BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Monday, 31 May, 2004, 18:05 GMT 23:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی: امام بارگاہ پر حملہ
آخر اس مسئلے کا حل کیا ہے؟
آخر اس مسئلے کا حل کیا ہے؟
کراچی میں محمد علی جناح روڈ پر واقع امام بارگاہ علی رضا میں مغرب کی نماز کے وقت ایک حملے میں کئی افراد ہلاک اور درجنوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ کئی زخمیوں کی حالت خطرناک بتائی جاتی ہے۔

حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر اطلاعات نے کہا کہ اگر کراچی میں فرقہ واریت ختم نہ ہوئی تو صدر جنرل مشرف سخت اقدامات کریں گے۔ تاہم انہوں نے ان اقدامات کی وضاحت نہیں کی۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل ایک عالم مفتی نظام الدین شامزئی کے قتل کے بعد شہر میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیئے گئے تھے۔ حکام کے مطابق یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کے امام بارگاہ پر اس تازہ ترین حملے اور مفتی شامزئی کے قتل کا آپس میں کوئی تعلق تھا۔

آپ کی رائے میں کیا یہ فرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوشش ہے؟ اس حملے کا ذمہ دار کون ہوسکتا ہے؟ کیا اس میں حکومت کی غفلت کا ہاتھ ہے؟ اگر آپ یا آپ کے خاندان کے لوگ کراچی میں رہتے ہیں تو آپ نے ان دو دنوں میں کیا محسوس کیا؟ آخر اس مسئلے کا حل کیا ہے؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں


حنا وحید لاشاری، کراچی، پاکستان: میں خود ایک سنی مسلمان ہوں لیکن پاکستان جیسی اسلامی مملکت میں کسی بھی مسلمان کے ساتھ زیادتی ہو، یہ مجھے کیا کسی بھی حق پرست شخص کو ناگوار گزرے گا۔ میں اس واقعے کی شدید مذمت کرتی ہوں اور حکومت سے التجا کرتی ہوں کہ وہ ہمارے شیعہ بھائیوں کے ساتھ نہ خود یہ زیادتی کریں اور نہ کسی اور کو کرنے دیں۔

عائشہ احمد، کراچی، پاکستان: اس کی تمام تر دمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے اور اسے اس پر سختی سے قابو پانا چاہئے۔

سید سبطِ حسن نقوی، لاہور، پاکستان: کیا مرنے کے لئے صرف شیعہ ہی بچے ہیں؟

محمد شاہ، لندن، برطانیہ: لوگ اندھا دھند الزام علمء پر ڈال دیتے ہیں حالانکہ میں نے آج تک کسی عالم کو ایک دوسرے کو مارنے کا بیان دیتے نہیں سنا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ان کے پاس طاقت ہی نہیں۔ یہ سب سی آئی اے اور را کا کیا دھرا ہے۔

سمیرا رضا نقوی، کراچی، پاکستان: حکومت کو اس سلسلے میں فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ کون لوگ ہیں جو ایک ہی فرقے کے بےگناہ لوگوں کو مار رہے ہیں؟

وانا سے توجہ ہٹانے کے لئے؟
 ہوسکتا ہے کہ یہ اس لئے کیا جارہا ہو کہ وانا کی طرف سے توجہ ہٹ جائے۔
جسیم خان آفریدی، کوہاٹ

جسیم خان آفریدی، کوہاٹ، پاکستان: اس مسئلے کا عارضی حل تو یہ ہے کہ مشرف افغانستان کی پالیسی اور وانا کے آپریشن میں تبدیلی لائیں۔ ہوسکتا ہے کہ یہ اس لئے کیا جارہا ہو کہ وانا کی طرف سے توجہ ہٹ جائے۔

راحیل قمر تارڑ، اسلام آباد، پاکستان: یہ لاتوں کے بھوت ہیں باتوں سے نہیں مانیں گے۔ اس سب کو ختم کرنے کے لئے جنرل نصیراللہ بابر کی ضرورت ہے۔

سیدہ مسکان حسن نقوی، کراچی، پاکستان: یہ جو روز دھماکے ہو رہے ہیں یہ ایک منصوبہ بندی کے تحت ہورہے ہیں۔ آخر صرف شیعوں کو ہی کیوں مارا جا رہا ہے، کبھی اس امام بارگاہ میں، کبھی اس امام بارگاہ میں۔ وہ ایک ایک شیعہ کو چن چن کر بھی مار دیں تو شیعہ ختم نہیں ہوں گے، قیامت ضرور آجائے گی۔

شاہد مرزا، کراچی، پاکستان: کیا ہم نے پاکستان اسی لئے بنایا تھا؟ کیا یہی اسلام ہے؟

ام البنین، کوئٹہ، پاکستان: یہ ہمیں امریکہ کا اتحادی ہونے کا صلہ مل رہا ہے۔ آج دوست بنایا ہے، کل کو اقتدار بھی سنبھال لیں گے۔

جمال شاہ، ٹورنٹو، پاکستان: اگر پاکستان کو بچانا ہے تو ملائیت کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا۔ اس نے آج تک فرقہ واریت کو ہوا دینے کے علاوہ کیا ہی کیا ہے۔ انہوں نے پوری دنیا میں پاکستان کو بدنام کر رکھا ہے۔

تانیا علی، نیویارک، امریکہ: ذرائع ابلاغ میں امریکہ اور یورپ جب بھی مسلمانوں کی بات کرتے ہیں تو انہیں فرقوں میں تقسیم کردیتے ہیں۔ وہ عیسائیوں کی بات کرتے ہوئے ایسا کیوں نہیں کرتے؟ وہ ہم پر حاوی رہنے کے لئے ہمیں تقسیم کرتے ہیں اور انہوں نے ہمارے حکمرانوں کو اس مقصد کے لئے رکھا ہوا ہے۔

وقار احمد، پشاور یونیورسٹی، پاکستان: یہ مفتی شام زیی کے قتل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے کیا گیا ہے۔

نائلہ علی، کراچی، پاکستان: گورنر کو فوراً مستعفی ہوجانا چاہئے۔ کراچی میں امن وآمان قائم رکھنا گورنر سندھ اور صدر کی ذمہ داری ہے۔

موشے عامر، امریکہ: باقی دنیا کو مسلمانوں کو چھوڑ دینا چاہئے کیونکہ یہ خود ایک دوسرے کو ختم کر دیں گے۔

ہر طرف آگ اور اندھیرا
 ہر طرف آگ اور اندھیرا تھا۔ کوئی بھی راستہ نہیں تھا کہ میں اپنے گھر تک جا سکتی۔
انیلا محمود، کراچی، پاکستان

انیلا محمود، کراچی، پاکستان: میں کراچی میں ہی رہتی ہوں۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے گھر واپس آتے ہوئے جس ذہنی اذیت سے میں گزری ہوں، وہ میں ہی جانتی ہوں۔ ہر طرف آگ اور اندھیرا تھا۔ کوئی بھی راستہ نہیں تھا کہ میں اپنے گھر تک جا سکتی۔ میں اکیلی عورت ڈرائیو کرکے جب گھر پہنچی تو سب پریشان بیٹھے رو رہے تھے۔ یہ وہ اذیت ہے جو مجھ جیسے ہزاروں خاندان ادھر رات دن اٹھاتے ہیں۔

سیف حسینی، کراچی، پاکستان: میرے خیال میں اگر سینیئر پولیس افسران کو گرفتار کرکے پوچھ گچھ کی جائے تو سب سامنے آسکتا ہے۔ جامعہ بنوری کے سامنے ہر وقت پولیس موبائل موجود ہوتی ہے۔ آئی جی صاحب کل کہہ رہے تھے کہ انتظامات سخت ہیں۔ غالباً وہ ان ہی انتظامات کی بات کر رہے تھے۔ شیعہ اور سنی مل کر ملاؤں کی سطح پر کام کریں۔ کسی کو سیاسی دوکان داری نہ چمکانے دیں۔

یاسر سید احمد، کراچی، پاکستان: اس دہشت گردی کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے جس نے شیعہ اور سنی کو قریب لانے کے لئے کبھی کویی اقدامات نہیں کئے اور کبھی عوامی اجتماعات میں ایک مسلک کے عالم کی دوسرے مسلک کو برا بھلا کہنے پر پابندی نہیں لگائی۔

