بلوچستان کے پسماندہ علاقوں ہی میں نہیں بلکہ پاکستان کے بڑے شہروں میں پڑھے لکھےاور کھاتے پیتے گھرانوں میں بھی پیش آتے رہتے ہیں۔ خاندان کے افراد یا دفاتر اور کام کی جگہوں پر ساتھی ملازمین اور افسران کے خواتین ملازمین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات عام ہیں۔ بہت سی لڑکیوں اور خواتین کے لئے ان معاملات پر زبان کھولنا جنسی زیادتی کا شکار بننے کے ساتھ ساتھ بدنامی کا داغ مول لینا بھی ہے اور اکثر نوکری سے نکال دیئے جانے کی قیمت ادا کرنا بھی۔ کیا عورتوں کو جنسی طور پر ہراساں کئے جانے کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے؟ کیا آپ کے ساتھ یا آپ کے کسی جاننے والے کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ پیش آیا اور کیا انہوں نے آواز اٹھائی؟ کیا اپنی آواز بلند کئے اور معاشرے کے اس خموش جبر سے پردہ اٹھائے بغیر ہم اس طرح کے جرائم کے خلاف لڑ سکتے ہیں؟ آپ کا رد عمل یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں مبشر، ٹورانٹو: اگر آپ نے کینیڈا کے معاشرے میں قانون کی بالادستی دیکھی ہو تو میں سمجھتا ہوں کوئی بھی اس بات کا خیال دل میں نہیں لا سکتا۔ دوسری بات: قدرتی عمل یہ ہے کہ ہر چیز مخالف چیز میں کشش رکھتی ہے، اس کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ میں حیران ہوں کہ کینیڈا میں مرد زیادہ پابند ہیں اور عورت آزاد ہے۔ محمد عامر، پاکستان: ہر شخص کو اپنی فیملی اور اپنی بہنوں کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے۔ محمد صالح، راولپنڈی: پاکستان میں اسلام کے نام پر لوگوں کو بہت بےوقوف بنایا گیا ہے۔ حدود آرڈیننس کی آڑ میں بہت سی بےگناہ خواتین کو سزا دی گئی ہے۔ معاشرے کو تعلیم سے آراستہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگ اپنے حقوق کو جان سکیں۔ ملک میں جنسی جرائم بہت زیادہ ہیں۔ اگر ہم اچھے مسلمان ہوتے تو ہماری بہنیں اور مائیں گھروں کے اندر اور باہر محفوظ ہوتیں۔ شارق سعید: لڑکیوں کے ساتھ جنسی حرکات کرنے والے اللہ کے انتقام کو بھول گئے ہیں۔ ان لوگوں کو سوچنا چاہئے کہ یہ جذبہ ہر انسان میں ہوتا ہے لیکن اس کا صرف جائز استعمال ہی جائز ہے۔ سید راشد، اسلام آباد: یہ ایک حقیقت پر مبنی بات ہے۔ خدا ہمیں غیرت سے زندہ رہنے کی توفیق دے۔ راؤ وسیم، پاک پتن: ہم نے جو بویا ہے اب اسی کو کاٹنا ہے۔میڈیا نے ہمیں عشق، محبت، رومانس اور بے حیائی کے علاوہ دکھایا ہی کیا ہے۔ میرے خیال میں اس کا نفس ہی کاٹ دینا چاہئے جو ایسی حرکت کرتا ہے۔ جب تک ہم اسلامی تعلیمات کی پیروی نہیں کریں گے اس وقت تک ایسا ہی ہوتا رہے گا۔ وسیم شہزاد، لاہور: بلا شبہ ہمارے معاشرے میں یہ سب ہوتا ہے لیکن صرف مرد ہی اس کے ذمہ دار نہیں بلکہ خواتین بھی ہیں کیونکہ اگر خواتین اسلامی قوانین کی پابندی کریں تو ایسا کچھ نہیں ہو گا۔ بہرحال ایسا کرنے والوں کو مار دینا چاہئے۔ میاں ابو محسن، سرگودھا: جی ہاں انہیں ہر صورت زبان کھولنی چاہئے اور ساتھ ساتھ حکومت پر بھی زور دینا چاہئے کہ وہ اسلامی قوانین نافذ کرے کیونکہ یہ اقدام ہی تمام مسائل کا حل ہے۔ ثاقب برجیس، برائٹن: میرے خیال میں اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ مناسب طریقہ اختیار کرتے ہوئے لوگوں میں شعور بیدار کیا جائے۔
