| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پانی کے بحران کا خطرہ ہے: مشرف
صدر پرویز مشرف نے متنبہ کیا ہے کہ اگر صوبوں کے مابین ڈیموں کی تعمیر پر اتفاق رائے نہ ہو سکا تو ملک میں پانی کا شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے۔انہوں نے یہ بات ہفتہ کے روز ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر قوم سے اپنے خطاب میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں پانی کا بحران پیدا ہوا تو پورا ملک اس سے متاثر ہو گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پانی کے بحران کی شکل میں صوبہ سندھ سب سے زیادہ متاثر ہوگا جہاں لوگ پہلے ہی پانی کی قلت کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں بھاشا ڈیم اور کالا باغ ڈیم کی جلد از جلد تعمیر بہت ضروری ہے۔
صدر مشرف نے کہا ہے کہ ماضی میں صوبوں کو ایک دوسرے سے گلے شکوے رہے ہیں۔ صوبہ سندھ کو گلہ ہے کہ اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ماضی میں کسی نے سندھ سے زیادتی کی ہے تو میں ذاتی طور پر اس کے لئے معذرت خواہ ہوں۔ لیکن، انہوں نے کہا، صوبوں کو ماضی کو بھول کر مستقبل کے بارے میں سوچنا چاہیے، انشاءاللہ ہر صوبے کے ساتھ انصاف ہوگا۔ اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار ظفر عباس کا کہنا ہے کہ اگرچہ صدر مشرف نے صوبوں کو پانی کے بحران سے خبر دار تو کیا ہے لیکن اپنی تقریر میں انہوں نے مسئلے کا کوئی حل نہیں بتایا جس سے واضح ہوتا ہے کہ صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم پر پایا جانے والے تنازعہ برقرار رہے گا۔ نامہ نگار کے مطابق پاکستان کے مختلف صوبوں کے مابین مزید ڈیموں کی تعمیر پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔صوبہ سندھ کا کہنا ہے کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے پنجاب کو تو فائدہ ہوگا لیکن اس کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔
نامہ نگار ظفر عباس کے مطابق صدر مشرف کے قوم سے خطاب کی خبر سامنے آتے ہی ملک میں قیاس آرائیوں کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا تھا اور یہ سوچا جانے لگا تھا کہ شاید وہ لیگل فریم ورک آرڈر یا اپنی فوجی وردی سے متعلق کوئی اہم اعلان کرنے والے ہیں۔ نامہ نگار کے مطابق ان قیاس آرائیوں کو ختم کرنے کے لئے صدر مشرف کی تقریر کو ہفتہ کو ہی نشر کر دیا گیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |