ہم پانی پانی کی طرح کیوں بہا رہے ہیں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج منرل واٹر صرف خواص کی ضرورت ہے لیکن آنے والے کل میں یہ ہر گھر کی ضرورت بن جائے گا اور ایسا لگتا ہے کہ ماہرین کی یہ پیش گوئیاں سچ لگنے لگیں گی کہ ’مستقبل کی جنگیں تیل کی بجائے پانی کے لیے لڑئی جائیں گی۔‘ اس معدنیاتی پانی کی قیمت آج بھی تیل سے مقابلہ کرتی نظر آتی ہے ذرا تصور کریں جب طلب اور رسد کا فرق بڑھ جائے گا تو پانی کی قیمت کہاں پہنچےگی؟ کئی بین الاقوامی کمپنیوں نے ابھی سے پانی کے انتظام کے لیے شعبے قائم کر دئیے ہیں تاکہ جب یہ مسلئہ درپیش ہو تو ان کے پاس اسکا حل موجود ہو۔ پانی کے ذخائر محفوظ بنانے اور اسے لمبے عرصے تک قابِل استعمال رکھنے کے لیے بین الاقوامی ادارے سیمنیار منعقد کر رہے ہیں اور ابھی سے اس مسلئہ کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ اب دوسری تصویر پاکستان کی ہے جہاں پانی کے ذخائر، دریا، چشمے، جھرنے ۔۔۔ سب کچھ ہے لیکن ہم اپنے ان ذخائر کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں، یہ آپ کسی بھی دریا اور کسی بھی چشمے پر جا کر دیکھ لیں۔ یہ صورت حال اور بھی تکلیف دہ ہو جاتی ہے جب پاکستان کے شمالی علاقوں کی طرح صاف اور شفاف پانی میں علاقے بھر کی غلاضت ملتی دیکھتے ہیں۔ ہم اپنے پانی کے ذخائر کو جس بے دردی سے گندہ کر رہے ہیں اس کا خمیازہ آنے والی نسلوں کو ضرور بھگتنا پڑے گا۔ ہم نے مستقبل میں پانی کی کمی اور موجود پانی کے مسئلے پر لوگوں کے شعور کو جانچنے کے لیے مختلف لوگوں سے بات کی۔ مانسہرہ کے مقامی پچہتر سالہ آزاد خان سے جب بات کی تو انہوں نے کہا ’یہ سب گوروں کی سازش ہے تاکہ ہمیں پانی کی بوتلیں بیچ سکیں، پانی کم نہیں ہوا پانی کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ ایک تو آبادی بڑھنے سے اور دوسرا نئے طرز زندگی سے، کچھ عرصہ پہلے تک جتنا پانی ایک شخص سارے دن میں استعمال کرتا تھا اب وہی شخص ایک بار فلش میں اس سے زیادہ پانی بہا دیتا ہے۔ ہم نے جب اُنہیں سمجھانے کی کوشش کی تو اُنہوں نے ہمیں لاجواب کر دیا۔ ۔’ ہم ٹرک دریا میں نہیں دھوتے لیکن ہمیں بتائیں کیا لاہور والے روای اور کراچی والے سمندر کو صاف رہنے دیں گے؟ صاحب اس ملک میں چلنے دیں جیسا چلتا ہے‘۔ ایڈوائزر نیسپاک برائے ماحولیاتی ترقی روالپنڈی بریگیڈیئر (ر) حبیب الرحمن مینجنگ ڈایریکٹر واسا (روالپنڈی) رہ چکے ہیں۔ اس سلسلے میں ان کا کہنا ہے کہ اس مسلئہ پر اتنی سنجیدگی سے کام نہیں ہو رہا جس کا یہ متقاضی ہے۔ ’اس وقت روالپنڈی میں تقریباً سات سو ٹن ٹھوس فضلہ جمع ہوتا ہے۔ جس میں سے صرف تین سو پچاس ٹن میونسپل ادراے اٹھاتے اور لینڈفلز میں لے جاتے ہیں، باقی سارا فضلہ شہر ہی میں رہتا ہے اور کسی نہ کسی طرح نالہ لئی پہنچ جاتا ہے۔ مائع فضلہ کی صفائی کے لیے ہمارے پاس پلانٹس نہیں ہیں اس لیے ہم بغیر کسی ٹریٹمنٹ کے نالہ لئی میں جانے دیتے ہیں اور یہ نالہ آگے جا کر دریائے سواں میں مل کراسے بھی آلودہ کر دیتا ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ اس وقت وہ ایشین ڈیویلپمنٹ بنک کے تعاون سے ایک پلان بنا رہے ہیں جس کے تحت ٹھوس اور مائع فضلے کی ٹریٹمنٹ کی جا سکے گی۔ یہ مسلئہ صرف روالپنڈی کے ساتھ نہیں بلکہ ہر شہر کا تقریباً یہی حال ہے بلکہ شاید اس سے بھی برا۔ اسلام آباد میں اس وقت تین ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس ہیں لیکن یہ مختلف وجوہات کی بنا پر اکثر بند ہی رہتے ہیں اور اسلام آباد سے آنے والا پانی بھی بغیر کسی ٹریٹمنٹ کے دریائے سواں تک پہنچ جاتا ہے۔ جب صاف ستھرے دارالحکومت کا یہ حال ہے تو سوال یہ ہے کہ سیف الملوک، نیلم اور کہار کے پانیوں کو گندہ ہونے سے کیسے بچائے گا؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||