بنگلہ دیش: زہریلے پانی پر کانفرنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلہ دیش میں دنیا بھر کے ماہرین زیرِ زمین پانی میں زہریلے مادوں کے مسائل پر غور کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔ کانفرنس میں شرکت کے لیے آنے والے سائنسداں، ڈاکٹر اور آبی وسائل کے بارے میں کام کرنے والے عالمی اداروں کے ماہرین بنگلہ دیش کے زیر زمین پانی میں سنکھیا کے عناصر کی موجودگی پر غور کریں گے۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں ساڑھے آٹھ کروڑ کے لگ بھگ آبادی پینے کے لیے ایسا پانی استعمال کر رہی ہے جس میں ایسے کیمیائی مادے شامل ہیں جو کینسر، گردوں کی بیماریوں اور جلدی امراض کا باعث بنتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں زیر زمین پانی کا بڑا حصہ دریاؤں کے پانی کے ساتھ آنے والی اس تلچھٹ کی وجہ سے آلودہ ہوتا ہے جس میں قدرتی طور پر سنکھیا اور دوسرے زہریلے مادے شامل ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ آبادی کا ایک بڑا حصہ پینے کا پانی کنوؤں سے حاصل کرتا ہے جس میں وہ تمام عناصر شامل ہوتے ہیں جو دریائی رساؤ کے ذریعے کنوؤں تک آ جاتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||