| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
شائستہ کیس، الطاف حسین کی دھمکی
سندھ میں مرضی کی شادی اور سرداروں سے بغاوت کی وجہ سے معروف علامت شائستہ عالمانی کیس نے سیاسی شکل اختیار کرلی ہے۔ متحدہ قومی مومنٹ کے سربراہ الطاف حسین نے اعلان کیا ہے کہ اگر شائستہ کو بلخ شیر سے الگ کرنے والے سرداروں کو اڑتالیس گھنٹے کے اندر گرفتار نہیں کیا گیا تو وہ حکومت سے الگ ہوجائینگے۔ تاہم اس دھمکی کی ابتدائی تصدیق کے بعد ایم کیو ایم نے کہا کہ انہوں نے حکومت سے الگ ہونے کی بات نہیں کی تھی بلکہ ’وزارتوں سے الگ ہونے کی بات کی تھی‘۔ الطاف حسین نے لندن سے وومین پولیس اسٹیشن کراچی فون کرکے شائستہ عالمانی کو انصاف کی یقین دہانی کرائی ہے۔ بعد میں انہوں نے صدر مشرف کے نمائندے قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری طارق عزیز سے رابطہ کرکے پارٹی کے فیصلے سے آگاہ کردیا ہے۔ متحدہ کے کراچی میں واقع مرکز نائین زیرو کے ترجمان معین نے اس الٹیمیٹم اور الطاف حسین کی طارق عزیز سے رابطہ کی تصدیق کی ہے اور کہا کہ اس مسئلے کو اور کوئی نہیں اٹھا رہا ہے، ’اس لیے ہم اٹھائینگے‘۔ گورنر سندھ عشرت العباد نے جن کا تعلق بھی ایم کیو ایم سے ہے شائستہ سے رابطہ کرکے ان کو انصاف اور تحفظ کی یقین دہانی کرائی ہے۔گورنر کے ملٹری سیکریٹری نے وومین پولیس سٹیشن پہنچ کر شائستہ کو گورنر کی جانب سے دو لاکھ روپے کا چیک بھی پیش کیا۔ ادھرگورنر نے جرگے کی تفصیلات طلب کی ہیں جس کے فیصلے کے نتیجے میں مرضی سے شادی کرنے والے اس جوڑے کو علیحدہ کیا گیا تھا۔ مقامی اخبارات کے مطابق اس جرگہ میں سردار علی گوھر مہر، سردار رحیم بخش بوذدار، سردار احمد یار شر، سردار اکمل لغاری، سردار عثمان عالمانی اور سردار اجمل عالمانی نے شرکت کی تھی۔ سردار علی گوھر مہر سندھ کے وزیر اعلیٰ کے بڑے بھائی ہیں جبکہ دیگر سردار ان کے سیاسی اتحادی ہیں۔ اس جرگے میں ہی شائستہ اور بلخ شیر کی قسمت کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ شائستہ کیس نے حالیہ ہفتے ایک نیا موڑ اس وقت اختیار کیا تھا جب شائستہ ہلال احمر ہسپتال سے ایک اخباری مالک کی ساتھ نکل گئیں۔ ’امت‘ اخبار کے مالک رفیق افغان نے انہیں گھر، نوکری اور وکیل فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ شائستہ کے اس فیصلے کے بعد ان کو سکھر سے کراچی منتقل کرنے والی والی این جی اوز پیچھے ھٹ گئیں۔ بعد میں شائستہ نے ایک ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئےکہا کہ ان کی زندگی کو خطرہ ہے لہذا ان کے کیس کی جو سماعت اکیس جنوری کو سندھ ہائی کورٹ سکھر بنچ کے سامنے ہونے والی ہے اس کو کراچی منتقل کیا جائے۔ اس کے بعد شائستہ کو ان کی مرضی سے وومین پولیس سٹیشن منتقل کیا گیا تھا۔ انہوں نے رفیق افغان کی پیشکش بھی واپس کردی۔ سندھ کے صوبائی وزیر امتیاز شیخ نے شائستہ اور ان کی بہن کو محکمہ بہبود آبادی میں نوکری دینے کا اعلان کیا جبکہ سندھ اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر راحیلہ ٹوانا نے انہیں رہنے کے لئے اپنے فلیٹ کی چابی دی۔ شائستہ نے دونوں آفر قبول کئے مگر بعد میں انکار کردیا۔شائستہ نے ایک پریس کانفرنس میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کو پولیس میں اے ایس آئی کے طور پر بھرتی کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کے وہ پولیس میں بھرتی ہوکر اپنی حفاظت بہتر طریقے سے کر سکتی ہیں۔ الطاف حسین کے مطالبے نے سندھ حکومت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ وزیر اعلیَ کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کے وہ لندن جا کر الطاف حسین کو سمجھانے کی کوشش کرینگے۔ سندھ حکومت کے سربراہ اور اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے وزراء کا تعلق سرداری گھرانوں سے ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ایم کیو ایم اس مسئلے کو واقعی حل کرنا چاہ رہی ہے یا اس کے کوئی سیاسی مقاصد ہیں۔ بعض تجزیہ نگار اسے ایم کیو اور حکومت کے مابین وزارتوں پر جاری چپقلش کے تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||