پانی پیئیں یا بچائیں کیا کیا جائے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دنیا بھر سے ماحولیات کے ماہر جنوبی کوریا میں ایک کانفرنس کے دوران یہ طے کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں کہ دنیا میں پانی کم اور آبادی بڑھ رہی ہے اور چند دہائیوں میں ترقی پذیر ممالک میں صورتحال اور سنگین ہو سکتی ہے۔ دنیا میں ہونے والی ہر بڑی کمی کا اثر سب سے پہلے ترقی پذیر ممالک کو ہی اپنی لپیٹ میں لیتا ہے اور پھر پانی تو ہر انسان کی ضرورت ہے۔ پاکستان بھی ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں پینے کے پانی کی قلت ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ کبھی تو یہ مسئلہ بھارت کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوتا ہے تو کبھی پانی کی بین الصوبائی تقسیم داخلی اختلافات کا سبب بن جاتی ہے۔ عالمی سطح پر اگر پانی کے استعمال کی تقسیم کی جائے تو حساب کچھ یوں بنتا ہے کہ پانی کا ُ کل ستر فیصد زراعت پر خرچ ہوتا ہے بائیس فیصد صنعت پر اور جو رہا باقی آٹھ فیصد وہ گھریلو استعمال کی نظر ہوتا ہے۔
پاکستان کی ایک سو چالیس ملین کی آبادی بھی اس کمی کا شکار ہے اور آنے والے برسوں میں اس کمی پر قابو پایا جا سکے گا یا نہیں؟ اس سوال کے جواب پر جب پاکستان کے ماحولیاتی اداروں سے رابطہ کیا گیا تو پانی کی تقسیم اور استعمال پر بقائے ماحول کی عالمی انجمن کے ماہر ماحولیات طاہر قریشی کے مطابق ورلڈ کمیشن برائے ڈیمز کی جو رپورٹ تربیلا ڈیم کو مدنظر رکھ کے بنائی گئی تھی اسے پاکستان کے پانی سے متعلق تمام صوبائی اداروں کے سامنے پیش کیا گیا تاکہ سب کی رائے لی جا سکے تواس پر اتفاق رائے سے کم اور الگ الگ رجحان سامنے آیا۔ سندھ کے حوالے سے اگر بات کی جائے توسندھ کے عوام عالمی سطح پر اس قلت سے دوچار لوگوں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ چاہے وجہ آبادی میں اضافہ ہو یا ماحولیاتی تبدیلیاں یا انتظامی امور وجہ کوئی بھی بنتی ہو سندھ میں پانی کے بہاؤ کی سطح کو اونچا کرنا ضروری ہے۔ اب چاہے اس کا استعمال خوراک کی ضرویات کے لئے کیا جائے یا زراعت کے لئے۔صوبہً سندھ کے حوالے سے یہ تو طے ہے کہ چاہے پانی کا استعمال کچھ بھی ہو اس کے بہاؤ کی سمت کو تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے۔
دیگر صوبوں کے اس موقف سے متعلق اپنے تحفظات ہیں کہ پانی کے بہاؤ کا رخ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ دیگر صوبوں کو اس کا نقصان ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ پانی کی ذخیرہ اندوزی اپنی جگہ لیکن جو پانی بزریعہ کوٹری بیراج سمندر میں جا رہا ہے وہ ضائع ہو رہا ہے ۔ معترض صوبوں کو بقول طاہر قریشی اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ جو پانی اس طرح بحیرہ عرب میں گرتا ہے وہ اس سفر میں کئی لاکھ ایکڑ ایسی زمین کو سیراب کرتا ہوا جاتا ہے جو زرعی اعتبار سے استعمال میں آتی ہے۔ اسی معاملے پر صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم اور زراعت کے لئے استعمال پر سرکاری موقف جاننے کے لئے جب پاکستان میں پانی کی فراہمی سے متعلق ماہرین سے رابطہ کیا گیا تو واپڈا کے سابق اہلکار اور اب عالمی بنک کی پانی سے متعلق کمیٹی کے رکن فیض احمد زیدی کا کہنا تھا کہ پانی کی تقسیم اور آنے والے برسوں میں ملکی سطح پر اس قلت سے نمٹنے کے لئے صوبوں کے ساتھ مل کر ایک کمیٹی اپنی رپورٹ پر کام کر رہی ہے جو سال بھر تک پیش کی جا سکے گی۔
فیض احمد زیدی کے مطابق صوبائی سطح پر پانی کی تقسیم کی جو بحث سندھ اور سرحد کے درمیان چلی آ رہی ہے وہ بلا جواز ہے کیونکہ بقول ان کے پانی کی نکاسی کا سب سے بڑا مسئلہ سندھ میں ہے کیونکہ زمین میں ڈھلوان کم ہے لہذا صوبہ سرحد سے بہنے والے پانی کو سندھ سے گزرنا ہی ہے اور یہیں سے سندھ اور سرحد کے درمیان پانی کی تقسیم پر بحث کا آغاز ہوتا ہے۔تو قصور سندھ کا نہیں بلکہ یہ قدرت کا بنایا جغرافیائی نظام ہے۔ لیکن ضرورت ہے سندھ کے کاشتکار پانی کا سوچ سمجھ کے استعمال کریں۔جہاں تک سوال ہے سندھ کی خشک سالی کا تو فیض احمد زیدی کے مطابق سندھ کے کاشتکار ضرورت سے زیادہ پانی استعمال کر رہے ہیں بہ نسبت پنجاب اور دیگر دو صوبوں کے کاشتکاروں کے۔ اور اس کی بڑی اہم وجہ ہے کاشتکاروں میں زرعی شعور اور تعلیم کی کمی ۔ جب صوبہ سرحد کے موقف کو جاننے کے لئے ایبٹ آباد میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم سنگی کے احمد جان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ چونکہ بیشتر علاقے پہاڑی ہیں اس لئے کوشش کی جارہی کہ خوراک و زراعت دونوں اعتبار سے چشموں سے بہنے والے پانی کو زیادہ سے زیادہ استعمال میں لایا جا سکے اور ہاں یہ بھی درست ہے کہ ملک میں کاشتکاروں کو پانی کے استعمال سے آگاہی فراہم کرنا مسئلے کے حل میں مددگار ثابت ہوگا۔ پانی آج کم ہو جائے یا کل صورتحال قابو میں آجائے ضرورت سب کو ہے۔ سو پیئیں یا بچائیں کیا کیا جائے؟؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||