دانش مصطفیٰ، پاکستان: اس میں یا تو ایجنسیاں ملوث ہیں یا انتہا پسند جن کے گرد گھیرا تنگ ہورہا ہے۔

نذیر احمد شیخ، حیدرآباد، پاکستان: ہر فوجی حکومت کی طرح یہ حکومت ہی یہ کروا رہی ہے۔ مشرف اور ان کے جرنلوں کو واپس سرحدوں پر بھیج دینا چاہئے جہاں سے بھاگ کر وہ آتے ہیں۔

نسیم بھٹی، ملتان، پاکستان: یہ شیعہ سنی فسادات نہیں، کچھ اور ہورہا ہے ورنہ صرف کراچی میں تو شیعہ سنی نہیں رہتے۔ کراچی پاکستان کا بڑا اور کاروباری شہر ہے، اس لیے یہاں یہ ہورہا ہے۔

صالح محمد، راوالپنڈی، پاکستان: اس مسئلے کا حل آپ فوج سے پوچھئے کہ فرقہ واریت جنرل ضیاء الحق کی پیداوار ہے۔ آئی ایس آئی سے پوچھئے جو جہادی گروہ بنانے میں سرگرم رہی ہے اور اب بھی ہے۔ پاکستان کے صدر سے پوچھئے جو کرسی نہ چھوڑنے کی ضد پر ڈٹے ہوئے ہیں اور ملک کا ستیا ناس کررہے ہیں۔

ہجرت پر مجبور
 پچھلے ہفتے حیدری مسجد پر ہونے والے حملے میں میرا بھائی بچ گیا۔ ملک کی غیر یقینی صورتِ حال اور خوف کا یہ عالم ہے کہ ہماری ذہنی اور کام کرنے کی صلاحیتیں سلب ہو کر رہ گئی ہیں۔ ہم کہیں ہجرت کر جانا چاہتے ہیں۔
ریاست علی گھمن، سرگودھا

ریاست علی گھمن، سرگودھا، پاکستان: امریکہ نے روس کے ساتھ جو جنگ لڑی تھی اس کے اثرات اب ہم بھگت رہے ہیں۔ انتہا پسندی ضیاء الحق صاحب کا قوم کو تحفہ ہے۔ پچھلے ہفتے حیدری مسجد پر ہونے والے حملے میں میرا بھائی بچ گیا۔ ملک کی غیر یقینی صورتِ حال اور خوف کا یہ عالم ہے کہ ہماری ذہنی اور کام کرنے کی صلاحیتیں سلب ہو کر رہ گئی ہیں۔ ہم کہیں ہجرت کر جانا چاہتے ہیں۔

غلام فرید شیخ، گمبت، پاکستان: ملک ایجنسیوں کو فعل کرنا ہوگا۔ یہ کوئی فرقہ وارانہ واقعہ نہیں بلکہ کچھ دہشت گرد لوگوں کو کھلی چھوٹ دینا ہے۔ اس کے حل کے لئے نصیراللہ بابر کو پھر کراچی بلانا پڑے گا۔

خاور بٹ، جرمنی: دونوں طرف کے انتہا پسندوں کو فوراً گرفتار کرکے ان پر مقدمہ چلایا جائے اور مذہبی رہنماؤں کو نفرت پھیلانے پر سخت سزا دی جائے۔

محمد نشاط کھوسو، نواب شاہ، پاکستان: حکومت ابھی تک سخت اقدامات کرنے کا سوچ رہی ہے۔ ابھی کتنے اور مرنے کے بعد سخت اقدامات ہوں گے؟

نعیم میمن، امریکہ: اگر کسی کا خیال ہے کہ وہ اس طرح اسلام کی خدمت کر رہے ہیں تو انہیں یاد کرنا چاہئے کہ فتخِ مکہ کے بعد رسول نے اس عورت کو بھی معاف کردیا تھا جو نہ صرف ان کے چچا کی موت بلکہ ان کا لاش کی بے حرمتی کی بھی ذمہ دار تھی۔ کیا یہ اسی رسول کی امت ہیں؟

