BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بارہ جنوری: 1703خواتین قیدی

اخبارات پر مردوں کا کنٹرول؟
اخبارات پر مردوں کا کنٹرول؟

ہمیشہ کی طرح آج بھی اخباروں کے پڑھنے سے یہ لگتا ہے کہ خواتین سے متعلق خبریں اس طرح نہیں پیش کی جارہی ہیں جیسے کی جانی چاہئیں۔ ہفتے کے روز اخبار دن نے اس خبر کو تو شامل کیا تھا کہ نازیبا حرکت کرتے ہوئے لڑکا اور لڑکی گرفتار، مگر اسی اخبار میں کسی اور خبر کو جگہ نہیں دی گئی ہے جو عورتوں کے خلاف ہونیوالے جرائم سے تعلق رکھتی ہو۔

جیو ٹیلی ویژن نے ایک خبر نشر کی ہے جس کے مطابق شائستہ عالمانی کو سرکاری ملازمت اور مکان کی پیشکش کی گئی ہے۔ ایم این اے شیری رحمان نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ حکومت قبائلی علاقوں میں ایسی رسومات کے خلاف سخت اقدامات کرے گی جن کی وجہ سے شائستہ عالمانی جیسی عورتوں کو اس کے قبیلے والے یا تو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں یا پھر انہیں بیچ دیا جاتا ہے۔ شائستہ کے کیس کو آج کے اخبارات میں کسی حد تک مکمل تفصیل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

روزنامہ دن کے ومین اور کِڈز کارنر نامی کالم میں اس بات کو اجاگر کیا گیا ہے کہ آج کل شادی کے نام پر عورت کا سودا ہورہا ہے اور شادی ایک ڈِیل یعنی بِزنس اور منافع بخش کاروبار بن گئی ہے، جس میں نقصان صرف لڑکی کا ہوتا ہے جو کبھی بھی چولہا پھٹنے سے مرتی ہے، تو کبھی تشدد کا نشانہ بنتی ہے۔

اخبار جنگ نے ایک صفحہ پر مبنی خواتین ایڈیشن میں ایک خبر شائع کی ہے کہ جیل اسٹاف میں خواتین افسروں کی تقرری کی گئی ہے۔ اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں چھیاسی جیل ہیں جن میں ایک ہزار سات سو تین خواتین قید ہیں جو کہ اخباری رپورٹ کے مطابق ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہی ہیں۔ جیل جیسی جگہوں پر خواتین کے مثبت کردار کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ اور رپورٹ کے مطابق خواتین افسر جیل کو اصلاحی ادارہ بنانا چاہتی ہیں۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خواتین قیدی نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں اور طبی سہولیات سے نامحروم ہیں۔

اردو روزنامہ ایکسپریس نے شاد باغ سے دو لڑکیوں کے اغوا کے بعد زیادتی کی خبر کو شائع کیا ہے۔ میں نے آج آٹھ دس اخبار دیکھے مگر افسوس کہ کسی اخبار نے اس خبر کو مکمل طور پر پیش نہیں کیا۔ یہ خبر انتہائی سنسنی خیز انداز میں پیش کی گئی جو کہ ہمیشہ کی طرح اندرونی صفحات میں گم ہوگئی۔

روزنامہ خبریں کی پیر کی اشاعت میں ایک خبر گھریلو تشدد، جبری شادی اور والدین کی تنگ نظری سے متعلق ہے۔ اس کے مطابق لگ بھگ بارہ سو پاکستانی لڑکیاں ہر سال اپنا گھر چھوڑ دیتی ہیں اور بعض اوقات دوسرے ممالک میں جاکر پناہ لیتی ہیں۔ ان کے لئے واپسی کا راستہ صرف موت ہے۔ خبر سے یہ واضح نہیں ہے کہ لڑکیاں کیوں غائب ہوجاتی ہیں؟

اخبار نوائے وقت میں ایک رپورٹ کے مطابق جنسی کاروبار اور انسانی اسمگلِنگ کے باعث پاکستان میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد اسی ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔

اِنڈس ویژن ٹی وی پر آج ایک پروگرام میں نشر کیا گیا جس میں یہ موضوع اٹھا گیا کہ برتر کون؟ لڑکا یا لڑکی؟ اس لڑکے لڑکیوں نے شرکت کی۔ ان کا خیال تھا کہ لڑکے والدین کی معاشی امداد کرتے ہیں اس لئے انہیں برتری دی جاتی ہے۔ اسی پروگرام میں یہ بات بھی ابھر کر آئی کہ لڑکوں کی برتری کی وجہ یہ ہے کہ عورتیں بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔

روزنامہ ایکسپریس میں آج یہ بھی خبر ہے کہ پنجاب کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ پانچ خواتین کو صوبائی وزیر بنایا گیا ہے۔ خواتین کے حوالے ایسے بہت سے موضوع ہیں جن کی اشاعت سے ان کی فلاح و بہبود اور دیگر دوسرے اداروں میں ان کی کارکردگی کو سامنے لایا جاسکتا ہے۔

نوٹ: سیدہ سمانہ زہرا زیدی پنجاب یونیورسٹی میں لسانیات کی طالبہ ہیں۔ اور بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے لئے ذرائع ابلاغ میں خواتین سے متعلق مسائل پر ڈائری لکھ رہی ہیں۔ آپ اس ڈائری پر اپنی رائے دیں۔

پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد