BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 03 March, 2004, 01:58 GMT 06:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مریخ پر پانی اور زندگی
ناسا
مریخ کی چٹانیں جن میں پانی کے آثار پائے گیے ہیں
امریکی خلائی ادارے ناسا نے کہا ہے کہ مریخ بھیجے گئے اس کے مشن سے حاصل ہونے والی شہادتوں کے مطابق سیارے پر ایک وقت ایسا بھی گزرا ہے جب وہاں زندگی کے لیے درکار پانی موجود تھا۔

ناسا کے سائنسدانوں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تحقیقات کے مطابق اب تک انہیں سیارے پر زندگی کی موجودگی کے آثار کی براۂ راست شہادت حاصل نہیں ہو سکی۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ مریخ پر’ آپرچونیٹی‘ کے قریب جو چٹانیں ہیں ان سے یہ ثابت ہوتا کہ وہ کبھی پانی میں ڈوبی رہی تھیں۔

سائنسداں سٹیو سکوائیرس کا کہنا ہے کہ ان چٹانوں میں محلول پانی کی وجہ سے تبدیلیاں بھی رو نما ہوئی ہیں۔

ناسا کا آپرچونیٹی مشن پچیس جنوری کو مریح پر اترنے کے بعد سے اپنے اردگرد کے ماحول کا جائزہ لے رہا ہے اور سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اب تک جو شہادتیں سامنے آئی ہیں ان سے یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ کبھی یہ ماحول زندگی کے لیے ساز گار رہا ہو گا۔

اس سے پہلے یورپی خلائی ایجنسی نے پہلی بار مریخ پر پانی کی موجودگی کے بارے میں براہ راست شواہد کا انکشاف کیا تھا۔

یورپی خلائی گاڑی ’مارز ایکسپریس‘ کے ذمہ دار سائنسدانوں نے کہا ہے کہ خلائی گاڑی نے سیارے کے قطب جنوبی پر پانی کی موجودگی کے بارے میں پہلے سے موجود شواہد کی تصدیق کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انفرا ریڈ ٹیکنالوجی کی مدد سے قطب جنوبی کا نقشہ تیار کیا گیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے پانی کے ذرات کی موجودگی کا پتہ چلایا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد