آلودہ پانی، بارہ افراد ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سندھ کے شہر حیدر آباد میں اطلاعات ہیں کہ آلودہ پانی کے استعمال سے اب تک بارہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس سے قبل پولیس نے ان مظاہرین کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا جو پینے کے لیے گندے پانی کی فراہمی پر احتجاج کررہے تھے۔ حکام کے مطابق گندے پانی کے استعمال سے ایک ہزار سے زائد افراد ہیضہ یا معدے کے دیگر امراض میں مبتلا پوگئے ہیں۔ لیاقت میڈیکل یونیورسٹی ہسپتال کی چیف میڈیکل آفیسر نے بتایا کہ معدے کی تکالیف کے مریض اب بھی ہسپتال لائے جارہے ہیں۔ دیگر کئی ہسپتالوں نے بھی ایسے مریضوں کی تعداد میں اضافے کی تصدیق کی ہے۔ پولیس نے کہا ہے کہ قاسم آباد کے ناظم اور واسا (واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی) کے ڈائریکٹر نے سندھ نیشنل پارٹی کے کارکنان کے خلاف شکایت کی تھی۔ شکایت میں کہا گیا تھا ’مشتعل مظاہرین ہمارے دفاتر میں گھس گئے اور عمارت کے احاطے میں موجود نجی اور سرکاری گاڑیوں کو نقصان پہنچایا‘۔ سندھ نیشنل پارٹی نے واسا کے دفتر کے سامنے پیر کے روز یہ مظاہرہ کیا تھا۔ واسا حیدر آباد کو پانی کی فراہمی کا ذمہ دار ادارہ ہے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ پانی آلودہ اور زہریلا ہے اور اس سے منگل کے روز تک بارہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ دریں اثناء واسا کے مینیجنگ ڈائریکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ پانی کے معیار میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس پانی کے نمونے تجزیہ کے لیے لیبارٹری بھیج رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||