| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
کالا باغ ایک سازش: قوم پرست
پاکستان میں تین چھوٹے صوبوں کے قوم پرست سیاستدانوں نے صدر پرویز مشرف کی جانب سے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے اعلان کو مسترد کرتے ہوے اس کی بھرپور مخالفت کے اپنے موقف کودہرایا ہے۔ صوبہ سرحد کے دارلحکومت پشاور میں اتوار کو عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے کالا باغ ڈیم مخالف سیمینار سے خطاب میں پختون، سندھی اور بلوچ قوم پرست رہنماؤں نے البتہ بھاشا ڈیم کی مخالفت نہیں کی۔ کالا باغ ڈیم کے سرحد، سندھ اور بلوچستان میں مخالف سیاستدانوں کا پشاور کے نشتر ہال میں اتوار کے اجتماع کا انعقاد اس متنازعہ منصوبہ کی مخالف بڑی جماعتوں میں سے ایک، عوامی نیشنل، پارٹی نے کیا تھا۔
جماعت کے سینکڑوں کارکنوں کے علاوہ اس اجتماع میں سندھ سے رسول بخش پلیجو، ممتاز بھٹو، قادر مگسی اور سید جلال شاہ، بلوچستان سے اسحاق بلوچ اور سرحد سے اسفندیار ولی، بیگم نسیم ولی خان، اجمل خٹک، افضل خان لالا اور لطیف آفریدی نے شرکت کی۔ ان رہنماؤں اور کارکنوں نے کالا باغ ڈیم نامنظور کے بیج لگا رکھے تھے جبکہ ہال کو بھی ڈیم مخالف نعروں سے سجایا گیا تھا۔ اجتماع سے خطاب میں سیاستدانوں نے کالا باغ ڈیم کی مخالفت پر مبنی اپنے موقف کو دہرایا اور اسے وفاق کے خلاف ایک شازش قرار دیا۔ کئی نے صدر مشرف پر تین صوبائی اسمبلیوں کی ماضی کی ڈیم مخالف قراردادوں کو تسلیم نہ کرنے پر ان پر غداری کا الزام بھی لگایا۔ اے این پی کی بیگم نسیم ولی خان نے ڈیم کے مسئلہ کو اٹھانے کی وجہ حکمرانوں کی اصل مسائل سے عوام کی توجو ہٹانا قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ وفاق کے دفاع کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ اجتماع میں ان سیاستدانوں کی جانب سے بھاشا ڈیم کی حمایت کی گئی اور حکومت کو اس پر کام شروع کرنے کا مشورہ دیا۔ صدر پرویز مشرف نے ہفتے کے روز ٹی وی اور ریڈیو پر قوم سے خطاب میں صوبوں سے مشاورت کے بعد اگلے سال کالا باغ یا بھاشا ڈیم پر کام کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔ لیکن سیاستدانوں کی تقاریر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس تقریر کا ان قوم پرستوں پر بظاہر کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ اب بھی اپنے موقف پر قائم ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| BBC Languages >>BBC World Service >>BBC Weather >>BBC Sport >>BBC News >> | |