پانی، حیات بخش یا۔۔۔۔۔؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اطلاعات کے مطابق پاکستان کےشہر حیدرآباد میں آلودہ پانی کے استعمال سے اب تک گیارہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ سینکڑوں زیرِ علاج ہیں۔ ہلاک ہونے والوں کی یہ تعداد صرف سرکاری ہسپتالوں میں آنے والے افراد پر مشتمل ہے اور سندھ کے وزیرِ اعلیٰ نے اسے ایک وباء قرار دیا۔ پاکستان کے کئی علاقوں میں خشک سالی ایک طرزِ زندگی اختیار کر چکی ہے اور اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر لوگ ہجرت پر مجبور ہوتے ہیں۔ پانی خواہ پینے کے لئے ہو یا آپباشی اور دوسری ضرورتوں کے لئے، یہ پاکستان میں روز بروز ایک تشویشناک مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ پاکستان میں پانی نہ صرف آلودہ ہورہا ہے بلکہ مسلسل کم بھی ہورہا ہے۔ جہاں کئی بڑے شہروں میں لاکھوں لوگ صاف پانی خرید کر پیتے ہیں وہاں کروڑوں افراد سرکاری لائن سے آنے والے پانی، نلکوں کنوؤں اور جوہڑوں کے پانی پر اپنی گزر بسر کرتے ہیں۔ آپ کے رائے میں پاکستان میں پانی کی آلودگی اور کمی کی کیا وجوہات ہیں اور کون اس کا ذمہ دار ہے؟ آپ کے خیال میں اس صورتِ حال کو بہتر بنانے کے لئے کیا اقدامات لینے چاہئیں؟ آپ کون سا پانی پیتے ہیں اور آپ کے گھر تک اس کی فراہمی کس طرح ہوتی ہے؟ آپ کی رائے اگر آپ کے پاس پانی اور اس کے استعمال اور ضیاع کے حوالے سے کوئی بھی تصاویر ہوں تو وہ بھی آپ ہمیں اس پتے پر بھیج سکتے ہیں۔ urdupics@bbc.co.uk یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں شاہدہ اکرام، متحدہ عرب امارات: یہ مسئلہ پوری دنیا میں موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے سامنے آرہا ہے۔ پھر ہمارے ملک میں تو ویسے بھی کسی چیز کا کوئی مناسب انتظام نہیں ہوتا۔ ہم خود بھی کچھ کرنا نہیں چاہتے، سب کام دوسروں پر ڈالنا چاہتے ہیں۔ آلودگی کے جتنے ذمہ دار فیکٹری مالکن ہیں اتنے ہی ہم بھی ہیں۔ ہم کون سا کوشش کرتے ہیں۔ ہمیں بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنی ہوگی اور حکومت کو بھی عوام کو تمام سہولتیں مہیا کرنا ہوں گی۔ محمد یوسف قندھارو، لاڑکانہ، پاکستان: پانی کا کوئی مسئلہ نہیں مسئلہ ان ظالم وزراء اور افسران کا ہے جو خود تو صرف منرل واٹر استعمال کرتے ہیں اور ہم غریبوں کے لئے یہ پانی ہے۔
محمد علی پنہور، خیرپور،پاکستان: غریب کے نصیب بھی غریب ہوتے ہیں۔ کبھی پانی کے لئے ہجرت کرتے ہیں، کبھی اسے پی کر مر جاتے ہیں۔ صرف بیس منٹ پہلے اپنی رات کے دو بج کر پندرہ منٹ پر میں اپنی چارپائی پر سو رہا تھا کہ اچانک چیخوں سے میری آنکھ کھل گئی۔ یہ چیخیں قریبی تھانے سے کسی قیدی کی آرہی تھیں۔ پتہ نہیں کس جرم میں مگر کچھ دن پہلے ایک اور شخص کی یہیں پٹائی ہوئی تھی جس کا قصور یہ تھا کہ اس نے اپنی فصل کو بھرنے کے لئے مجبوراً پانی چوری کیا تھا۔ شوکت حسین، متحدہ عرب امارات: پینے کے پانی کا مسئلہ انتہائی اہم مسئلہ ہے جس پر توجہ دینا ہماری حکومت کی ذمہ داری ہے مگر بدقسمتی یہ ہے کہ حکومت اپنے عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے کی بجائے امریکہ کی بیگاری میں لگی ہے۔ پینے کا پانی آلودہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں کالا یرقان، ہیضہ اور کئی اور بیماریاں پھیل رہی ہیں مگر حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ سنتوش کمار، کلکتہ، انڈیا: پاکستان میں پانی کا مسئلہ بہت سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ آدھے سے زیادہ پانی پنجاب چوری کرتا ہے اور باقی جو تھوڑا بہت بچتا ہے وہ بیچارے تین صوبے بانٹ لیتے ہیں۔ یہ بات بیرونی ماہرین نے بھی تسلیم کی ہے کہ پاکستان میں پانی کا سب سے بڑا مسئلہ پانی کی چوری کا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے مشرف صاحب نے ضمانت دی تھی کہ اب پانی چوری نہیں ہوگا، معلوم نہیں کیا ہوا۔ فیصل چانڈیو، حیدرآباد، پاکستان: ہم اسی پانی کو پیتے ہیں جسے پینے سے دم نکلے۔۔۔۔۔ آصف ججہ، ٹورنٹو، کینیڈا: اس کی مرکزی وجہ تعلیم اور اپنے سائل کے بارے میں کی کمی ہے۔ دوسری وجہ حکومت کی منصوبہ بندی اور غیر مستحکم حکومتیں ہیں۔ پانی کا ضیاع ہورہا ہے اور ہم پانی کو بچانے کی منصوبہ بندی نہیں کررہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہم نئے ڈیم بھی نہیں بنا رہے اور خاص طور پر بارش کے پانی کو جمع کرنے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔ پھر ہم قیمتی خزانہ ضائع کررہے ہیں اور کالا باغ ڈیم نہیں بنا رہے۔ ہارون رشید، سیالکوٹ، پاکستان: یہ وڈیرے ڈیم کیوں نہیں بننے دیتے، آخر ڈیم تو اسی ملک میں ہی بننا ہے ناں۔ عمران سیال، کراچی، پاکستان: حیرت ہوتی ہے لوگوں کی باتیں سن کر، ایک طرف تو وہ کہتے ہیں کہ ڈیم بننے چاہئیں، دوسری طرف وہ کہتے ہیں کہ بارش نہیں ہوتی۔ جب بارش ہی نہیں ہوگی تو ڈیم میں پانی کہاں سے آئے گا؟ رہی بات کالا باغ ڈیم کی تو ایک تو وہ بارش کے بغیر نہیں بھرے گا جو اب نہیں ہو رہیں، دوسرا ویسے بھی ماہرین نے کہہ دیا ہے کہ کالا باغ کی عمر صرف تیس برس ہے۔ سو اربوں ڈالر ضائع کرنے کا کیا فائدہ؟ سب سے اچھا حل ہے کہ حکومت پانی کی چوری روکے، مسئلہ حود بخود حل ہو جائے گا۔ شیر یار خان، سنگاپور: پاکستان اور دوسرے بہت سے ممالک میں پانی کی آلودگی اور کمی کی وجوہات آبادی کا تناسب اور قدرتی آبی ذخائر میں کمی ہیں۔ دنیا میں موسمی حالات میں تبدیلیاں اور حکومتوں کی غیرتوجہی بھی ایک قابل ذکر وجہ ہے۔ میرے خیال میں پانی کی کمی کو دور کرنے کے لئے عالمی سطح پر ایک ایسا ادارہ بنانا پڑے گا جو کہ دنیا کے مختلف ممالک میں پانی کی مساویانہ تقسیم کا ذمہ دار ہو۔۔۔ محمد اکرم رامے، ٹورانٹو: انیس سو سینتالیس سے لیکر آج تک ہمارے ملک میں انسان کا بنیادی مسئلہ پینے کا صاف پانی، حل نہیں ہوسکا۔ آخر کیوں؟ محمد طاہر، ریاض: پانی کی کمی اور آلودگی کی سب سے بڑی وجہ پہلے تو پانی کے ناکافی ذخیرے اور پھر ان ذخیروں کی مناسب حفاظت کا بندوبست نہ ہونا ہے۔ اور اس کے ذمہ دار گورنمنٹ کے ساتھ ساتھ ہم خود ہیں۔ حکومت کا کام ہوتا ہے پینے کے صاف پانی کا بندوبست کرنا اور عوام کا کام ہوتا ہے ان سہولیات کو مناسب طریقے سے استعمال کرنا۔ اگر ہمارے گھر کے قریب کوئی ندی یا دریا بہتا ہے تو ہم اپنے گھر کا سب کوڑا کرکٹ اس میں ڈال دیتے ہیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہم پانی کو گندہ کررہے ہیں۔
رضی رحمان، امریکہ: حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستانی حکام بوتل کا پانی پی رہے ہیں اور گھروں میں بھی غیرملکی فِلٹر ہوتا ہے جس کے ذریعے انہیں صاف پانی مل جاتا ہے۔ ٹیپ واٹر کے بارے میں وہ کیوں فکر کریں؟ سید طارق مسعود کاظمی، میانوالی: ہمارے یہاں پینے کا پانی جو ہم استعمال کررہے ہیں اگر کسی یورپ کے شہر میں ایک ہفتہ پی لیں تو ان کی ساری آبادی بیمار پڑجائے۔ ہم پاکستانیوں کو کچھ نہیں ہوتا، بس یرقان، ہیضہ، وغیرہ وغیرہ۔ عادل، کراچی: ہماری حکومتی مشنری زیادہ اہم کاموں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ راحت ملک، راولپنڈی: میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان میں پانی کی کمی ہے مگر بڑے دکھ اور شرمندگی سے کہوں گا کہ وسائل کو صرف کاغذوں کی حد تک استعمال کیا جاتا ہے جس سے پورا پاکستان متاثر ہوتا ہے۔ زیادہ تر پانی ہمیں ڈیم سے ملتا ہے لیکن ہمارے ڈیم مٹی اور ریت سے گزشتہ بیس سالوں میں بھر گئے ہیں اور ان میں پانی کی گنجائش نہیں ہے۔ قیصر، بیجنگ: پانی کا مسئلہ صرف پاکستان میں ہی نہیں ہے، بیجنگ جیسے شہر میں بھی یہ مسئلہ ہے۔ بلکہ اب تو یہ عالمی مسئلہ بن گیا ہے جس کے بارے میں عالمی سطح پر کوششوں کی ضرورت ہے۔ پاکستان جیسا غریب ملک اس مسئلے کو اکیلے حل نہیں کرسکتا۔ ڈاکٹر الطاف حسین، اٹلی: میرے خیال میں گزشتہ ایک عشرے میں سندھ میں بارش نہیں ہوئی ہے۔حکومتِ سندھ کو اقدامات کرنے چاہئیں۔ انجینیئر نظیر،کراچی: آپ گندے پانی اور آلودگی کے بارے میں پوچھتے ہیں؟ میں کہتا ہوں کہ یہاں تو انسان سے عزت سے جینے کا حق بھی چھین لیا گیا ہے۔ زبیر سرور، پاکستان: پانی کی کمی کی وجہ پاکستان میں ڈیم کی کمی ہے۔ برسات میں پانی سیلاب کی وجہ سے آجاتا ہے اور گرمی میں پانی کی کمی ہوجاتی ہے۔ پاکستان میں جو ڈیم ہیں ان میں پانی جمع کرنے کے لئے کم جگہ ہے۔ پانی میں آلودگی کی وجہ انڈسٹری ہے، کیونکہ صنعتی کچرہ دریاؤں میں بہا دیا جاتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||