سندھ کے نئے وزیرِ اعلٰی: آپ کی رآئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ارباب غلام رحیم سندھ کے وزیر اعلیٰ منتخب ہو گئے ہیں۔ اٹھانوے ارکان اسمبلی نے ان کی حمایت میں ووٹ دیا۔ نئے وزیر اعلیٰ جمعرات کو اعتماد کا ووٹ حاصل کریں گے۔ اس سے قبل کراچی میں امن و امان کی صورتِ حال بگڑنے کی وجہ سے جنرل پرویز مشرف نے موثر اقدامات کا وعدہ کیا تھا۔ کیا وہ موثر اقدامات یہی تھے؟ کیا نئے وزیرِ اعلیٰ سندھ میں امن وامان کی صورتِ حال بہتر بنانے میں کامیاب ہوسکیں گے؟ کیا سندھ کی صوبائی حکومت بااختیار ہوگی یا مرکزی حکومت کے ہاتھ میں ایک کٹھ پتلی؟ آپ کا ردِّ عمل یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں فدا حسین میمن، میر پور خاص، پاکستان: جس شخص کے پاس کوئی اختیار ہی نہ ہو وہ کیسے کوئی کام کر سکتا ہے۔ ارباب ایم کیو ایم کے نیچے رہتے ہوئے لوگوں کے مسائل نہیں حل کر سکتے۔ آصف ججہ، کینیڈا: چہرے اور نام بدلنے سے معاشروں میں تبدیلی نہیں آتی۔ اس کا حل صرف یہی ہے کہ فوج کی کوئی مداخلت نہ ہو اور آزادانہ انتخابات ہوں۔ محمد امین، امریکہ: سندھ حکومت حقیقی نہیں بلکہ گھڑی ہوئی اکثریت پر مشتمل ہے اور اس کا دارومدار گورنر پر ہے جن کا اپنا نسلی اور لسانی ایجنڈا ہے۔ راکھی سلوا، نیو دہلی، انڈیا: پاکستان کی ترقی کا سارا دارومدار صرف کراچی پر ہے اور وہاں جب تک ایم کیو ایم ہے امن نہیں ہوسکتا۔ حنیف سموں، ٹنڈو باگو، پاکستان: ارباب جام صادق علی بنے بغیر امن و آمان کی صورتِ حال پر کبھی قابو نہیں پا سکیں گے۔ عدنان عادل، ٹینک، پاکستان: جیو ٹی وی پر آج پیر پگاڑا نے کہا ہےکہ جس کو فوج منتخب کرے، اس سے کون انکار کر سکتا ہے۔ جب ہر کام فوج نے کرنا ہے تو پھر اس جمہوریت پر عربوں روپیہ کس لئے ضائع کیا جاتا ہے۔ معظم، سیئول، جنوبی کوریا: وزیرِ اعلی کے اپنے علاقے میں پانی اور دیگر سہولیات نہیں ہیں تو وہ پورے صوبے کے مسائل کیسے حل کریں گے۔ ویسے بھی سندھ حکومت پاکستان سے نہیں برطانیہ سے چلتی ہے۔ اور رہا امن تو ظلم بھی رہے اور امن بھی ہو، تم ہی کہو یہ کیسے ہو؟
لقمان، گجرانوالہ، پاکستان: پرویز مشرف کی بنائی ہوئی فرسودہ حکومت میں کبھی امن و امان قائم نہیں ہوسکتا۔ جب ایم پی اے اور ایم این اے ہی عوام کے نمائندے نہیں اور یہ ’الیکٹ‘ نہیں ’سلیکٹ‘ ہوئے ہیں تو وہ کتنے بااختیار ہوں گے؟ جس ملک کے وزیرِ اعظم اپنے صدر کو باس کہتے ہوں تو وہاں جمہوریت کا تو خدا ہی حافظ ہوگا۔ مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتی کہ دولتِ مشترکہ نے پاکستان کی رکنیت کیسے بحال کر دی اور ہماری حکومت نے ان کی آنکھوں میں کیا دھول جھونکی؟ میں نے جس بھی ماہرِ سیاست سے پوچھا کہ کیا ہمارے ملک میں جمہوریت بحال ہوئی تو جواب نہیں مل سکا۔ یہاں صرف گھوڑا بدلتا ہے، کوچوان تو وہی رہتا ہے۔ خان، گجرانوالہ، پاکستان: جب تک ایم کیو ایک کو ختم نہیں کیا جاتا، تخریب کاری جاری رہے گی۔ نادر سید، حیدرآباد، پاکستان: ارباب صاحب کسی طرح بھی اپنے پیشرو سے مختلف نہیں ہیں۔ جب تک اس ملک کی تقدیر کا فیصلہ کرنے والی طاقت انہیں اجازت دے گی یہ بھی کام کرسکیں گے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اس ملک میں عوامی رائے کا احترام نہیں ہوتا اور جن کا کام ملک کا دفاع کرنا ہے وہی اسے کمزور کر رہے ہیں۔ کسی نے شاید اسی موقعہ کے لیے کہا کہ ’اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے‘۔ صائمہ خان، کراچی، پاکستان: اگر مشرف نے اسی تبدیلی کا وعدہ کیا تھا تو شاید ان کے پاس ’آئیڈیاز‘ کی شدید قلت ہوچکی ہے۔ جس ملک میں حکومت کا انتظام چلانے سے وزیرِ اعظم تک کا کوئی تعلق نہ ہو، وزیرِ اعلیٰ سے کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ ظفر محمد خان، مونٹریال، پاکستان: اگر کوئی سمجھتا ہے کہ پی پی پی کو وزیرِ اعلیٰ لانے کا موقعہ مل جاتا تو وہ حالات ٹھیک کر لیتی تو یہ بھی خام خیالی ہے۔ اسے جب بھی سندھ میں موقعہ ملا ہے، دیہی اور شہری کا فرق ببڑھ گیا۔ پی پی پی پر یہ الزام بھی ہے کہ اس نے نصیراللہ بابر جیسے درندہ صفت کو کراچی پر مسلط کیا۔ باقی مذہبی اور خودکش دہشت گردی کا علاج ابھی امریکہ کے پاس بھی نہیں ہے۔ موجودہ حالات میں اگر ارباب رحیم کو سندھ کی دونوں لسانی اکائیوں کی حمایت حاصل ہے تو ان سے بہتر کوئی نہ ہوگا۔ منصور لغاری، تھرپارکر، پاکستان: ارباب غلام رحیم کا تعلق تھر سے ہے اور تھر کے عوام عرصہِ دراز سے کسی تبدیلی کے منتظر ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ اس سے تھر کو اقتصادی طور پر فائدہ پہنچے گا۔ تھر کے لئے یہ بھی بہت اہم اور فائدہ مند ہوگا اگر یہاں آنے والے قحط اور خشک سالی کو کوئی مستقل حل تلاش کیا جائے اور تعلیم کا بندوبست ہو۔
قیصر، بیجنگ، چین: وزیرِ اعلیٰ کی تبدیلی سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اصل میں تو گورنر کو تبدیل کرنا چاہئے تھا۔ مگر کیا کیا جائے کہ جمالی حکومت کا قیام ہی ان سے ممکن ہے جو کراچی میں بدامنی کے ذمہ دار ہیں۔ یہاں جب وزیرِ اعظم ہی کٹھ پتلی ہیں تو ایک صوبے کا وزیرِ اعلیٰ کیوں نہیں۔ شہزاد خان، جام شورو، پاکستان: میرے خیال میں یہ اچھے وزیرِ اعظم ثابت ہوں گے۔ یہ ایک اچھے سیاستدتان ہیں، ان کے دور میں سندھ ترقی کرے گا۔ امیر بخش اگرو، ٹھٹھہ، پاکستان: میرے بھائی، چہرے بدلنے سے نظام تھوڑی بدل سکتا ہے۔ اس سے تو اچھا تھا کہ اسمبلیاں توڑ کر گورنر راج نافذ کر دیا جاتا۔ نبیل عامر، کیلیفورنیا،امریکہ: کراچی میں جب تک پولیس نہیں سدھرتی، امن و آمان کا مسئلہ حل نہیں ہوگا اور یہ ناممکن ہے۔ پولیس خود وارداتیں کرتی پھرتی ہے تو وہ مجرموں کو کیسے پکڑیں گے۔ کسی حکومت نے آکر پولیس کی طرف توجہ نہیں کی۔ جو پولیس والے کراچی کے باسی نہ ہوں انہیں وہاں کے امن میں کیا دلچسپی ہوگی۔ ان کے اپنے خاندان تو پنجاب، سرحد یا اندرونِ سندھ رہتے ہیں۔ اگر کراچی سے ہی پولیس کے جوان بھرتی ہوں تو ان کو اپنے شہر کے امن و آمان کا زیادہ خیال ہوگا۔ جب تک اس طرف توجہ نہیں دی جاتی کئی ارباب اور مہر آکر چلے جائیں گے، کراچی میں امن نہ ہوگا۔ عتیق رحمان، لندن، برطانیہ: سندھ میں وزیرِ اعلیٰ کی نہیں، گورنر کی حکومت ہے۔ احمد صدیقی، کراچی، پاکستان: سندھ میں امن و آمان کی صورتِ حال عشرت العباد کو ہٹائے بغیر بہتر نہیں ہوسکتی۔ سردار مہر تو محض کٹھ پتلی وزیرِ اعلیٰ تھے جنہیں قربانی کا بکرا بنادیا گیا۔ عمر فاروق، برمنگھم، انگلینڈ: کیا آپ تبدیلی نہیں دیکھ رہے؟ اب وہ تمام مسئلوں کی بنیاد پر حملے کر رہے ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ صاحب کے آتے ہی فوج پر حملہ ہوا ہے، اسے کہتے ہیں تبدیلی۔ مجھ نہیں معلوم کہ پاکستان فوج سیاست سے کنارہ کش ہوگی اور یہ اصل تبدیلی ہوگی۔ غلام نبی شیخ، جام شورو، سندھ: ہاں ارباب صاحب اپ خود ہی بتائیے کہ کس لئے آئے ہیں، ایم کیو ایم کو خوش کرنے کے لئے یا سندھ کے عوام کے لئے؟ ذیشان قمر، متحدہ عرب امارات: چہروں کی یہ تبدیلی اس گلے سڑے نظام میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں لاسکتی۔ عوام کا مسئلہ چہروں کی نہیں نظام کی تبدیلی ہے۔ ایسا نظام جو خوش حالی لاسکے اور بے روزگاری، معاشرتی ناہمواری اور غربت کو ختم کرسکے۔ آپ ایسے شخص سے کیا تبدیلی کی امید رکھتے ہیں جو ماضی میں خود پارٹیان بدلنے کی ایک پوری تاریخ رکھتا ہو۔ راحت ملک، راوالپنڈی، پاکستان: یوں تو سندھ میں کٹھ پتلی وزیرِ اعلیٰ کی کمی نہیں اور جمہوریت کے علم بردار جمہوریت کو روندتے ہی چلے جا رہے ہیں کہ کبھی آشیرباد کے لئے لندن جانا پڑتا ہے اور کبھی وہ جو کہتے ہیں کہ ہمیں کالا وزیرِ اعلیٰ نہیں چاہئے۔ ایسی صورتِ حال میں کوئی وزیرِ اعلٰی کیسے انصاف کر سکتا ہے۔ ارباب صاحب تھر کے ایک قبیلے کے بااثر نمائندے ہیں، امید ہے کہ حالات پر قابو پا لیں گے لیکن اگر احسانات کے بدلے چکانے کی روش برقرار رہی تو وہ اپنی جنگ ہی لڑتے رہ جائیں گے۔ راجہ دیدار، پاکستان: یہ واحد وزیرِ اعلیٰ ہیں جن کا اعلان لندن سے ہوا ہے۔ انہیں پہلے ایم کیو ایم اور پگاڑا کی حمایت حاصل نہیں تھی لیکن جیسے ہی پگاڑا نے کہا کہ ’انسان کبھی بھی مسلمان ہوسکتا ہے‘ تو فوراً نائن زیرو پہنچے اور مہر اور ایم کیو ایم کے درمیان کشیدگی کو ہوا دے کر یہ عہدہ حاصل کر لیا۔ مہر کے جانے کی ایک وجہ تو حکومت کی امیدوں پر پورا نہ اترنا تھا اور دوسرا ایم کیو ایم سے اختلافات بھی تھے۔
شمس جیلانی، کینیڈا: ارباب سندھ کے شریف خاندانوں میں سے ہے۔ بدمعاشی ان کے بس کا روگ نہیں۔ وہاں تو جام صادق جیسا کوئی چاہئے جو سب کو گولی دے۔ مشکل یہ ہے کہ سب کا آقا ایک ہی ہے، ہاتھ ڈالیں تو کس پر لہٰذا ارباب بھی اسی راستے سے جائیں گے جس سے پہلے والے گئے۔ بس یہ میوزیکل چیئر والا گیم ہے، جہاں میوزک رک جائے۔ کاظم رضا نقوی، ساؤ پالو، برازیل: ارباب منجھے ہوئے سیاستدان ہیں۔ وہ سندھ میں سیاسی استحکام لائیں گے۔ جہاں تک فرقہ وارانہ تشدد کا تعلق ہے تو یہ ان کی حکومت کا سب سے بڑا امتحان ہوگا اور وہ اس سلسلے میں مرکز کی مدد کے بغیر کچھ نہیں کر پائیں گے۔ اس مسئلے کے حل کے لئے جنرل مشرف کو مزید اقدامات کرنے ہوں گے۔ انٹیلیجنس بہتر بنانی ہوگی اور پولیس کو سختی سے نمٹنے کے لئے باصلاحیت بنانا ہوگا۔ غلام فرید شیخ، گمبٹ، پاکستان: اب تو ارباب غلام رحیم کو ہی فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس کو راضی اور خوش کرنا چاہتے ہیں، اللہ کو یا حکومت اور اتحادیوں کو۔ میرا مشورہ انہیں یہ ہے کہ اللہ نے انہیں ایک موقعہ دیا ہے تو انہیں عوام کے لئے کام کرنا چاہئے۔ حاجی محمد شریف، ملکانی شریف، پاکستان: ارباب صاحب خود تو دہشت گردی کرا نہیں رہے تھے کہ ان کے آتے ہی یہ ختم ہوجائے۔ گزشتہ حکومت نے بھی اپنے طور پر اقدامات کئے تھے مگر وہ ناکام گئے۔ ارباب نئے نئے ہیں ان جمنے میں وقت لگے گا۔ باقی رہی بات حکومت کے باآحتیار ہونے کی تو میرے خیال میں ایسا نہیں ممکن بلکہ مہر کو ہٹایا ہی اس لئے گیا ہے کہ انہوں نے این ایف سی ایوارڈ اور پانی کے معاملے پر ’پنگا‘ کیا تھا۔ ویسے ارباب صاحب میں قوتِ برداشت نہیں ہے، دیکھیں یہ کیسے ڈیل کرتے ہیں حکومت کو۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||