حیدرآباد: آلودہ پانی سے دس ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد اور اس کے گرد و نواح میں آلودہ پانی کے استعمال کے باعث پیٹ کی بیماریاں پھوٹ پڑی ہیں جن کے سبب پیر کو دو مزید افراد ہلاک ہو نے سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد دس ہو گئی ہے۔ حیدر آباد اور اس کے گرد و نواح میں آلودہ پانی سے متاثرہ سینکڑوں افراد کو علاج معالجے کے لئے ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے اور کئی سرکاری اور نجی ہسپتال الٹی، دست، قے اور ڈی ہائیڈریش یعنی جسم میں پانی کمی کا شکار مریضوں سے بھر گئے ہیں۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ علی محمد مہر پیر کو حیدر آباد میں آلودہ پانی کے مسئلے پر پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ منچھر جھیل کا آلودہ پانی دس مئی کو دریائے سندھ میں چھوڑ دیا گیا تھا جس کے باعث بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ تاہم اب حکام کا یہ کہنا ہے کہ وہ اوپر سے مزید پانی دریائے سندھ میں چھوڑیں گے تاکہ مزید بہاؤ کے باعث شہر کے پانی سے آلودگی جاتی رہے۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ آلودہ پانی کے سبب ہلاک ہونے والوں کی تعداد چار یا پانچ تک پہنچی تو حکومت سندھ کے حکام نے حیدرآباد کا رخ کیا جس کے بعد ان پر مسئلے کی اصل حقیقت آشکار ہوئی۔ یاد رہے کہ جامشورو اور لاکھڑا میں بجلی پیدا کرنے والے پلانٹ بند کر دیئے گئے تھے کیونکہ حکام کے بقول آلودہ پانی میں اس قدر نمکیات موجود ہیں کہ بوائلر خراب ہو جائیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||