مفتی نظام الدین شامزئی کا قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں اتوار کی صبح مذہبی رہنما مفتی نظام الدین شامزئی کے قتل کے بعدکوئٹہ اور کراچی میں مظاہرے ہوئے ہیں۔ مفتی شامزئی کو چند نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ کوئٹہ میں جمعیت علماء اسلام نے احتجاجی جلوس نکالا اور جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مخلوط حکومت میں شامل صوبائی وزیر بلدیات حافظ حسین احمد شرودی اور رکن قومی اسمبلی مولوی نور محمد نے صدر جنرل پرویز مشرف کی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ مفتی نظام الدین شامزئی معروف عالم دین تھے۔ کراچی گزشتہ چند برسوں سے تشدد کی وجہ سے عالمی سرخیوں میں رہا ہے۔ بعض اوقات تشدد فرقہ وارانہ وجوہات کی وجہ سے دیکھنے میں آیا ہے جبکہ کئی مرتبہ گیارہ ستبمر کے بعد القاعدہ سے متعلق کارروائیاں بھی تشدد کی روح رواں رہی ہیں۔ کراچی میں مفتی نظام الدین شامزئی کے قتل پر آپ کا کیا ردعمل ہے؟ ماضی کا کراچی کیسا تھا؟ تشدد کو کیسے روکا جاسکتا ہے؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں رقیہ الطاف، لاہور، پاکستان: بہت بڑے عالم کو شہید کیا گیا ہے، جب تک فلسطین، افغانستان، عراق، چیچنیا اور پوری دنیا میں بےگناہ مسلمانوں کا قتلِ عام بند نہیں ہوگا، تشدد جاری رہے گا۔ عامر کریم بیگ، لندن، برطانیہ: ان کو امریکہ اور یہودی لابی کی مخالفت اور قران کے بتائے ہوئے سچے اسلام کو پھیلانے کی وجہ سے شہید کیا گیا ہے۔ جب تک ظلم جاری رہے گا، اللہ کی راہ میں لوگ جانیں دیتے رہیں گے۔ نذیر حسین، ٹورنٹو، کینیڈا: جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انہیں مردہ نہ کہو کہ وہ زندہ ہیں مگر تمہیں اس کا کیا شعور۔ قیصر، بیجنگ، چین: جب تک ملائیت کا ختمہ نہیں ہوتا نہ تو تشدد کو روکا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس طرح کے واقعات کو، بلکہ یہ روز بروز بڑھیں گے۔ عبدالمومن ملک، راوالپنڈی، پاکستان: کراچی تو ماضی میں ہی ایسا تھا، فرق یہ پڑا کہ ہم نے دہشتگرد امپورٹ کر لئے۔ مفتی صاحب کا قتل یقیناً ظلم ہے۔ حیران ہوں کہ کون سی تیسری پارٹی اس میں ملوث ہے۔ مفتی صاحب تو روشن خیال آدمی تھے اور اسلام کا علم بلند کرتے رہے۔
محمد اشفاق، جرمنی: حکومت تو یہی کہے گی کہ دہشت گردوں سے ’آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا‘ اور بس اللہ اللہ خیر صلّیٰ۔ پولیس کے فول پروف انتظامات صرف فول ثابت ہوتے ہیں۔ کسی بھی ایسے واقعے کے بعد پولیس پورے شہر میں گاڑیوں کی چیکنگ اس طرح شروع کر دیتی ہے جیسے کہ دہشت گرد آزادانہ گھوم رہے ہوں۔ پولیس اور حکومت کو اب عوام کو بے وقوف بنانا چھوڑ دینا چاہئے۔ اشفاق نذیر، جرمنی: جس ملک کا فوجی سربراہ بھی اپنی زندگی کے بارے میں متفکر ہو، وہاں عام آدمی کی زندگی کس حالت میں ہوگی اس کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ ماضی میں کراچی ایک بہت اچھا شہر تھا جس میں امیر، عریب دنوں بستے تھے اور سب کو روزگار ملتا تھا۔ جب سے آمر ضیاء الحق نے ایم کیو ایم بنائی اس سے جماعت کا زور تو ٹوٹا لیکن کراچی کا بیڑہ غرق ہوگیا۔ پورے شہر میں اب مختلف گروہوں کی حکومت ہے۔ لاقانونیت عروج پر ہے اور پھر دوسرے ممالک بھی یہاں لاقانونیت پھیلا کر اپنے مقاصد حاصل کرتے ہیں۔ اب بھی کوئی تیسری طاقت مختلف مکاتب کے لوگوں کو لڑوانا چاہ رہی ہے۔ فرخ راجہ، اسلام آباد، پاکستان: یہ سب پاکستان کے لئے اچھا نہیں ہے۔ ہمیں ہر صورت میں اس کا خاتمہ کرنا ہوگا خواہ اس کے لئے طاقت ہی کیوں نہ استعمال کرنی پڑے۔ سعید شیخ، سان فرانسسکو، امریکہ: جب تک مشرف دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کرنا بند نہیں کرتے یہ ہوتا رہے گا۔ سعید اختر، کیلیفورنیا، امریکہ: کوئی بھی ایسا ملک یا شہر جس کے حکمران ہی قاتل رہے ہوں، جہنم بن جاتا ہے جیسے کہ ان دنوں کراچی۔ نور محمد، حیدرآباد، پاکستان: مفتی صاحب کو ان کے اپنوں نے مارا ہے۔ پہلے وہ افغانستان کے لئے نوجوان بھرتی کرتے رہے، اب جب صدر صاحب پر ہاتھ اٹھا تو یہ کرنا پڑا۔
صائمہ خان، کراچی، پاکستان: کتنے افسوس کی بات ہے کہ لوگ مرتے رہتے ہیں۔ کچھ دن اس بات پر شور مچتا ہے اور پھر سب کچھ بھلا دیا جاتا ہے۔ آخر حکومت پر کی جانے والی تحقیقات کو سامنے لانے کا دباؤ کیوں نہیں ڈالا جاتا ۔ ہمارے صحافی کیا کررہے ہیں؟ وہ کیوں صرف حکومتی بریفنگ پر انحصار کرتے ہیں؟ کیا پاکستان میں ’انویسٹیگیٹو جرنلزم‘ نہیں ہوتا اور اگر ہوتا ہے تو پھر قاتل منظرِعام پر کیوں نہیں آتے؟ کے حسین، ایمسٹرڈیم، ہالینڈ: سب کچھ ایجنسیاں کرواتی ہے تاکہ اس جھوٹی ’بنیادی جمہوریت‘ کو طوالت دی جاسکے اور معاشرے میں بےچینی پیدا کی جا سکے۔ نامعلوم: روشنیوں کے اس شہر کو شاید ہماری ہی نظر لگ گئی ہے۔ کبھی اس شہر کے روزوشب کا ایک ہی سماں تھا، اس کی گلیوں میں زندگی بے خوف و خطر رواں رہتی تھی لیکن اسی اور نوّے کے عشرے سے اس کی گلیوں میں موت گھومنے لگی۔ جب تک کراچی کی گلیوں سے سیاسی دہشت گردی ختم نہیں ہوتی، تب تک شام زئی جیسے لوگ کٹتے رہیں گے۔ ان کی موت پر جتنا افسوس کیا جائے، کم ہے۔ سید رضوی، کراچی، پاکستان: انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ہمارے اسلامی ملک میں یہ ہورہا ہے۔ کوئی مانے نہ مانے، یہ ہم مسلمانوں کے لئے انتہائی شرم کا مقام ہے۔ دعا ہے کہ کراچی میں دہشت گردی بند ہوجائے اور حکومت سے درخواست ہے کہ خدا کے واسطے کچھ انتظام کرے ورنہ اس کا انجام بہت برا ہوگا۔ شاہدہ اکرام، متحدہ عرب امارات: کبھی وہ وقت تھا کہ رات ہو یا دن، اس روشنیوں کے شہر کی رونق میں کچھ کمی نہ آتی تھی لیکن پھر فرقہ واریت اور کچھ تنظیموں کی ایسی اجارہ داری ہوئی کہ وہ اس کی سب خوشیوں کو کھا گئی۔ گو ہاتھی مرا بھی سوا لاکھ کا ہوتا ہے لیکن لگتا ہے کہ یہ کچھ لوگ زیادہ دیر امن پسند نہیں کرتے اور اس شہر کو پھر تشدد کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔ ،ازہ صورتِ حال کو صرف مذہبی نظریہ سے دیکھنا درست نہیں، اس میں ’بڑے ہاتھ‘ بھی ملوث ہوسکتے ہیں۔ ضرورت پورے نظام کو بدلنے کی ہے۔ غلام فرید شیخ، گمبت، پاکستان: علمائے حق گھبرانا نہیں، یوسف لدھیانوی، اعظم طارق کے بعد مفتی صاحب کا نمبر آیا ہے۔ کوئی پریشانی کی بات نہیں کیونکہ یہ چیز علمائے حق کو ورثہ میں ملی ہے۔ سلام پرویز مشرف، اپ کو جو یہ سب چیزیں آپ کی حکومت میں ہوئیں۔ طارق بھٹو، لاڑکانہ، پاکستان: یہ کراچی میں کوئی نیا واقعہ نہیں ہے۔ یہ تو اب روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔ کسے حکومت نے اس دہشت گردی کو کنٹرول نہیں کیا بلکہ یہ سب حکومت ہی کروارہی ہے۔ کچھ دنوں بعد حکومت مجرموں کو پکڑ کر کہے گی کہ ہم دہشت گردی کے خلاف ہیں۔
خلیل اخون، بہاولنگر، پاکستان: عالم کی موت پورے عالم کی موت ہے مگر آج کے حکمران ایک عالم کی قیمت کیا جانیں۔ یہ کوئی فرقہ وارانہ قتل نہیں ہے۔ شیعہ سنی مسئلہ اس وقت نہیں ہے۔ عراق کے حالات پوری امت پر اثرانداز ہیں۔ حکومت خود یہ کروا رہی ہے۔ حکومت وانا کی بربریت سے لوگوں اور خاص طور پر علماء کی توجہ ہٹانا چاہتی ہے۔ کل کو مشرف کہیں گے حالات بہت خراب ہیں اس لئے وردی نہیں اتار سکتا۔ راحت ملک، راوالپنڈی، پاکستان: تشدد کو روکنا شاید حکومت کے بس میں نہیں ہے البتہ علماء کے بس میں ہے اگر وہ اس حدیث پر عمل کریں اور کروائیں کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ امین راجپوت، کراچی، پاکستان: ملا کا دشمن ملا ہی ہوتا ہے۔ عبدالصمد، اوسلو، ناروے: اس قتل کے پیچھے سو فیصد امریکی سی آئی اے کا ہاتھ ہے۔ کیونکہ یہ لوگ افغانستان میں جاری امریکی دہشت گردی کے خلاف ہیں۔ خلیل اخون، بہاولنگر، پاکستان: عالم کی موت پورے عالم کی موت ہے مگر آج کے حکمران ایک عالم کی قیمت کیا جانیں۔ یہ کوئی فرقہ وارانہ قتل نہیں ہے۔ شیعہ سنی مسئلہ اس وقت نہیں ہے۔ عراق کے حالات پوری امت پر اثرانداز ہیں۔ حکومت خود یہ کروا رہی ہے۔ حکومت وانا کی بربریت سے لوگوں اور خاص طور پر علماء کی توجہ ہٹانا چاہتی ہے۔ کل کو مشرف کہیں گے حالات بہت خراب ہیں اس لئے وردی نہیں اتار سکتا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||