چودہ جنوری: بارہ سو عورتیں قتل سیدہ سمانہ زہرا زیدی طالبہ: یونیورسٹی آف پنجاب، لسانیات |  |
 | | پاکستان میں اوسطً ہر تین گھنٹے میں ایک عورت جنسی زیادتی کا شکار ہورہی ہے۔ | |
منگل کے دن ٹی وی چینل انڈس ویژن پر عورتوں کی معیشت کے حوالے سے دلچسپ گفتگو سامنے آئی۔ اس پروگرام میں کمپیئر ڈاکٹر شائستہ واحدی کے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مہمانوں نے کہا کہ خواتین کو ہنر مندانہ تعلیم دی جائے تاکہ خواتین محسوس کریں کہ وہ مضبوط ہیں اور مردوں کے رویئے درست کرنے کےلئے انہیں ڈٹے رہنا چاہئے۔  | | ولی صرف لڑکی کا کیوں ہوتا ہے، لڑکے کا کیوں نہیں ہوتا۔
|  | ایک سوال | |
اسی پروگرام میں ٹیلیفون کالز بھی لی گئیں۔ فون پر ایک عورت نے سوال پوچھا کہ ایک عورت جںسے بہن، بھائی، والدین اور شوہر کی طرف سے خرچہ نہ ملے، وہ کہاں جائے؟ مہمانوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ خواتین کے نام پر کوئی پراپرٹی نہیں ہوتی اور انہیں مہر کی رقم بھی نہیں دی جاتی ، جو کہ ان کا اسلامی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوچنا یہ ہے کہ ہم کس طرح سے اپنی عورتوں کو مالی طور پر مستحکم بنا سکتے ہیں۔ پاکستانی عورت اپنی زندگی کی بہت سی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ اس سلسلے میں بدھ کے دن جیو ٹی وی کے ایک پروگرام ’عالم آن لائن‘ کا موضوع تھا ’ولی کی مرضی کے بغیر نکاح ہوسکتا ہے۔‘ اس سلسلے میں کمپیئر عامر لیاقت حسین نے مذہبی رہنماؤں سے گفتگو کی اور ٹیلیفون کالز بھی لیں۔ اس پروگرام میں ایک دلچسپ سوال پوچھا گیا کہ ’ولی صرف لڑکی کا کیوں ہوتا ہے، لڑکے کا کیوں نہیں ہوتا۔‘ اس پروگرام میں کسی خاتون نے فون پر یہ بھی بتایا کہ باپ نے بیٹی کو پسند کی شادی کے بعد معاف کردیا مگر قبیلے والوں نے اسے بے دردی سے قتل کر دیا۔ اس پروگرام کا اختتام دونوں رہنماؤں کی اس رائے پر ہوا کہ اگر ماں باپ لڑکی کی شادی اس کی اجازت کے بغیر زبردستی کروانا چاہیں، تو نکاح باطل ہو جاتا ہے۔ تاہم پاکستان کے سپریم کورٹ میں اس کے برعکس فیصلہ دیا جا چکا ہے۔  | | دو ہزار تین میں نو سو پچیس خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی، پانچ سو سترہ کو اغوا کیا گیا جبکہ مختلف وجوہات کی بنا پر ایک ہزار دو سو تیرہ خواتین قتل کر دی گئیں۔
|  | ادارہ تحفظِ حقوقِ انسانی | |
روزنامہ نوائے وقت کی بدھ کی اشاعت میں ایک خبر شائع کی گئی جس کے مطابق فیروز والہ میں گھریلو جھگڑے کی بنا پر اکرام نے اپنی نوبیاہتا بیوی کے گلے میں پھانسی کا پھندہ ڈال کر قتل کر دیا۔ جرائم کی باقی خبروں کی طرح یہ خبر بھی یک طرفہ تھی۔ کیوں کہ اس میں ملزم یا اس کے گھر والوں کا کوئی بیان نہیں دیا گیا۔ اسی خبر کو جنگ اخبار نے سرسری انداز میں شائع کیا۔ نوائے وقت کی خبر کے مطابق لاش دفنا دی گئی ہے مگر جنگ کے مطابق لاش کو پولیس نے پوسٹ مارٹم کے لئے بھجوا دیا ہے۔ ادارہ تحفظِ حقوقِ انسانی کے چیئرمین وسیم احمد گوہر نے روزمانہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق کہا ہے کہ پاکستان میں اس وقت تقریبا، تین کروڑ سے زائد افراد بے روزگار ہیں۔ اوسطً ہر تین گھنٹے میں ایک عورت جنسی زیادتی کا شکار ہورہی ہے۔ دو ہزار تین میں نو سو پچیس خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی، پانچ سو سترہ کو اغوا کیا گیا جبکہ مختلف وجوہات کی بنا پر ایک ہزار دو سو تیرہ خواتین قتل کر دی گئیں۔ روزنامہ ایکسپریس کے مطابق راولپنڈی میں تھانہ نیو ٹاؤن کے علاقے ہنزہ کالونی میں خاتون کو اس کے شوہر اقبال نے نیند کی گولیاں ملے ہوئے دہی بھلے کھلا کر دوپٹے سے اس کا گلا دبا کر پھانسی دے دی۔ یہ خبر اگر مکمل ہوتی تو قتل کی اصل وجہ سامنے آتی۔ ضرورتِ رشتہ اور پلاٹس کی خریدو فروخت کے اشتہارات میں یہ خبر کہیں مدھم ہو کر رہ گئی تھی۔  | | خبر کو اخبار کے صفحہ اول پر آنا چاہئے تھا تاکہ خبر کا اثر ختم نہ ہوتا لیکن اخبار کے کسی ایک کونے چھپنے والی یہ خبر باپ کی بے بسی کو نہ پہچان سکی۔
|  | | |
’خبریں‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق خانیوال کے رہائشی ماسٹر غلام محمد کی چھ سالہ معصوم بچی کو چار ماہ قبل اغوا کیا گیا تھا۔ اس خبر کے مطابق ملزمان بااثر لوگ ہیں جنہیں وڈیروں کی سرپرستی حاصل ہے۔ باپ نے اعلیٰ حکام سے بچی کی بازیابی کی اپیل کی ہے اور بچی برآمد نہ ہونے پر خود سوزی کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اس خبر کو اخبار کے صفحہ اول پر آنا چاہئے تھا تاکہ خبر کا اثر ختم نہ ہوتا لیکن اخبار کے کسی ایک کونے چھپنے والی یہ خبر باپ کی بے بسی کو نہ پہچان سکی۔ اب تک اخبارات کی خبروں سے یوں لگتا ہے کہ شائستہ عالمانی کے کیس کو میڈیا میں نمایاں طور پر آنے کی وجہ سے اسے تحفظ دیا گیا ہے اور یہ معاشرتی برائی کے سدباب کی طرف پہلا قدم ہے۔ اگر باقی تمام ایسے کیسز کو، جن کا تعلق عورتوں کے خلاف ہونے والے جرائم سے ہے، اسی طرح سے میڈیا میں کوریج دی جائے تو شاید جرائم پر قابو پانا آسان ہوگا۔ نوٹ: سیدہ سمانہ زہرا زیدی پنجاب یونیورسٹی میں لسانیات کی طالبہ ہیں۔ اور بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے لئے ذرائع ابلاغ میں خواتین سے متعلق مسائل پر ڈائری لکھ رہی ہیں۔ آپ اس ڈائری پر اپنی رائے دیں۔ |