ایم احسان خان، اوسلو: پاکستان میں خواتین کے ساتھ بہت زیادتی کی جاتی ہے۔ ہر وہ شخص جس میں بال برابر ایمان موجود ہے اسے نہ صرف اپنی خواتین کا تحفظ بلکہ دوسری خواتین کا بھی احترام کرنا چاہئے۔ خواجہ زاہد، کویت: میں یہ خبر پڑھ کر پریشان ہو گیا۔ میں تو بس یہی کہوں گا کہ یہ قیامت کی نشانی ہے اور ہم قیامت کے قریب ہوتے جا رہے ہیں۔ خدا ہماری ماؤں، بیٹیوں اور بہنوں کو اپنی امان میں رکھے۔ توقیر احمد، مانسہرہ: یہ سب اسلامی تعلیم کی کمی اور اللہ اور پیغمبر اسلام کے بتائے ہوئے راستے پر نے چلنے کے باعث ہو رہا ہے۔
نواب خان، حیدر آباد: اگر ہم اسلامی طریقے کے مطابق اپنے خاندانوں کا خیال رکھیں، پردے پر پابندی کریں، شریعت کے احکامات کی پابندی کریں اور خواتین کو زیادہ آزادی نہ دیں تو اس رجحان کو کم کیا جا سکتا ہے۔ عورت اگر نہ چاہے تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔
ایس مرزا، انگلینڈ: میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا جب میں پاکستان میں نوکری کرتی تھی۔ میں نے ڈر کے مارے کسی سے ذکر نہیں کیا اور میں خود بھی ناسمجھ تھی، جرات نہیں کرسکتی تھی۔ مگر اب مجھے اس کا بہت افسوس ہے کہ میں نے یہ سب کیوں کیا اور کیوں برداشت کیا۔ مجھے اسی وقت کچھ کرنا چاہئے تھا۔ اب کہنے کا تو کچھ فائدہ نہیں، اب تو وہ سب ماضی بعید ہوچکا ہے۔
نامعلوم، لاہور: میری عمر بائیس سال ہے۔ میرے والد ہی میرا جنسی استحصال کرتے تھے، لگ بھگ چھ برسوں تک۔ اب میری شادی ہوگئی ہے۔ مجھے اپنے والد کے سامنے جانے میں جھجک محسوس ہوتی ہے۔ آصف ملک، جاپان: یہ سب کچھ ہمارے مذہب اور پاکستان کے خلاف ایک ڈرامہ ہے۔ گل ایاز، زرگرآباد، پاکستان: یہ ایک اہم مسئلہ ہے، مجھے خوشی ہے کہ اس پر بحث ہورہی ہے۔ لیکن کچھ مسائل بھی ہیں۔ بعض قبائلی ایجنسیوں میں اس طرح کے مسئلے ہیں۔ اکثر اس طرح کے واقعات رپورٹ نہیں ہوتے ہیں۔
خانسا کامران، عمان: ایسا کرنیوالے مردوں کو اندازہ ہوتا ہے کہ عورتیں بدنامی کے خوف سے چپ رہتی ہیں۔ اس لئے ان کو بڑھاوا ملتا ہے۔ ایک عورت ہی جان سکتی ہے کہ ایسے واقعے کے بارے میں زبان کھولنا کتنا مشکل ہے۔ یہ سب تعلیم کی کمی اور جہالت کی وجہ سے ہے۔ ہمارے معاشرے میں لوگ ایسی عورتوں کو عزت نہیں دیتے۔ ایک پڑھے لکھے معاشرے میں جہاں لوگوں کی سوچ کا رخ صحیح ہے، عورت انصاف طلب کرسکتی ہے۔ محمد اقبال طاہر، مدینہ، سعودی عرب: میرے خیال میں اسلامی پاکستان میں کوئی انصاف نہیں ہے۔ ایسے مردوں کو سزا ملنی چاہئے۔ یہ صرف نام اسلام کا ہے، اسلامی کچھ بھی نہیں ہے۔ محمد کمال اظہر، خالدیہ، کویت: جنسی وحشت کے واقعات عام ہیں۔ اسلامی ملک ہونے کے باوجود لوگ جنسی بےراہ روی کا شکار ہیں۔ میں اس قسم کے واقعات کی مزمت کرتا ہوں۔ اللہ سے دعاء کرتا ہوں کہ وہ ہمیں صراط مستقیم عطا فرمائے۔ کوثر نعیم، دوبئی: یہ سب کچھ خوفِ خدا اور کچھ ایمان کی کمزوری ہے۔ ورنہ ایسی حرکت کرنے والے مرد ایک بار تو ضرور سوچیں کہ اگر اس کی جگہ ہماری ماں، بہن، یا بیٹی ہوتی تو ایسی غلیظ حرکت صرف وہ لوگ کرتے ہیں جن کا ضمیر مرجاتا ہے۔ مگر جن کے ساتھ یہ بری حرکت ہوتی ہے ان کو ضرور آواز اٹھانی چاہئے تاکہ کسی اور کو ان کا شکار ہونے سے بچایا جاسکے۔ ورنہ ناعلمی کے باعث نہ جانے کتنی معصوم لڑکیوں کے ساتھ ایسا ہوگا۔ خالد سیف اللہ، لندن: ایسے لوگوں کی سزا موت ہونی چاہئے۔ اور جو خاوند ایسا کرنے پر مجبور کریں، انہیں سنگسار کردینا چاہئے۔ لیکن یہ سب صرف اسلامی نظام کے نفاذ کی صورت میں ہی ممکن ہے۔
عباس علی خان ہمیہ، ہنزہ: ہم مسلم ہونے کے ناطے عورتوں کو اعلیٰ سے اعلیٰ مقام دینے کی بات کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے جتنا عورت کا استحصال جنسی لحاظ اور معاشرتی لحاظ سے کیا جاتا ہے شاید وہ کسی اور مذہب میں نہ ہو۔ عورتوں کو خود کا تحفظ کرنا ہوگا۔ سید فیروز رِضوی، یوگینڈا: یہ بدقسمتی کی بات ہے۔ شیطان ہمیں جہنم کی طرف لے جارہا ہے۔ اللہ ہمیں اس شیطان سے نجات دے! آمین۔ ایم سلیم ویانی، کراچی: یہ سب کچھ اس لئے ہورہا ہے کیونکہ ہم اسلام سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ ارم ہاشمی، پاکستان: میرے خیال میں یہ سب کچھ اپنے شعور کی بات ہے۔ جب مرد اور عورت کو اس بات کا شعور نہیں ہے کہ اللہ تعالی انہیں دیکھ رہا ہے، تو ایسا ہی کچھ ہوگا۔ فیاض، امریکہ: میرے خیال سے ہم اپنے دین سے ہٹ گئے ہیں۔ عورت کا مطلب ہے چھپانا۔ اسلام میں زندگی آسان ہے لیکن ہم نے اس کو تکلیف میں بدل دیا ہے اور جو کمی تھی تو وہ کیبل اور ڈِش نے پوری کردی ہے۔ علی عباس نقوی، ٹورانٹو: میں اس مضمون سے سو فیصد متفق ہوں۔ یہ مسئلہ پاکستان ہی میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ کچھ بھی نہیں کیا جاسکتا۔ یہ مرد کی فطرت ہے۔ کاشف احسن، امریکہ: میں جہاں رہتا ہوں وہاں یہ واقعات معمولی ہیں۔ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر ہم اپنے گھر میں صحیح اسلامی طریق اپنائیں اور اپنے گھروں سے کیبل جیسے فحاشی کے ذرائع ہٹا دیں تو یہ مسئلہ بہت حد تک کم ہوسکتا ہے۔
زاہد ممتاز، کراچی: جناب بات یہ ہے کہ ایسا واقعہ ہر لحاظ سے برا سمجھا جانا چاہئے کیونکہ یہ ہے ہی برا۔ مگر ایک بات مجھے سمجھ میں نہیں آتی کہ ایسا سب کیا پاکستان میں ہی ہوتا ہے؟ کیا اس سے بھی برے واقعات بھارت اور خود انگلینڈ میں نہیں ہوتے؟ مگر مغربی میڈیا کو سب پاکستان میں ہی نظر آتا ہے۔ آج ہی کی مثال دیکھ لیں کہ نیشنل جوگرفِک چینل پر انڈیا میں بچوں کی شادی پر ایک فلم چل رہی تھی جس میں دکھایا گیا کہ انڈیا میں ہر سال پانچ ہزار بچوں کی شادی کی جاتی ہے جن کی عمر سات سےتیرہ سال کے بیچ ہوتی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ پروگرام میں اس کو بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کے بجائے مضبوط محبت کی بنیاد بتایا گیا۔ کیا یہ مذاق نہیں ہے؟ اگر یہی بات پاکستان کے بارے میں ہوتی تو سب مغربی میڈیا اس کو بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کہہ کر شور مچاتا۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ جو برا ہے وہ پاکستان میں ہے یا اور کہیں وہ برا ہی ہے، مگر صرف پاکستان کے بارے میں ہی شور مچانا غلط ہے۔ صلاح الدین لنگا، جرمنی: فہد رحمان کا یہ کہنا ہے کہ امریکہ اور یورپ میں جنسی تعلقات مرد اور عورت کی رضامندی سے ہوتے ہیں۔ اور ساتھ ہی ہر شخص قانونی طور پر اپنے حقوق کا دفاع کرسکتا ہے۔ لیکن پاکستان میں اس طرح کا دفاع موجود ہے؟ ایوب خان، ٹیکسس: میرے خیال ہے کہ کیبل کے عام ہونے سے اور سیکسی پروگراموں کی وجہ سے بچپن میں بچوں کو بالغ بنا دیا جاتا ہے۔ پاکستان ایک بند معاشرہ ہے اور عورت اس طرح سے نہیں ہے جیسے مغرب میں۔ میری ذاتی رائے ہے کہ ٹی وی، وی سی آر، کیبل، موسیقی اور دینی کم علمی ہی ان سب برائیوں کی جڑ ہیں۔ محمد انوار، بارسلونا: اسلام نے عورت اور مرد کو یکسان مقام دیا ہے۔ ہم مسلمان ہوکر بھی عورت کی توہین کرتے ہیں اور غیرمسلمان کتنے برے ہی صحیح عورت کو یکساں مقام دیتے ہیں۔ عورت ایک ماں ہے جس کے پاؤں تلے جنت ہے، وہ ایک بہن ہے بھی ہے، بہو بھی، بیٹی بھی ہے۔ ہمیں عورت کی عظمت کو سمجھنا چاہئے اور حکومت کو چاہئے کہ ایسا قانون وضع کرے کہ عورت کے ساتھ بغیر کسی وجہ کے ناروا سلوک کرنے والے کو کڑی سزا ملے۔ نواز چینی، پاکستان: میں چاہتا ہوں کہ لازمی طور پر جنسی تعلیم دی جائے۔ عمران صادق، لاہور: یہ سب کچھ میڈیا کی وجہ سے ہے، بالخصوص وہ خبریں جو اخباروں میں جنسی ہراس کے تعلق سے ہیں۔ اسلام نے اس طرح کی خبر نہ شائع کرنے کی تلقین کی ہے۔ اس طرح کی خبریں لوگ بڑا مزہ لیکر پڑھتے ہیں۔ وسیم احمد، اٹک، پاکستان: میرے خیال میں پاکستان کی اکثریت عورت کی تعلیم کے خلاف ہے۔ بلکہ پاکستان کے جتنے بھی وزیر وغیرہ ہیں وہ بھی عورت کو اللہ میاں کی گائے سمجھتے ہیں۔ جب تک پاکستان کے اعلیٰ حکام وزیر وغیرہ صحیح نہیں ہونگے، اس وقت تک پاکستان کی عورت ظلم کا شکار ہی ہونگیں۔ سند کے جتنے بھی وزیر ہیں ان میں سے بیشتر ظالم قبیلوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی ظلم کی پہلی شکار عورت ہوتی ہے۔ اویس مرزا، راولپنڈی: یہ سب کچھ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا ہے۔
عبدالعلیم، ناگویا، جاپان: ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے مظلوموں کو جرات پیدا کرنی ہی ہوگی۔ یہاں جاپان میں بھی خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیاں کی جاتی ہیں لیکن یہاں وہ بدنامی کے ڈر کے بجائے اس خوف سے آواز نہیں اٹھاتیں کہ ان کی نوکری ختم ہوجائے گی۔ صرف اسکولوں میں گزشتہ سال میں ایک سو چوراسی اساتذہ کو سزا دی گئی ہے کہ وہ اپنی شاگردوں پر جنسی دست درازی کی مرتکب پائے گئے۔ ہمارے معاشرے میں عورت آزاد نہیں ہے اور اسی وجہ سے وہ ترقی یافتہ ممالک سے کم مظلوم ہے۔ ورنہ یہاں پر زیادہ تر بچیاں اپنے سوتیلے باپوں کی جنسی درِندگی کی شکار ہوتی ہیں۔ جاوید اقبال، امریکہ: جس ملک میں ایک مضبوط عدالت نہ ہو اور قانون کی بالادستی نہ وہ، وہاں کبھی بھی کسی کے ساتھ نہ انصاف ہوگا، نہ کسی کی عزت ہوگی، نہ کسی کی آبرو محفوظ رہے گی، نہ جان و مال کو تحفظ ہوگا۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں عدالت تو ہے ہی لیکن قانون کے چودھریوں کا ۔۔۔ مقصود شیخ، اسپین: یہ ہمارے معاشرے کے لئے انتہائی شرمناک بات ہے کہ عورتوں کو اس قسم کے ظلم کا شکار بنایا جاتا ہے۔ ہماری حکومتوں اور سوسائٹی کو اب اس طرف ضرور کوئی انتہائی سخت قانون بنانا چاہئے۔ شیما صدیقی، ناظم آباد: کراچی جیسے شہر میں یہ ہونا کچھ تعجب انگیز نہیں۔ ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں وہاں بہت غلیظ ہے۔ انور کلیم، امریکہ: میرے خیال میں عورتوں کے ساتھ ہمیشہ ایسا ہی سلوک کیا گیا ہے، ہر ملک میں اور انسانیت کی ابتدا سے۔ یہ سب کچھ اب اس لئے معلوم ہورہا ہے کہ میڈیا میں کوریج مل رہا ہے، اور اس لئے بھی کیونکہ بہت سی عورتیں مزاحمت کررہی ہیں۔ مردوں کے لئے یہ شرم کی بات ہے۔ اسد حسن، اسلام آباد: جنسی طور پر خواتین کو ہراساں صرف پاکستان میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں کیا جاتا ہے۔ کیا امریکہ اور انگلینڈ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں یہ کچھ نہیں ہوتا؟ ہوتا ہے۔ لہذا تعلیم کی کمی کو مسئلے کا کلی جواز نہیں بنایا جاسکتا۔ البتہ معاشروں کے لئے ضروری ہے کہ وہ عورتوں کو اس کا شعور دیں اور انہیں یہ بھی اطمینان دلائیں کہ کسی مرد کی بری نیت کو بےنقاب کرنے سے عورت کو غلط نہیں سمجھا جائے گا۔ فہیم خان، کراچی: اس مسئلہ کا تعلق عورتوں اور ان کے بچوں کی تعلیم سے نہیں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ نفسیاتی مسائل ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ان نفسیاتی مسائل کا حل سوچنے کی ضرورت ہے۔
فہد رحمان، ٹورانٹو: میں صلاح الدین صاحب کی بات سے بالکل اتفاق نہیں کرتا۔ اگر یہ تعلیم کی کمی کی وجہ سے ہوتا تو آج یورپ اور امریکہ میں ایسا کچھ نہ ہوتا۔ لیکن آج سب سے زیادہ ایسے واقعات انہیں ممالک میں ہوتے ہیں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آج ہم اپنے مذہب سے دور ہوگئے ہیں۔ اور دوسری وجہ میڈیا ہے جو گھر گھر میں فحاشی پھیلا رہا ہے۔ محمد عامر خان، کراچی: یہ قابل مزمت واقعہ ہے۔ خواتین کو اپنے اندر ہمت اور حوصلہ پیدا کرنا ہوگا، انسان کو حیوان اور پھر شیطان بنتے دیر نہیں لگتی ہے۔ یہ صرف ہمارا مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔ اللہ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ عقیل اختر، لاہور: میرے خیال میں اس کی سب سے بڑی وجہ ہے ہمارا ماحول اور اس میں آنیوالی نئی تبدیلیاں، کیبل کی وجہ سے۔ اعجاز الحق، پاکستان: میرے خیال سے ایسا صرف اسلام سے دوری اور بےحیائی کی طرف رجحان کی وجہ سے ہے۔ اگر ہمارے گھر میں فضول قسم کی فلمیں اور گانے بجیں گے تو ہمارا یہی حال ہونا ہے۔ دلاور خان، امریکہ: ایک عورت اپنا گھر چھوڑ کر اپنے شوہر کے ساتھ اس لئے رہتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو محفوظ سمجھے۔ اس عورت کو چاہئے کہ ایسے آدمی کے ساتھ بالکل نہیں رہے اور عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے۔ اور ایسے سسر پر اللہ کی لعنت۔
صدف عزیز، امریکہ: ہمارے معاشرے میں ایک عورت کے لئے عزت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے۔ اگر اپنی زندگی کے کسی اور دور میں وہ جنسی ہراس کا شکار ہوئی ہے تو اسے معلوم ہے کہ اس کی سنوائی نہیں ہونی ہے، بلکہ بدنامی ضرور ہوگی۔ اور لوگ عورت ہی کو غلط نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس کا حل میری نظر میں یہ ہے کہ عورت کو بچپن ہی سے اعتماد کی فضا میں پالا جائے اور اسکولی سطح پر لڑکیوں کو اس بارے میں تعلیم دی جائے۔ رابعہ ارشد، ناروے: میں تمام خواتین سے صرف یہ کہنا چاہتی ہوں کہ آج کے دور میں اینٹ کا جواب پتھر سے دینا چاہئے۔ ساحر، کراچی: ہمارا معاشرہ اتنا خراب ہے، آپ مذہب کی آڑ میں کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ نماز پڑھنا فیشن بن گیا ہے۔ ابوالحسن علی، لاہور: اس معاملے کے مختلف پہلو ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ ہمارے یہاں خواتین کو ہراساں کرنا عام سی بات ہے۔ صلاح الدین لنگاہ، جرمنی: یہ تعلیم کی کمی کی وجہ سے ہے۔ اس لئے پاکستان کی عورتوں کو انتظار کرنا ہوگا کیونکہ جب تک ان کے بچے اور معاشرہ اچھی طرح تعلیم یافتہ نہیں ہوتے انہیں کچھ نہیں ملے گا۔ حسیب خان، ملتان، پاکستان: عورتوں کو اپنی آواز بلند کرنی پڑے گی کیونکہ پاکستان میں آج تک کسی کو خاموشی سے کچھ نہیں ملا۔ طاہر عثمان، لاہور، پاکستان: آخر ہمارے معاشرے کو کیا ہوتا جا رہا ہے۔ جب اپنے بزرگ ہی اپنی بہو بیٹیوں کو ان نظروں سے دیکھیں گے تو کیا بنے گا۔ بظاہر لوگ مزید مذہبی ہوتے جارہے ہیں لیکن اندر سے وہ اتنے ہی منافق ہیں اور چونکہ انہیں یقین ہے کہ کوئی ان پر شک نہیں کرے گا اس لئے وہ عورتوں کو جو بدنامی کا ڈر ہوتا ہے، اس کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جب تک ہم لوگ اپنی عورتوں کو یہ اعتماد نہیں دیں گے کہ وہ ہم سے کھل کر اپنے مسائل بیان کرسکیں ہم نہ صرف اپنے مذہب اور خدا بلکہ انصاف اور انسانیت کے تقاضوں پر بھی پورا نہیں اتر سکیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||