اجمل یوسف زئی، کراچی، پاکستان: جی ہاں یہ فرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوشش ہے اور اس میں حکومت ہی کی غفلت کا ہاتھ ہے۔ خفیہ ادارے کیا سوئے ہوئے ہیں؟ ہم کراچی میں رہتے ہیں، یوں لگتا ہے کہ یہ حکومت، لینڈ مافیا اور لوگوں کو باہر بھیجنے والی مافیا کی ملی بھگت سے ہو رہا ہے۔ جیسے ہی رینجرز اور پولیس کی کارکردگی پر بات ہونے لگتی ہے، یہ سب شروع ہوجاتا ہے۔

عاصم سید، برطانیہ: لگتا ہے کہ ایجنسیاں منتخب حکومت کو کمزور کرنے اور شہر کا امن و امان تباہ کرنے کے لئے سرگرم ہوچکی ہیں۔ مذہبی اور انتہا پسند جماعتوں کو مکمل طور پر ختم کیا جائے جن کے ذریعے ایجنسیاں مدہب کو استعمال کرتے ہوئے سندھ کا امن اور کراچی کا اتحاد تباہ کرتی ہیں۔ میری اس فورم میں حصہ لینے والے تمام حضرات سے درخواست ہے کہ وہ پاکستان اور خصوصاً کراچی میں اپنے احباب و رشتہ داروں سے رابطہ کرکے انہیں متحد اور پرسکون رہنے کی تلقین کریں۔

ورنہ شاید کچھ نہ بچے
 جتنی بھی انتہا پسند تنظیمیں ہیں، وہ بےلگام ہوچکی ہیں۔ اگر انہیں حکومت نے اب لگام نہ دی تو پھر شاید پچھتانے کے سوا کچھ نہ بچے۔
فدا خان، کراچی، پاکستان

فدا خان، کراچی، پاکستان: یہ کراچی کے حالات خراب کرنے کی سازش ہے۔ کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ یہاں سرمایہ کاری ہو اور پاکستان کی معاشی حالت مضبوط ہو۔ جتنی بھی انتہا پسند تنظیمیں ہیں، وہ بےلگام ہوچکی ہیں۔ اگر انہیں حکومت نے اب لگام نہ دی تو پھر شاید پچھتانے کے سوا کچھ نہ بچے۔

اویس، کراچی، پاکستان: اس کو شیعہ سنی رنگ دینے کی کوشش ضرور کی گئی ہے لیکن میرے خیال میں حکومت خود ملوث ہے اور اگر واقعی ایسا ہے تو ہمیں پھر کسی بہت مختلف چیز کے ہونے کی تیاری کرنی چاہئے۔

نعیم، متحدہ عرب امارات: اس مسئلے کا کوئی حل نہیں ہوتا جسے خود بنایا جائے۔ کسی بھی فرقے سے تعلق رکھنے والا مسلمان یوں قتل کا نہیں سوچتا۔ یہ سب ایجنسیوں کا کیا دھرا ہے۔ یہ انتہائی اسان طریقہ ہے عوام کو مصروف رکھنے کا۔

شبر نقوی، مانچیسٹر، برطانیہ: اس کے ذمہ دار عناصر پر اس لئے بھی قابو پانا مشکل ہے کہ حکومتی ایجنسیاں ماضی میں ان ہی کو استعمال کرتی رہی ہیں اور اعلیٰ افسران کے ان سے تعلقات ہیں۔ جو لوگ سی فور قسم کا دھماکہ خیز مواد استعمال کرتے ہیں وہ عام لوگ نہیں ہوتے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مشرف حکومت اس سلسلے کو ختم کرنے کے لئے ایک بڑا آپریشن شروع کرے۔

عبدالرزاق قریشی، امریکہ: لوگوں کو مذہبی رواداری، ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور احترام رہنے اور کسی سے نفرت نہ کرنے اور سچے اسلام کی تعلیمات دینے کی ضرورت ہے۔

شبیر جعفری، امریکہ: بس اب قیامت آجانی چاہئے۔

اے رضا، متحدہ عرب امارات: پاکستانیوں نے ثابت کردیا ہے کہ وہ اپنے ملک کو خود نہیں چلا سکتے۔ چونکہ برطانوی راج اب واپس لانا ناممکن ہے کہ جس میں لوگ امن سے رہ سکیں، اس لئے ملک کسی غیر ملک کی طاقت کے حوالے کردینا چاہئے جو امن وآمان کی ذمہ داری لے سکے اور عام آدمی سکھ کا سانس لے۔ ایسی خود مختاری کا کیا فائدہ جس میں صدر تک کی جان محفوظ نہیں۔

مشیرووزیر دھر لئے جائیں گے
 اس کے لئے قانون و انصاف کی بالا دستی ضروری ہے، جس پر کوئی بھی تیار نہیں کیونکہ پھر سب مشیرووزیر دھر لئے جائیں گے۔
نذیر احمد شیخ، حیدرآباد

نذیر احمد شیخ، حیدرآباد، پاکستان: اس کے لئے قانون و انصاف کی بالا دستی ضروری ہے، جس پر کوئی بھی تیار نہیں کیونکہ پھر سب مشیرووزیر دھر لئے جائیں گے۔ ایک حدیثِ نبوی ہے جس کا مفہوم ہے کہ جب انصاف ختم ہوجائے گا تو قتلِ عام ہوگا۔

صدیق کامران، فیصل آباد، پاکستان: ایک اور شرمناک دن

احمد علی، امریکہ: مشرف کو مستعفی ہوجانا چاہئے اور ملک میں آزاد منصفانہ انتخابات ہونے چاہئیں۔ ہم اس طرح کے واقعات صرف اسی صورت میں روک سکتے ہیں کہ ملک میں حقیقی جمہوریت ہو۔

عبداللہ، گلشن، کراچی، پاکستان: ظاہر ہے کہ انتظامیہ کی ناکامی۔ پنجاب بھی تو ہے وہاں تو کچھ نہیں ہوتا۔

عمر آفتاب، برطانیہ: بےشک ہمارے ملک میں جاہلوں کی کویی کمی نہیں، اللہ انہیں راہِ ہدایت دے

احمد رضا، لاس اینجلس، امریکہ: یہ کسی نے باہر سے آکر کیا ہے کیونکہ کراچی کے لوگوں کے لئے فکر کرنے کے اور مسئلے بہت ہیں بجائے اس کے کہ وہ سوچتے رہیں کہ کون سنی ہے اور کون شیعہ۔ باقی شیخ رشید جیسے لوگ تو صرف باتیں ہی کرتے ہیں۔

سید رضوی، کینیڈا: افسوس کی بات ہے کہ مغربی ذرائع ابلاغ اور بی بی سی اسے شیعہ سنی جھگڑا کہتے ہیں جبکہ پاکستان میں ایسا کوئی جھگرا نہیں ہے۔ پاکستان میں وہابی سنی اور وہابی شیعہ لڑائی ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ اسلام کے نام پر انہوں نے کیا کیا ہے اور اب یہ آگ سعودی عرب تک بھی پہنچ چکی ہے۔

ڈکٹیشن
 ہم ہر سطح پر ’ڈکٹیشن‘ لیتے ہیں، حکومت امریکہ سے، شیعہ ایران سے اور سنی سعودیہ سے۔
ایم اے خان، ٹورنٹو، کنیڈا

ایم اے خان، ٹورنٹو، کنیڈا: پاکستانیوں کو اپنے مسائل کے حل کے لئے خود پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ ہم ہر سطح پر ’ڈکٹیشن‘ لیتے ہیں، حکومت امریکہ سے، شیعہ ایران سے اور سنی سعودیہ سے۔ امریکی پالیسیوں نے اسلامی ممالک میں دھڑے بندی کو فروغ دیا ہے۔ لگتا ہے کہ ایک بڑا ہنگامہ ہوگا اور کافی لوگ مارے جائیں گے۔

محمد عابد، کینیڈا: یہ شیعہ سنی لڑائی نہیں ہے، کوئی مسلمان ایسا نہیں کر سکتا۔

قیصر، بیجنگ، چین: اس مسئلے کا حل صرف اور صرف ملائیت کا خاتمہ ہے، اگر یہ ہوجائے تو کوئی بھی ایسا واقعہ نہیں ہوگا۔

عبدالرحمان، پیرس، فرانس: کیا کہہ سکتے ہیں؟ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ وزیرِ داخلہ اور گورنر سندھ کو فوراً مستعفی ہوجانا چاہئے۔ اس واقعے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئے اور ذمہ دار افراد کو بے نقاب کیا جانا چاہئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد