BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بڑے شہروں میں صاف پانی کا بحران
سہولتوں سے محروم آبادی
سہولتوں سے محروم آبادی کا ایک حصہ

اقوامِ متحدہ نے دنیا بھر کے ملکوں سے اپیل کی ہے کہ بڑے شہروں میں پانی اور صحت و صفائی کا جو عمومی بحران پیدا ہو رہا ہے اس سے نمٹنے کے لئے کوششیں تیز تر کر دیں۔

آج پیر کے دن ’عالمی یومِ مسکن‘ کے موقعے پر اقوامِ متحدہ نے برازیل کے شہر ریو دی جینیرو میں عالمی سطح کے سیاست دانوں اور امدادی کارکنوں کے ایک اجتماع کا اہتمام کیا ہے۔ اس موقعے پر اقوامِ متحدہ نے انکشاف کیا ہے کہ دنیا کی شہری آبادی میں کوئی ایک ارب انسان ایسے ہیں جنکو مناسب مقدار میں پانی میسّر نہیں۔

ماضی میں حکومتیں اور امدادی ادارے محض دیہاتی، صحرائی یا کوہستانی علاقوں میں پانی کی ترسیل پر زور دیتے رہے ہیں لیکن اس برس اقوامِ متحدہ نے شہری علاقوں پر توّجہ مبذول کی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ وافر مقدار میں پانی کی سپلائی کے بغیر شہروں میں زندگی اجیرن ہو جائے گی۔

اس وقت دنیا کی آدھی آبادی شہروں میں مقیم ہے اور اس شہری آبادی کا ایک تہائی حصّہ پانی کی مناسب مقدار اور صحت و صفائی کے معقول انتظام سے محروم ہے۔ افریقہ اور ایشیا میں صورتِ حال اور بھی سنگین ہے جہاں کے شہروں کی پچاس فیصد آبادی ان سہولتوں سے محروم ہے۔ لاطینی امریکہ میں بھی شہری آبادی کی محرومی کا یہی عالم ہے اور وہاں بارہ کروڑ افراد تک یہ بنیادی سہولتیں نہیں پہنچ سکیں۔

نئی صدی کے آغاز پر عالمی لیڈروں نے عہد کیا تھا کہ وہ صاف پانی اور حفظانِ صحت سے محروم آبادی میں سے کم از کم آدھے لوگوں کو یہ سہولتیں سن دو ہزار بیس تک مہّیا کر دیں گے لیکن اب اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ ہدف غیر حقیقت پسندانہ تھا کیونکہ عملاً ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد