BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 October, 2003, 20:57 GMT 01:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تھل کینال کے خلاف جلسہ

تھل کینال کے خلاف قومی سطح پر اتحاد بنانے کا اعلان
تھل کینال کے خلاف قومی سطح پر اتحاد بنانے کا اعلان

پنجاب سمیت پاکستان کے چاروں صوبوں کی قوم پرست اور سیاسی جماعتوں نے تھل کینال اور کالا باغ ڈیم کے خلاف ملکی سطح پر اتحاد بنانے پر اتفاق رائے کیا ہے-

حکمران جماعت مسلم لیگ (ق) کو چھوڑ کر ملک کی تمام اہم پارٹیوں کے رہنماؤں نے یہ اعلان صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد میں جمعرات کے روز ہزاروں افراد کے جلسہ میں کیا-

جلسہ عام کا اہتمام سندھ کی سات بڑی پارٹیوں پر مشتمل اتحاد اینٹی گریٹر تھل کینال ایکشن کمیٹی نے کیا تھا-

سندھ کی قوم پرست جماعتیں گذشتہ ایک سال سے تھل کینال کے خلاف جدوجہد میں مصروف ہیں - چند ماہ قبل وفاق پرست اور مذہبی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی، جمیعت علمائے اسلام، جماعت اسلامی اور مسلم لیگ (ن) بھی اس جدوجہد میں شامل ہوگئی ہیں-

کالا باغ ڈیم تعمیر کرنے کے بارے میں جنرل پرو یز مشرف کے حالیہ بیان کے بعد صوبہ سرحد سے عوامی نیشنل پارٹی ایک بار پھر اپنے احتجاج کی تجدید کی ہے۔

تھل کینال کے خلاف احتجاجی مہم میں پنجاب اسیمبلی میں اپوزیشن کے رہمنا اور پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر قاسم ضیا کی شرکت کو سیاسی حلقے بڑی اہمیت دے رہے ہیں-

پنجاب سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے رہنما نے بڑے صوبے کے عوام کی طرف سے سندھ کے عوام کو یہ پیغام دیا ہے کہ پنجاب سندھ کےعوام کے ساتھ ہے-

یہ پہلا موقع تھا کہ پنجاب کے کسی لیڈر نے جلسہِ عام میں کالا باغ ڈیم اور تھل کینال کی مخالفت کی ہے کیونکہ تھل کینال کو پنجاب کامنصوبہ سمجھا جاتا ہے-

جمعرات کے روز سندھ بھر سے آنے والے ہزاروں افراد کے احتجاج کی دوسری خاص بات یہ تھی کہ بلوچ اور پختون لیڈروں نےسندھ کے لوگوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے تحریک میں عملی طور پر شرکت کا بھی اعلان کیا-

اس سے قبل اینٹی کینال کمیٹی سندھ کے تمام شہروں میں احتجاجی مظاہرے اور جلسے کر چکی ہے -گذشتہ ماہ اے این پی نےپشاور میں ملک بھر کے قوم پرستوں کو جمع کیا اور مشترکہ جدوجہد پر زور دیا - اس جلسہ میں کالاباغ کے بجائے بھاشا ڈیم تعمیر کرنے پر اتفاق رائے کیا گیا -لیکن حکومت نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کالاباغ ڈیم ہی بنانے کا اعلان کیا تھا-

چاروں صوبوں میں اہم بڑی سیاسی جماعتوں کےحالیہ اعلان کے بعد تھل کینال اور کالاباغ ڈیم کے خلاف تحریک کا دائرہ وسیع ہونے کے ساتھ اس میں شدت بھی آئی ہے-

اس امر کا اندازہ جلسہ میں مقررین کے لب و لہجے سے بھی ہوتا ہے- جلسے میں تمام مقررین نے فوج پر شدید تنقید کی - اور ماضی کے کئی بحرانوں اور نا خوشگوار واقعات کے لئے اسے ذمہ دار ٹھہرایا- مقررین نے کہا کہ اگر زبردستی ایسے منصوبے تعمیر کئے گئے تو لڑائی کی جائے گی-

سندھ سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں نے کہا کہ تھل کینال اور کالاباغ ڈیم کے خلاف یہ تحریک پاکستان کو بچانے کی تحریک ہے-

عوامی نیشنل پارٹی کے اسفند یار ولی نے کہا اب یا تو وفاق رہے گا یا کالا باغ ڈیم بنے گا - انہوں نے کہا کہ حکمران بند کمروں میں بیٹھ کر ڈیم بنانے کی باتیں کر رہے ہیں - ان میں ہمت ہے تو چوک پر کھڑے ہو کر اس طرح سے ڈیم بنانے کا اعلان کریں جس طرح ہم اس کی مخالفت کر رہے ہیں-

سندھ پیپلز پارٹی کے صدر اور ایکشن کمیٹی کے سربراہ نثار کھڑو نے کہا کہ قومی سلامتی اور صوبائی ہم آہنگی کے لئے ضروری ہے کہ متنازع منصوبے نہ بنائے جائیں-

سندھ مکمل طور پر تھل کینال اور کالاباغ ڈیم کو مسترد کر چکا ہے- لہذا ان کی تعمیر روک دی جائے-

جلسے سے بلوچ رہنماوں ڈاکٹر حئی بلوچ - حبیب جالب - پختونخواہ عوامی ملی پارٹی کے اکرم شاہ - سرائیکی رہنما عبدالمجید کانجو - جمیعت علمائے اسلام کے ڈاکٹر خالد محمود سومرو- جماعت اسلامی کے مولانا اسد اللہ بھٹو - مسلم لیگ (ن) کے افضل گجر- سندھ ترقی پسند پارٹی کے ڈاکٹر قادر مگسی - سندھ نیشنل !فرنٹ کے گل محمد جکھرانی نے خطاب کیا-

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد