مریخ پر پانی اور زندگی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی خلائی ادارے ناسا نے کہا ہے کہ مریخ بھیجے گئے اس کے مشن سے حاصل ہونے والی شہادتوں کے مطابق سیارے پر ایک وقت ایسا بھی گزرا ہے جب وہاں زندگی کے لیے درکار پانی موجود تھا۔ ناسا کے سائنسدانوں نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تحقیقات کے مطابق اب تک انہیں سیارے پر زندگی کی موجودگی کے آثار کی براۂ راست شہادت حاصل نہیں ہو سکی۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ مریخ پر’ آپرچونیٹی‘ کے قریب جو چٹانیں ہیں ان سے یہ ثابت ہوتا کہ وہ کبھی پانی میں ڈوبی رہی تھیں۔ سائنسداں سٹیو سکوائیرس کا کہنا ہے کہ ان چٹانوں میں محلول پانی کی وجہ سے تبدیلیاں بھی رو نما ہوئی ہیں۔ ناسا کا آپرچونیٹی مشن پچیس جنوری کو مریح پر اترنے کے بعد سے اپنے اردگرد کے ماحول کا جائزہ لے رہا ہے اور سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اب تک جو شہادتیں سامنے آئی ہیں ان سے یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ کبھی یہ ماحول زندگی کے لیے ساز گار رہا ہو گا۔ اس سے پہلے یورپی خلائی ایجنسی نے پہلی بار مریخ پر پانی کی موجودگی کے بارے میں براہ راست شواہد کا انکشاف کیا تھا۔ یورپی خلائی گاڑی ’مارز ایکسپریس‘ کے ذمہ دار سائنسدانوں نے کہا ہے کہ خلائی گاڑی نے سیارے کے قطب جنوبی پر پانی کی موجودگی کے بارے میں پہلے سے موجود شواہد کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انفرا ریڈ ٹیکنالوجی کی مدد سے قطب جنوبی کا نقشہ تیار کیا گیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے پانی کے ذرات کی موجودگی کا پتہ چلایا جا سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||